بڑھاپے کے نام خط/تحریر/مہر ہمیش گل 0

گھر کا بند دروازہ/تحریر/مہر ہمیش گل

گھر کا بند دروازہ/تحریر/مہر ہمیش گل

موسم بہت خوش گوار تھا۔ ہر طرف گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ثنا کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے بھائی روحان اور بھابی سے ملنے جائے۔ وہ روز کی طرح آج بھی اپنے گھر میں ملنے آئی۔ اس کی ہر صبح اپنے میکے سے ہوتی تھی۔ ثنا آج بھی نادان تھی، جو میکے کو اپنا گھر سمجھ رہی تھی۔ میکہ بھی گھر ہی ہوتا ہے لیکن اگر سسرال کو بھی گھر سمجھ لیا جائے تو کافی مسئلے حل ہو جاتے ہیں شادی کے بعد شوہر کا گھر ہی اس کا گھر ہوتا ہے۔ اس کا گھر تو اب اس کے شوہر کا گھر تھا۔لیکن ثنا کو یہ بات سمجھنے میں دیر ہو گئی۔ آج جب صبح صبح ثنا اپنے گھر کا سارا کام کر کے میکے آ رہی تھی تو دروازہ بند تھا۔ ثنا ابھی دروازہ کھٹکٹانے ہی لگی تھی کہ ثنا کی چھوٹی بھابی سندس جسے ثنا بہت ارمانوں سے اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنے بھائی روحان کی دلہن بنا کر لائی تھی، اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی کہ آپ ثنا کو منع کیوں نہیں کرتے کہ وہ اب اس گھر میں کم آئے۔ ثنا روز میکے نہ آئے۔ اس طرح اس کے سسرال میں مسئلے مزید بڑھ جائیں گے اور اس کی زندگی اس کے سسرال میں مشکل ہو جائے گی۔ آپ اُسے کیوں نہیں سمجھاتے، اگر میں بات کرو نگی تو ثنا برا مان جائے گی۔ وہ مجھے دوست کم اور دشمن زیادہ سمجھے گی۔ ابھی ثنا کی نئی نئی شادی ہوئی ہے تو زیادہ میکے آنا مناسب نہیں ہے۔ اگر اب ثنا آئی تو میں اپنے میکے چلی جاؤنگی۔ ثنا کا بھائی روحان کہہ رہا تھا، “میں ثنا کو کیسے منع کر سکتا ہوں؟ وہ میری بہن ہے۔” ثنا نے جب یہ بات سنی تو اس آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو گئے اور بند دروازے کے اندر جو بات ہو رہی تھی، وہ ثنا سن چکی تھی اور خود سے سوال کر رہی تھی کہ کیا سندس بھابی کو میرا میکے آنا اچھا نہیں لگتا؟ یا سندس بھابی نے مجھے دوست سمجھ کر بھائی روحان سے یہ بات کہہ رہی تھی۔ یہ بات ثنا سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ ثنا اپنے بھائی روحان کو اکیلا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ ثنا نے میکے کم آنا شروع کر دیا اور اس بات سے ثنا کے سسرال والے بھی بہت خوش ہوئے کہ ثنا نے اپنے گھر کی زمہ داریاں سنبھالنی شروع کر دی ہیں۔ ثنا میکے میں جہاں روز جاتی تھی وہاں اب ہفتے ہفتے مہینے بعد جانا شروع کیا۔ثنا جب میکے جاتی تھی تو ثنا کی بھابھی سندس بھی بہت خوش ہوتی تھی کہ ثنا اب سمجھ دار ہو گئی ہے اور اپنے سسرال میں خوش ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ثنا کو یہ بات سمجھ آ گئی تھی کہ سندس بھابی نے بھائی روحان سے جو بات کی تھی۔ وہ مجھے چھوٹی بہن اور دوست سمجھ کر کی تھی۔ ثنا نے اپنے شوہر کے گھر میں ہی رہنا مناسب سمجھا جہاں ہر درد کی دوا تھی، ہر زخم کا مرہم تھا اور زندگی میں کبھی بند نہ ہونے والا دروازہ تھا۔
گھر کا بند دروازہ/تحریر/مہر ہمیش گل
افسانہ/پھوڑے/انیلہ افضال ایڈووکیٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں