0

ایک نظر ادھر بھی /تحریر/ایمل صابر شاہ

ایک نظر ادھر بھی!/تحریر/ایمل صابر شاہ

دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد حرمینِ شریفین کی حفاظت میں سعودی افواج کے شانہ بہ شانہ پاکستانی افواج کا کھڑا رہنا بحیثیت مسلمان ہم سب کے لئے ایک خوش آئند اور اطمینان بخش خبر ہے۔ مگر ہم اس خوش خبری میں تقریباً یہ بات بھول گئے ہیں کہ یہ معاہدہ دوطرفہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ملک پاکستان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے گا تو سعودی حکومت بھی پاکستان کے دفاع میں شانہ بہ شانہ کھڑی ہو گی۔

یہ امر واضح ہے کہ سعودی فوج پاکستان جتنی مضبوط یا تربیت یافتہ نہیں، لہٰذا پاکستان پر کسی حملے کی صورت میں ممکنہ مشترکہ حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان عسکری طور پر اپنا دفاع خود یقینی بنائے، جبکہ سعودی عرب حملہ آور پر اقتصادی دباؤ ڈال کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے۔
البتہ
ایسا بھی نہیں کہ سعودی افواج ہمارے لیے کوئی فائدہ نہ رکھتی ہوں، بلکہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران یورپ، امریکہ اور دیگر جدید ممالک سے درآمد شدہ جدید اسلحہ پاکستانی نگرانی اور شاہین صفت نظروں سے مخفی نہیں رہ سکے گا۔ جیسا کہ قطر کو ملنے والے رافیل طیاروں کے معاملے میں باہمی مشقوں کے دوران ان رافیل طیاروں کو مکمل جانچنے اور سمجھنے کے بعد پاکستان نے بھارت کے رافیل طیارے کو نشانہ بنایا تھا۔ امید ہے کہ اسی طرح اب جدید یورپی اور امریکی اسلحہ بھی پاکستانی نظر سے پوشیدہ نہیں رہ پائے گا۔

نوٹ: اس دوطرفہ معاہدے سے پاکستان کو ممکنہ طور پر اور کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں