
افسانچہ نگار: الطاف میر بگٹی
“خون آشا
بے ہنگم آوازوں نے شہر بھر میں تہلکہ مچادیا۔ بازار کی بلند وبالا عمارتیں کانپ رہیں تھیں۔ ہر کوئی ہراساں تھا۔ جو بھی ان آوازوں کو سنتا بد حواس ہو جاتا۔ اور حیرت کی تصویر بن جاتا۔ قتل ـــــــ!؟
چیئرمین کا ـــــــــ!؟ مگر کیوں، کیسے اور کس لیے؟!ــــــــ بےچارہ سیکولر تھا!ـــــــــ سچ گو تھا!
پھر ایک نسوانی چیخ نے ساتویں آسمان پر دستک دی خدا کے کانوں میں کھس کر کہا جی ہاں چیئرمین کا! قتل ہوا، سرِ عام ہوا،
مگر آپ کو کیسے معلوم؟ کس نے خبر دی۔
بار دگر لرزتی ہوئی صدا سنائی دی :
اُس کی ماں نے، اُس کے گردن پر تِل کی سیاہ نشان سے پہچان لی!
تعاقب میں ساتویں آسمان سے آواز زمین پر سے ٹکرائی:
چیئرمین تو ایک دربان تھا، محافظ تھا، سائبان تھا، ماؤں،بہنوں کا، پہاڑوں کا اور اپنے شہر کے باسیوں کے معاملے میں تو انتہائی حساس تھا، جو خون آشام جانوروں سے بھی اُن کو بچاتا تھا۔
پھر کچھ عرصے بعد وقت کا پاسا پلٹا، معاملہ سلجھ گیا۔ اب شہر میں خون آشام جانوروں کی بھیڑ تھی لیکن لوگ بے اعتنائی سے ان کے قریب سے گزرتے، وہ خوف وحراس سے لاپرواہ تھے انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ اگلا شکار کون ہے؟
شہر کے عین خاور کی جانب چیئرمین کی لاش کئی دنوں سے جھاڑی میں پوسٹ مارٹم کے لیے پڑا تھا خون آشام جانور اس کی آنکھیں، گردے اور چہرہ نوچ چکے تھے، مسخ کر چکے تھے۔ اور پاس بیٹھی چند عورتیں مادری زبان میں کچھ گارہی تھیں۔