0

غصہ : نفس کی آگ یا دین کی غیرت تحریر/ ام عبدالرحمن

غصہ : نفس کی آگ یا دین کی غیرت
تحریر/ ام عبدالرحمن

آج کا دور طاقت اور ہتھیاروں کا دور ہے۔ دنیا کی قومیں اپنی بقا کے لیے ایٹم بم جیسے مہلک ہتھیاروں پر انحصار کرتی ہیں، مگر تاریخ نے بارہا یہ سچ ثابت کیا ہے کہ جب طاقت تکبر، ضد اور انتقام کے ساتھ استعمال ہو، تو وہ خود اپنی بنیادیں کھو دیتی ہے۔ یہی کیفیت انسانی غصے کی ہے۔

اگر غصہ صبر، حکمت اور توازن کے بغیر ظاہر ہو تو وہ بھی ایک ایٹم بم کی مانند ہوتا ہے—اچانک بھڑک اٹھتا ہے اور اردگرد کے ماحول کو راکھ کر دیتا ہے۔ جیسے ایٹمی جنگ میں شہر مٹ جاتے ہیں، ویسے ہی بے قابو غصہ عزت، محبت، بھروسہ اور رشتوں کو مٹا دیتا ہے۔ اس کا نقصان صرف غصہ کرنے والے کو نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر اُس کے گھر، ماحول اور پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔

غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے، مگر اکثر یہ جس صورت میں ہمیں دکھائی دیتا ہے وہ منفی اور بے قابو ہوتا ہے۔ کبھی خواہشات کے پورا نہ ہونے پر، کبھی انا کو ٹھیس لگنے پر، تو کبھی حسد، خوف، بھوک یا تھکن جیسے اسباب سے یہ آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ بعض اوقات انسان اندرونی دباؤ اور ناانصافیوں کے نتیجے میں بھی غصے کا شکار ہو جاتا ہے۔ مگر اگر ان تمام اسباب پر غور کیا جائے تو اصل جڑ دو ہی چیزیں ہیں: نفس کی پیروی اور صبر کی کمی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غصہ بذاتِ خود برا نہیں بلکہ انسان کا ایک قدرتی دفاعی ردِعمل ہے۔ یہ اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان اپنے کسی حق، ضرورت یا عزتِ نفس کے خلاف کوئی رکاوٹ، بے انصافی یا نقصان محسوس کرتا ہے۔ لیکن یہ جذبہ خطرناک تب بنتا ہے جب انسان اسے کنٹرول کرنے کے بجائے خود اس کے کنٹرول میں آ جائے۔ اس وقت یہ غصہ صرف ایک ردِعمل نہیں رہتا بلکہ تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

اسلام نے غصے کو فطری مانا ہے، حرام نہیں قرار دیا، لیکن اس پر قابو نہ پانا یا غصے کی حالت میں اللہ کی نافرمانی کرنا سخت گناہ ہے۔ دین ہمیں صبر، تحمل اور برداشت کی تلقین کرتا ہے۔ غصے کو بے لگام چھوڑنا شیطان کے اثر میں آ کر اپنے نفس کے ہاتھوں ذلیل ہونا ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے: “محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں اور آپس میں نہایت رحم دل ہیں” (الفتح: 29)۔
اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ مؤمن کا غصہ ذاتی جذبات کے لیے نہیں بلکہ دین کی حرمت اور عدل کے قیام کے لیے ہونا چاہیے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق غصہ دو طرح کا ہوتا ہے: ایک محمود، دوسرا مذموم۔
محمود غصہ وہ ہے جو حق کی سربلندی، عدل کے قیام اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے ہو۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں ہمیں کئی مواقع پر ایسا غصہ نظر آتا ہے جو محض ذاتی جذبات کے لیے نہیں بلکہ دین کی حرمت اور شرعی حدود کے تحفظ کے لیے تھا۔

حضرت معاذ بن جبلؓ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ میں سے تھے اور قرآن کریم کے حافظ و عالم تھے۔ ایک بار انہوں نے عشاء کی نماز میں سورۂ بقرہ کی طویل تلاوت کی۔ جماعت میں ایک شخص کھڑا تھا جو دن بھر محنت مزدوری کرنے کے بعد آیا تھا۔ وہ اتنی لمبی قراءت برداشت نہ کر سکا اور نماز توڑ کر علیحدہ نماز پڑھ لی۔
جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا:
“اَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟”
(اے معاذ! کیا تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالنے والے ہو؟)
مقصد یہ بتانا تھا کہ عبادت میں آسانی اور اعتدال اختیار کیا جائے۔ دین کا مقصود لوگوں کو سکون اور قربِ الٰہی عطا کرنا ہے، نہ کہ مشقت اور بوجھ ڈالنا۔

اسی طرح جب حضرت عائشہؓ کے گھر میں تصویر والا پردہ دیکھا، تو آپ ﷺ نے ناپسندیدگی ظاہر کی کیونکہ وہ شریعت کے مزاج کے خلاف تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ فتح مکہ کے موقع پر چوری کرنے والی عورت کی سفارش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟” اس طرح آپ کا ہر غصہ اصول، عدل اور امت کی اصلاح سے جڑا ہوا تھا، نہ کہ ذاتی رنجش سے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
“رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، مگر جب اللہ کی حدود پامال کی جاتیں تو پھر آپ ﷺ اس کے لیے سب سے زیادہ غضبناک ہوتے۔” (صحیح بخاری 3560، صحیح مسلم 2327)

حضرت ابوبکر صدیقؓ، جو کہ بہت نرم مزاج اور تحمل پسند شخصیت کے مالک تھے، نے اپنے دور خلافت میں زکوٰۃ نہ دینے والے قبائل کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا، حالانکہ بظاہر قوم کمزور تھی۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ زکوٰۃ دین کا ایک ستون ہے اور اس کے بغیر دین مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان سب مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ جب غصہ اللہ کے دین، عدل اور اصلاح کے لیے ہو، تو وہ دراصل ایک دینی غیرت بن جاتا ہے جو امت کو بیدار رکھنے اور اسکی بقا کیلئے ضروری ہے۔

اس کے برعکس مذموم غصہ وہ ہے جو صرف انا، ضد اور ذاتی مفاد کے لیے ہو۔ یہ غصہ ایٹم بم سے بھی خطرناک ہے کیونکہ یہ نہ صرف رشتے بگاڑتا ہے بلکہ انسان کے باطن کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔
قرآن و حدیث میں بارہا ہمیں اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس بارے میں نمایاں اصول بیان کئے گئے ہیں ۔ قرآن میں ارشاد ہے : “برائی کو بھلائی سے دفع کرو، اس سے وہ دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا” (فصلت: 34)۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “غصہ نہ کرو” (بخاری: 6116)، اور ایک اور جگہ فرمایا: “حقیقی طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں غالب آ جائے، بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے” (بخاری و مسلم)۔

اسی حقیقت اور تعلیم کا عملی جامہ حضرت علیؓ کا واقعہ، جب ایک دشمن نے جنگ کے دوران آپؓ کے چہرے پر تھوکا۔ آپؓ فوراً پیچھے ہٹ کر اُسے قتل کرنے سے رک گئے۔ آپؓ نے فرمایا:
“میں تمہیں اللہ کے لیے قتل کر رہا تھا، لیکن جب تم نے میرے چہرے پر تھوکا تو مجھے ذاتی غصہ آ گیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا عمل اخلاص سے خالی ہو جائے، اس لیے خود کو روکا۔”۔۔۔۔ یہ عمل سکھاتا ہے کہ جب غصہ نفس کے لیے ہو تو اُسے روک لینا ہی ایمان کی علامت ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھڑک اٹھتے ہیں—گھریلو جھگڑوں میں، سیاسی اختلافات میں، سوشل میڈیا کی بحثوں میں، حتیٰ کہ معمولی ٹریفک کے مسئلے پر بھی۔ ہمارا غصہ ذاتی ہو گیا ہے، وقتی جذبات اور انا سے جڑا ہوا۔ لیکن جب دین کی توہین ہوتی ہے، عدل پامال ہوتا ہے، مظلوم چیختے ہیں، یا امت پر حملے ہوتے ہیں، تو ہم خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ یہ وہ غفلت ہے جو ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا: “تم بہت ہو گے مگر سیلاب کے جھاگ کی طرح بے اثر ہو گے، کیونکہ تمہارے دلوں میں وہن آ جائے گا۔” جب پوچھا گیا: وہن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔” (ابوداود: 4297)۔
ہماری حالت یہی ہے۔ ہم تعداد میں اربوں ہیں، مگر اثر میں کمزور، کیونکہ ہمارا غصہ غلط جگہ پر استعمال ہو رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے جذبات کو ذات سے ہٹا کر امت، حق اور عدل کے لیے استعمال کریں۔ تبھی ہم اپنا کھویا ہوا وقار واپس لا سکیں گے۔

عملی تجاویز برائے جذبات کا مثبت استعمال:
1. غصے کے وقت خاموشی، وضو اور جگہ بدلنے کی سنت کو اپنائیں۔
2. اپنے ردِعمل سے پہلے یہ سوچیں: “کیا یہ اللہ کی رضا کے لیے ہے یا میرے نفس کے لیے؟”
3. دینی علم اور سیرتِ نبویؐ سے جذبات کی رہنمائی حاصل کریں۔
4۔ توانائی کو مثبت راستوں پر لگائیں—ورزش، ذکر، علم یا اچھے کام۔ یہ غصے کی آگ کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔
5. سوشل میڈیا اور گفتگو میں اصلاح و خیرخواہی کو ترجیح دیں، نہ کہ جذباتی جھگڑوں کو۔
6. ظلم، ناانصافی اور دین کی توہین پر غیرت کے ساتھ، مگر حکمت سے کھڑے ہوں۔
7. دعا، استغفار اور ذکر الہی کو اپنا ہتھیار بنائیں اور دلوں کے زنگ کو دور کریں

آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے غصے کو بے قابو ایٹم بم بنانے کے بجائے صبر، برداشت اور حکمت کی ڈھال بنائیں۔ دوسروں کو معاف کرنا اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھیں، کیونکہ معافی دل کو ہلکا کرتی ہے اور روح کو آزاد۔۔۔۔
لیکن جب وقت آئے کہ دین پامال ہو رہا ہو، امت پر ظلم ہو رہا ہو، تو یہی جذبہ ہمیں حق کے دفاع میں جھونک دے۔ کیونکہ اگر ہم خاموش تماشائی بنے رہے تو یہ خاموشی ہماری اور ہماری نسلوں کی بربادی کا پیش خیمہ ہو گی ۔ اگر آج ہم خود کو بدل لیں تو انشاءاللہ کل کو امت کی حالت بھی بدل سکتی ہے۔

“اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے، ہمارے قدم جما دے، اور ہمیں کفار کے مقابلے میں مدد عطا فرما۔ (سورۃ البقرہ: 250)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں