گمنام سپاہی/تحریر/حنا سہیل 0

گمنام سپاہی/تحریر/حنا سہیل

گمنام سپاہی/تحریر/حنا سہیل

ہمارا خون شامل ہے تزئین گلستان میں
ہمیں بھی یاد کرلیناچمن جب بہار آئے

6 ستمبر 1965 پاکستان کی تاریخ کا وہ صفحہ ہے جسے کبھی نہیں بھلایا جاسکتا قوم ایک تھی جذبات وطن کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے تو ایسی ایسی داستانیں ںرقم ہوئیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ، ویسے تو نشان حیدر پانے والوں کا ذکر ہمیشہ یاد رہتا ہے لیکن ایک گمنام سپاہی ایسا بھی ہے جس نے اپنی زندگی ہار دی اور مجاھدین کی صف میں نام لکھوایا_
6 ستمبر کی باقاعدہ لڑائی سے بھی پہلے جب سرحدوں پر دشمن نے چھیڑ چھاڑ کی تو آزاد کشمیر ریجمنٹ کے کیپٹن شیر محمد کو ہائی کمان نے آگے کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھیجا اس ریجمنٹ میں سپاہی مقبول حسین بھی تھا جب لڑتے ہوئے دشمن کو ہرا کر واپسی کا سفر شروع کیا تو سپاہی مقبول حسین نے درخواست کی کہ وہ یہی سرحد پر رہ کر دشمنوں کو سبق سکھانا چاہتا ہے لیکن جب اسکے ساتھیوں نے اسے لیجانے کی ضد کی تو اس نے اپنے آپ کو ایک مورچے میں چھپا لیا ، اور دشمن کی فوج کا مقابلہ کرتا رہا یہاں تک کہ اسے ہاتھ میں گولی لگی اور پھر شدید زخمی حالت میں اسے قیدی بنالیا گیا ، دشمن نے انٹرنیشنل لاء آف پرزنر international law of prisoner کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبول حسین پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ، اسے کہا جاتا کہ پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگائے لیکن وہ ہر بار اور ذیادہ جوش سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا _ بیرکوں میں موجود آفیسر اسے گالیاں دیتے پاگل کہتے تو وہ جواب کہتا کہ ہاں میں پاگل ہو اپنے وطن کی محبت میں _ جب دشمن اسے کسی طرح توڑ نہیں سکے تو انھوں نے سپاہی مقبول حسین کی زبان کاٹ دی لیکن اس وفادار سپاہی نے اپنے خون سے بیرکوں پر “پاکستان زندہ باد لکھا ،، ،_
اقوام متحدہ کی رولنگ کی وجہ سے جب قیدیوں کا تبادلہ ہوا تو دشمن نے ہر مرتبہ اسے چھپایا آخر جب دماغی حالت ختم ہونے لگی تو 17 ستمبر 2005 کو 40 سال قید بھگتنے کے بعد سپاہی مقبول حسین جب آیا تو کسی و معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہے کہاں رہتا تھا ، لیکن سپاہی مقبول حسین کو اپنی ریجمنٹ کا معلوم تھا ، کمزور ناتواں اور مخبوط الحواس مقبول حسین جب اپنی ریجمنٹ کا پوچھتے ہوئے پہنچا تو ڈیوٹی پو موجود آفیسر کو بھرپور سلوٹ مارا اور ایک پرچہ پر اپنا نمبر لکھا
” سپاہی مقبول حسین 335139 ڈیوٹی پر حاضر ہے”
یہ پڑھ کر کشمیر ریجمنٹ میں کھلبلی مچ گئی اور پھر جب ہائی کمان سے معلوم کیا گیا تو اسکا پرانا ریکارڈ نکالا گیا ،سپاہی کا جسمانی اور دماغی علاج بھی کروایا گیا بہترین سائیکٹرسٹ انکے لئے رکھے گئے_انکے ایک دوست صوبیدار برکت کو انکی تلاش تھی جب معلوم ہوا کہ اس طرح کا کوئی قیدی آیا ہے تو سپاہی مقبول حسین کے بھانجے اور بہن کو اطلاع دی خود ملنے گئے ، سپاہی مقبول حسین گاؤں تیریاں ضلع سدھنوتی کے رہنے والے تھے ،وہاں تو دنیا ہی بدل گئی تھی والدین جوان بیٹے کا انتظار کرتے کرتے قبر میں کا سوئے ، منگیتر گاؤں چھوڑ کر کہاں گئی گھر والوں کے ساتھ کسی کو نہیں معلوم تھا، اپنی زندگی کے چالیس خوبصورت سال اس وطن کو دئے جس نے؛ اسکی ہمت بہادری کو سلام پیش کرتی ہے یہ قوم؛ جس قوم میں مقبول حسین جیسے سپاہی کواور جو اپنے خون سے پاکستان زندہ باد لکھتے رہے اور دشمن کو جلاتے رہے اس قوم کو کون ہرا سکتا ہے ،2008 میں ISPR نے سپاہی مقبول حسین پر ڈرامہ بنایا اور اس ڈرامہ کی تعارفی تقریب میں انکو اسٹیج پر بلاکر خراجِ تحسین پیش کیا گیا ،_
29 اگست 2018 کو اس بہادر سپاہی کا انتقال ہوگیا جس کی نماز جنازہ میں ارمی چیف نے شرکت کی جو چکلالہ گیریژن میں ادا کی گئی ، پورے فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین آپکے آبائ گاؤں مرشد آباد میں ہوئی _
شھید تم سے یہ کہ رہےہیں
لہو ہمارا بھلا نہ دینا۔
گمنام سپاہی/تحریر/حنا سہیل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں