
محمد عبداللہ ( مریدوالا )
متعلم البیان اکیڈمی آن لائن
تحفظ ختم نبوت اہمیت و ضرورت:
دین اسلام کے بنیادی عقائد میں سے اہم ترین عقیدہ عقیده ختم نبوت ہے۔ جو پورے دین اسلام کی روح ہے جسے روح کے بغیر جسم کی کوئی حیثیت نہیں ایسے ہی عقیدہ نبوت کے بغیر کسی عمل کی کوئی اہمیت نہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم وجہ تخلیق کائنات ہیں اس کائنات کا مرکز و محور ہیں اولین و آخرین کے سردار ہیں آقا دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے آپ صلی علیہ و سلم نے تیس جھوٹے دجالوں، کذابوں سے امت کو خبر دار فرمایا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ انہیں کذابوں، دجالوں کے ناپاک سلسلہ کا ایک فرد مسیلمہ کذاب اعظم مرزا غلام احمد قادیانی ملعون ہے جس نے اپنے انگریز آقا کا وفادار ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے نہ صرف جہاد کو حرام قرار دیا بلکہ مغربی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کئی باطل دعوے کئے۔ کبھی مجدد مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، کبھی نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور کبھی خدا ہونے کا اس ملعون نے سلام کے متواری ایک نیا خود ساختہ دین پیش کیا۔ غلیظ نظریات، کفریہ عقائد پیش کیے، قرآن پاک میں تحریفات کیں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بگاڑا جب اس پر بھی اس کمینے کا دل نہ بھرا تو انبیاء کرام، اہل بیت و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اکابرین امت رحمہم اللہ تعالیٰ کی توہین و گستاخیاں کیں العیاذ بااللہ۔ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا کوئی درجہِ انسانیت سے اتنا بھی گر سکتا ہے۔
قادیانیت کیا ہے؟
قادیانیت اسلام کے خلاف ایک ناسور ہے جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوگ مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور ان کو مرتد بنا دیتے ہیں۔ ان تمام مقام کے حصول کے لیے قادیانی اربوں روپے پانی کی طرح بہار ہے ہیں۔ ہر مرزائی اپنی آمدنی کا تقریباً دس فیصد اپنے مرکز میں جمع کرواتا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں یہ دراصل مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کے پیروکار ہیں اور یہ مرزائی اور قادیانی کہلاتے ہیں ۔ اس لیے یہ صرف غیر مسلم نہیں بلکہ زندیق ہیں اس لیے کہ یہ اپنے غیر اسلامی عقائد کو اسلام کا نام دیتے ہیں اور اپنے کفریہ عقائد پر اسلام کا مطلع کرتے ہیں ایسے لوگ اسلام اور بغیر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ہیں اور ان کا وجود اسلامی معاشرے میں کسی کینسر سے کم نہیں اس لیے اسلامی شریعت اور قانون کی رو سے ان سے مکمل بائیکاٹ اور قطع تعلق واجب ہے۔ ان کے ساتھ میل جول کرنا، تعلقات رکھنا، ان کے ساتھ لین دین کرنا اور کھانا پینا قطعاً حرام ہے جو لوگ ان کے ساتھ میل ملاپ کا تعلق رکھتے ہیں، وہ اپنے آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایذا کا باعث بنتے ہیں ایسے لوگوں کو کل قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔
ذرا دیکھیئے! کہ ہمارے معاشرے میں کوئی شخص بھی اپنے ماں باپ کے دشمن کے ساتھ تعلقات رکھنے کو، لین دین کرنے کو اور کھانے پینے کو گوارہ نہیں کرتا تو وہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں، باغیوں اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی توہین کرنے والے کے ساتھ تعلقات، میل جول اور لین دین کیوں رکھتا ہے؟ قادیانیوں کا معاملہ دوسرے کافروں سے مختلف ہے اس لیے کہ یہ اپنے کفریہ عقائد ہر اسلام کا ملمع کرتے ہیں اس لیے ان سے مسلمانوں کے دین اور ایمان کے ختم ہونے کا شدید اندیشہ ہے لہذا ان سے سلام کلام، میل ملاپ، خرید وفروخت کرنا اور تعلقات رکھنا ناجائز اور حرام ہیں۔
قادیانیوں کے خلاف پہلا فتویٰ:
مرز غلام احمد قادیانی نے اب پرزے نکالے اور جماعت سازی کے لیے اب ۱۳۰۱ ہجری مطابق 114 ء میں کو لدھیانہ آیا تو مولانا محمد لدھیانوی، مولانا عبداللہ لدھیانوی اور مولانا محمد اسماعیل لدھیانوی نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مجدد نہیں بلکہ زندیق اور ملحد ہے۔
زندیق کیا ہے؟
جو شخص اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرے اس کو مرتد کہتے ہیں مگر چونکہ قادیانی اپنے آپ کو کفر پر ہونے کے باوجود اسلام کا نام دیتے ہیں اس لیے یہ کوئی عام کافر نہیں بلکہ زندیق ہیں۔ پر کافر مشرک اور مرتد کی توبہ قبول ہو جاتی ہے مگر زندیق ایسی گندی قوم بے کہ ان کی توبہ ناقابل قبول ہے اس لیے قادیانی زندیق ہیں اور زندیق تمام کافروں سے بدتر ہیں لہذا ان بدترین کافروں سے اپنے آپ کو اور عام مسلمانوں کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
دوسرا فتویٰ:
حالات نے انگڑائی لی بھر لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا 190 ء میں محمد حسین بٹالوی نے بھی مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ دیا۔ ہندوستان کے علماء حسب ضرورت اس کی ترید میں کوشش کرتے رہے چناچہ دارالعلوم دیوبند کے مدرس مولانا سہیل نے ١٢ صفر ١٣٣١ ہجری بمطابق ١٩١٤ءکو فتویٰ مرتب کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مرتد، زندیق، ملحد اور کافر ہے اور اس کے ماننے والوں سے اسلامی معاملہ کرنا شرعاً ہرگز درست نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مرزائیوں کو سلام نہ کریں، ان کا ذبیحہ نہ کھائیں، ان سے رشتہ ناتہ نہ کریں جس طرح یہود و نصارٰی اہل اسلام مذہب کے اعتبار سے علیحدہ رہتے ہیں اسی طرح اسی طرح مرزائیوں سے بھی علیحدہ رہیں۔ جس طرح سانپ اور بچھو سے پرہیز کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازم ہے۔ مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسے ہے جسے یہود و نصاری اور ہندو کے پیچھے نماز پڑھنا۔ مرزائی مسلمانوں کی مساجد میں نہیں آسکتے جو مرزائیوں کو مسلمانوں کی مساجد میں عبادت کرنے کی اجازت دیتا ہے ایسے ہے جسے کسی ہندو کو پوجا پاٹ کی اجازت دینا۔ مرزا غلام احمد قادیانی،قادیان( مشرقی پنجاب ہندوستان ) کا رہائشی تھا اس لیے اس کے پیروکار کو قادیانی یا فرقہ غلامیہ، بلکہ جماعت شیطانیہ ابلیسہ کہا جاتا ہے۔
آج کے دور میں قادیانیوں کا کردار:
آج بھی ہمارے معاشرے میں باغیان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گروہ پایا جاتا یہ جو نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے بلکہ اس ملعون حرام زاده، کانے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل سمجھتا ہے۔ ہمارے آج کے دور میں قادیانی گروہ کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے کاروباری ادارے اور ان کی بڑی بڑی فیکٹریاں، دو کانیں اور بہت سی کمپنیاں ہیں۔ جن کی کمائی گئی رقم سے وہ بہت سے مسلمانوں کے خلاف پروپے گنڈہ کرتے ہیں ان کو ان کے ایمان سے ہٹانے، دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مسلمانوں کو مرتد اور کافربنانے کے لیے اپنے اداروں سے حاصل ہونے والی رقم پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔ قرآن وسنت کی روشنی میں ان مرتدین اور دشمنان اسلام کا اقتضادی ومعاشرتی بائیکاٹ کرنا اپنے دین و ایمان اور جزبہ عشق و رسالت کو بچانے کے لیے نہ صرف جائز بلکہ اسلامی عدل و انصاف کے عین مطابق ہے۔
قادیانیوں کی مصنوعات :
قادیانیوں کی جو کمپنی سب سے زیادہ چلتی ہے وہ شیزان کمپنی ہے شیزان قادیانیوں کا ملکیتی اور قادیانی جماعت کی بھرپور مالی معاونت کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کی مصنوعات جوس ، مربے، چٹنیاں ، جام، جیلی ، نمک اور دیگر بوتلیں وغیرہ پورے پاکستان میں دستیاب ہیں اور بیرون ممالک میں بھی جاتی ہیں۔ سوچنےکی بات تو یہ ہے یہ جو ادارہ ہے یہ ہماری ہی جیب سے چل رہا ہے شیزان کمپنی نے قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر کے لیے ریکارڈ قائم کیا پاکستان میں قادیانیوں کے سالانہ جلسے پر پابندی لگانے کی وجہ سے بہ جلسہ ملعونہ لندن میں منعقد ہوا اس جلد میں سب سے زیادہ مالی معاونت ( اس جلسے کا آدھا خرچا) شیزان کمپنی نے کیس اس کے علاؤہ بہت سی مصنوعات ہیں۔
مثلاً: شیزان ریسٹورنٹ اینڈ بیکرز، سلور سیون ریسٹورنٹ (تمام برانچز ) والٹیکس اسٹیلائزر ، یونیورسل سٹپلائز، تمام قائد اعظم لاء کالجز، Nets کالج، O C S کورئیر سروس، روی ٹریولز، سپیڈ انرجی ڈرنک، Pure جوس ، Twist جو سز میگنا ٹیکسٹائل انڈسٹریز لمیٹڈ، ( میگنا گروپ فیصل آباد) MTA کے تمام چینلز شاہ نواز ٹیکسائل، ماسٹر ٹیکسٹائل ملز، شاہ تاج شوگر ملز، رحمان کون مہندی کلفٹن شوز، ماسٹر بلیڈ، شان آٹا ، راجہ سوپ، کنگ بناسپتی یا کوکنگ آئل، مشمون کمپنی کی تمام مصنوعات، پرل بناسپتی، ذائقہ گھی ، ذائقہ کوکنگ آئل، پنجاب آئل ملز کی تمام پراڈکٹس، فلاور بناسپتی، اٹل تھرمو پلاسٹک، ٹڑیو پلاسٹک، الرحیم جیولرز، کراچی سونی سائیکل انڈسٹریز اور یوبی شوز وغیرہ یہ تمام قادیانیوں کی مصنوعات ہیں۔
قادیانیوں کی ادویات:
کیوریٹو ہومیو کمپنی، Lexo ہومیو کمپنی، FB ہو میو کمپنی،واسن ہومیو کمپنی، خورشید یونانی دواخانہ، مطب حمید دواخانہ، قاضی دواخانہ گوجرانوالا اور ڈاکٹر منصور پولی کلینک وغیرہ۔
قادیانیوں کی مصنوعات کی خرید و فروخت کرنے والوں سے گزارش ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہمارے ماں باپ، ہماری آل اولاد، ہماری جان سے بھی زیادہ ہے۔ ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم شیران اور دیگر قادیانی اداروں کا بائیکاٹ کریں اور دیگر مسلمانوں کو بھی اس پر تیار کریں۔ اے افراد ملت اسلامیہ! آج ہمارے معاشر ے میں ڈاکٹر شوگر کے مریض کو میٹھی چیز استعمال کرنے سے روکے تو وہ فوراً رک جاتا ہے، اگر بلڈ پریشر کے مریض کو نمک کے استعمال سے منع کرے تو وہ بھی اسی وقت رک جاتا ہے جان کی حفاظت کے لیے تو سب کچھ چھوڑا جا سکتا ہے لیکن کیا ایمان کی حفاظت کے لیے شیزان اور دیگر قادیانیوں کی کمپنیوں کو نہیں چھوڑ جا سکتا؟ ہمارے آج کل کے دور کے اندر جب بھی کسی دکاندار کو ان کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ مسلمان عام طور پر ایک سوال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب شیزان کا بائیکاٹ کرنے کو کہا جاتا ہے حالانکہ اس کے علاؤہ بہت سی چیزیں ہیں جو عیسائیوں اور یہودیوں کی بنی ہوئی ہیں ہم تو ان کو استعمال کرتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں سے بہت ہی محبت اور پیار سے گزارش کی جائے کہ ارے جناب فتنہ قادیانیت کو سمجھیں یہ ایسے کا فر میں جو خود بھی جھوٹے ہیں اور ان کا نبی بھی جھوٹا ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی اس بات کا اقرار کر تے ہیں کہ ہم یہودی عیسائی ہیں لہذا ہمارا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے لیکن قادیانی ایسے کافر ہیں جو خود کو کافر ہونے کے باوجود مسلمان کہلاتے ہیں اور مسلمان کو کافر، یہ صرف کافر نہیں بلکہ زندیق ہیں اسلامی شریعت میں عام اور سادہ کافر سے تو کسی حد تک لین دین کی اجازت ہے مگر زندیق اور مرتد ایسے کافر ہیں کہ ان سے کسی قسم کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اور لوگ اس بات پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ بائیکاٹ کرنا تو ظلم ہے اس میں بہت سے مسلمان کام کرتے میں اگر شیر ان کا بائیکاٹ کر دیا جائے تو یہ بیچارے ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔
قادیانی مسلمانوں کو ملازمت پر رکھ کر صرف ان کو اسلام کے خلاف استعمال کرتے ھیں جب ہم کسی دکاندار کو بائیکاٹ کا کہتے ہیں تو جیسے کیسے کر کے بھی بائیکاٹ کر دیتا ہے تو وہ قادیانی ان مسلمانوں کو دکانداروں کے پاس بھیجتے ہیں وہ ان کے پاس آ کر ان کی منت سماجت کرتے تھیں اور ان کو کہتے کہ اگر آپ نے سامان لینا بند کر دیا تو ہماری نوکریاں ختم ہو جائیں گیں۔ بات شیزان کی نہیں ہے بلکہ ہمارے دو وقت کی روٹی کی ہے ہمارے لیے شیران کی مصنوعات کو لے لو۔ دکاندار ان کی درد بھری باتیں حسن کر پھر دوبارہ سے شیزان کی مصنوعات خرید لیتا ہیں اور پھر سے قادیانی اپنے داؤ میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ چالاک قادیانی مسلمانوں کو مسلمان دکانداروں کا شکار کرنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں جسے مچھلیاں پکڑنے والا گوشت کا ٹکڑا کانٹے پر لگا کر دوسری مچھلیوں کا شکار کرتا ہے۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری نوکریاں ختم ہو جائیں گے حالانکہ ان کو یہ نہیں پتہ کہ رازق تو اللہ تعالیٰ ہیں شیران کمپنی میں کام کرنے والے اے مسلمان! اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے مردوں کے ہاں تیری ملازمت دنیا و آخرت میں باعث ندامت اور تیری غیرت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔اپنے اس رب پر بھروسہ رکھ جس نے تم کو پیدا کیا ہے شیران کی ایمان سوز نوکری کو لات مار یقینا اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔
اے شیزان کو پینے والے شہزاں کو پی کر اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ موت ہر وقت ہمارے ساتھ گھومتی ہے۔ عنقریب پر ہمیں اپنے بنچوں میں جکڑے لے گی اور ہم اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اس جہاں فاضی سے اس جہاں باقی میں پہنچ جائیں گے۔ اے آغوش دنیا میں مست مسلمان! ذرا سوچو اگر ہم نے صبح کے وقت شیزان کی بوتل پی اور دوپہر کے وقت مر گئے یا دو پہرے کو شیزان کی چٹنی کھائی اور شام کو جان کی بازی ہار گئے یا شام کو شیزان کا اچار کھایا اور رات کو لقمہ اجل بن گئے یا رات کو شیزان کی جیلی کھائی اور آدھی رات کو انتقال کر گئے تو ان تمام صورتوں میں شیزان ہمارے پیٹ میں ہوگی اور ہم قبر کے پیٹ میں جانے کے لیے تیار ہوں گے پھر جب ہمیں قبر کے پیٹ میں اتارا جائے گا اور منکرنکیر ہم سے سوال و جواب کے لیے آئیں گے تو ہمارے منہ سے اس وقت شیزان کی بو آ رہی ہوگی پھر قبر سے اٹھا کر جب میدان حشرا میں لایا جائے گا تو اس وقت بھی ہمارا منہ بدبو اگل رہا ہوگا ساقی کوثر صلی اللہ علیہ سلم کے حضور جب جام کوثر مانگنے جائیں گے تو اس وقت بھی ہمارا سر اس بدبو کی وجہ سے جھکا ہوا ہوگا جب ہمارے منہ سے دشمن رسول شیزان کی بد بو آرہی ہوگی تو ہم کس منہ سے شفاعت کا سوال کریں گے کس منہ سے جام کوثر طلب کریں گے؟ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور موت کسی کو مہلت نہیں دیتی زندگی کی چند گھڑیوں کو غنیمت جانو خوب غور و فکر کریں کیونکہ آمد عزرائیل کے بعد نہ سوچ سے کچھ ہوگا اور نہ فکر کا فائدہ۔ اے مسلمان ابھی بھی وقت ہے ورنہ گیا وقت دوبارہ نہیں آتا۔ آج سے ہم سب پکا ارادہ کریں کہ شیزان اور دیگر اداروں سے ہمارا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔