
براہ کرم سیلاب زدگان کی مدد کی غرض سے جانے والے مخیر افراد جلد بازی نہ کریں۔ جس طرح آپ حج اور عمرہ کے لئے جاتے ہیں ۔ وہاں کسی سعودی کو پیسہ دے کر واپس نہیں آتے ۔ بلکہ طواف کرتے ہو۔ سعی کرتے ہو۔ زیارت کرتے ہو۔ اسی طرح امداد کے لئے متاثرہ علاقوں میں محض جانا اور بس امداد چھوڑنا کافی نہیں ہے۔ امداد کو مستحق افراد تک پہنچانا ضروری ہے ۔یہ امانت ہے۔
جانے سے قبل با اعتماد افراد سے رابطے میں رہیں۔ وہاں جاکر صرف ایک علاقے میں امداد دے کر واپسی کی راہ اختیار نہ کیجئے ۔ پہلے معلوم کریں کہ متاثرین کو کہاں امداد زیادہ مل رہی ہے اور کس جگہ پر امداد کی ضرورت زیادہ ہے۔ یہ جلد بازی کا کام نہیں ہے ۔ جب آپ گئے ہو۔ سفر کی مشقت برداشت کر ہی لی ہے تو پھر اپنے ثواب میں اضافہ کیجیے ۔ کچھ آگے کے علاقوں کا رخ کیجیے ۔
ہمارے ساتھ وہاں گراؤنڈ پر معتمد علماء کرام بھی ہیں۔ سکول اساتذہ بھی ہیں۔ نوجوان رضاکار بھی ہیں اور ہر مزاج کے افراد موجود ہیں۔ یہ تمام تر جماعتی ،لسانی، برادری اور قومی نسبتوں سے بالاتر ہوکر کام کررہے ہیں۔ اور متاثرہ علاقوں میں آپ کی قدم قدم پر راہنمائی کریں گے۔
آپ حضرات بھی گھر کی دہلیز پر امداد دیں۔ جمع غفیر میں دینے سے گریز کریں۔ تاکہ صرف آپ کی امداد مستحق افراد تک پہنچ جائے ۔
جانے سے قبل ضرور معتمد افراد کے ساتھ رابطہ قائم کریں۔
آج صبح مجھے ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ ان کا واسطہ ایک نامناسب آدمی سے پڑا تھا۔ جس کا انہیں خاصا نقصان ہوا ۔ وقت بھی ضائع ہوا۔ ایسے مقامات پر فرشتوں کے ساتھ شیاطین بھی سرگرم ہوتے ہیں جو موقع سے فایدہ اٹھاتے ہیں۔ لہذا ہوشمندی کے ساتھ آگے بڑھیں۔