
نصرت بھٹو ، جمہوریت کی ماں، حوصلے کی علامت
تحریر: عبدالجبار سلہری
جب گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں ہوا بھی تھم جائے، تو فضا میں ایک عجیب سی خاموشی چھا جاتی ہے۔ بس ایسی ہی خاموشی ہر سال اکتوبر کے مہینے میں پاکستان کے شہروں پر اترتی ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، ملتان غرض سب جیسے کچھ لمحوں کے لیے رُک جاتے ہیں۔ یہ خاموشی نصرت بھٹو کی یاد میں ہوتی ہے، اُس عورت کے احترام میں، جس نے جمہوریت کے لیے اپنی زندگی کی ہر راحت قربان کر دی۔
نصرت بھٹو صرف ذوالفقار علی بھٹو کی بیوی نہیں تھیں، وہ ایک تحریک تھیں، ایک حوصلہ تھیں، ایک عورت کی بیداری کی علامت تھیں۔
انہوں نے دکھ جھیلے، قید و بند برداشت کیے، بیماریاں دیکھیں، مگر ایک پل کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ ان کی زندگی نے پاکستان کی سیاست میں وہ روشنی پیدا کی، جس کے سائے میں آج بھی جمہوریت کا چراغ جلتا ہے۔
23 مارچ 1929ء کو ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہونے والی نصرت بھٹو نے 1951ء میں ذوالفقار علی بھٹو سے شادی کی۔ وہ وقت پاکستان کے لیے نئے خوابوں اور نئی اُمیدوں کا دور تھا۔ نصرت بھٹو نے شادی کے بعد صرف ایک گھر نہیں بسایا، بلکہ ایک قوم کی سوچ بدلنے کا سفر شروع کیا۔
جب 1970ء کی دہائی میں ملک میں انتشار تھا، آمریت کے سائے لمبے ہو رہے تھے، تو نصرت بھٹو نے عوام کے بیچ جا کر آواز بلند کی۔ وہ صرف ایک خاتونِ خانہ نہیں، بلکہ ایک نڈر قائدہ بن کر اُبھریں۔ انہوں نے عورت کو بتایا کہ سیاست صرف مردوں کا میدان نہیں، بلکہ جہاں حق کی بات ہو، وہاں عورت کا قدم سب سے پہلے بڑھنا چاہیے۔
جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، تو نصرت بھٹو پر غم کا پہاڑ ٹوٹا۔ مگر انہوں نے اس دکھ کے آگے سر نہیں جھکایا۔ وہ روئیں ضرور، لیکن مایوس نہیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا:
“بھٹو مر نہیں سکتا، اُس کا مشن ابھی زندہ ہے۔”
اسی عزم کے ساتھ انہوں نے پیپلز پارٹی کو سنبھالا۔ جیلیں دیکھیں، لاٹھیاں کھائیں، مگر قدم نہیں رُکے۔ وہ صرف ایک سیاستدان نہیں، بلکہ ایک ماں تھیں، جس نے اپنی اولاد اور اپنے ملک، دونوں کے لیے قربانیاں دیں۔
1994ء کا وہ دن تاریخ میں درج ہے، جب نصرت بھٹو کو اپنے شوہر کے مزار، گڑھی خدا بخش، جانے سے روکا گیا۔
یہ حکم کسی غیر سے نہیں، بلکہ اپنی ہی پارٹی کے لوگوں سے آیا۔ مگر نصرت بھٹو نے جھکنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا: “اگر آج میرے خاوند زندہ ہوتے، تو میرے ساتھ ایسا نہ ہوتا۔”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ ایک بغاوت تھی۔ عورت کے وقار کی بغاوت، ناانصافی کے خلاف احتجاج۔
اُس دن نصرت بھٹو نے یہ ثابت کیا کہ سیاست میں طاقت جسم کی نہیں، ضمیر کی ہوتی ہے۔
نصرت بھٹو نے اپنے دکھوں کو آنسوؤں میں نہیں بہایا، بلکہ انہیں طاقت میں بدل دیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کی تربیت اس طرح کی کہ وہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں۔
یوں ماں نے بیٹی کو تختِ اقتدار نہیں، بلکہ عزت اور نظریے کی میراث دی۔
ان کے لیے اقتدار مقصد نہیں تھا، عوام کی خدمت تھی۔ ان کے لیے سیاست کھیل نہیں تھی، قربانی تھی۔
نصرت بھٹو نے عورت کو دکھایا کہ وہ کمزور نہیں، وہ قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ نہیں، بلکہ برداشت، جدوجہد اور حوصلہ ہے۔
ان کے کردار نے عورت کو صرف “عورت” نہیں رہنے دیا، بلکہ ایک نظریہ بنا دیا۔
ان کے بعد سیاست میں بہت سے نام آئے اور گئے، مگر نصرت بھٹو کا نام آج بھی عزت، جمہوریت، قربانی اور وفاداری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
2011ء میں جب نصرت بھٹو کا انتقال ہوا، تو گویا پاکستان کی تاریخ نے اپنی سب سے وفادار بیٹی کو کھو دیا۔
مگر ان کا مزار گڑھی خدا بخش آج بھی لوگوں کو بلاتا ہے۔ لوگ وہاں پھول چڑھاتے ہیں — یہ پھول صرف عقیدت کے نہیں، یاد کے، حوصلے کے اور عزم کے پھول ہیں۔
نصرت بھٹو کی برسی صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے کہ جمہوریت قربانی مانگتی ہے، اور قربانی دینے والے بہت کم ہوتے ہیں۔
آج اگر ہم اُن کی طرح ہمت، ایمان اور انسانیت کو ساتھ لے چلیں، تو شاید یہ ملک دوبارہ روشنیوں سے بھر جائے۔
نصرت بھٹو زندہ ہیں، ہر اُس عورت میں جو ظلم کے آگے نہیں جھکتی، ہر اُس شہری میں جو حق کے لیے آواز اُٹھاتا ہے۔
***