پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اور برادرانہ رشتے کی ضرورت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ممبر یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان
پاکستان اور افغانستان دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جنہیں قدرت نے نہ صرف جغرافیائی قربت دی ہے بلکہ مذہب ، ثقافت ، زبان ، تاریخ اور تہذیبی اقدار کے حوالے سے بھی ایک دوسرے سے گہرا تعلق عطا کیا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رشتہ ایمان و اخوت کا ہے۔ ایسے میں اگر سرحدوں پر اشتعال انگیز فائرنگ یا کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی ہوتی ہے تو یہ نہ صرف افسوسناک بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان پر اشتعال انگیز فائرنگ بلاشبہ ایک تشویشناک اور افسوسناک واقعہ ہے۔ ایسے واقعات دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی پیدا کرتے ہیں اور خطے کے امن کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے افغان عوام کے ساتھ ہمدردی ، مہمان نوازی اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان نے اپنے ملک میں پناہ دی ۔ تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جو دنیا میں ایک منفرد مثال ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن و استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے لازمی ہے۔ دونوں ممالک کے عوام غربت ، بے روزگاری اور انتہا پسندی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے دشمن بننے کے بجائے باہمی تعاون ، تجارت اور دوستی کو فروغ دیں تو نہ صرف ان کے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ پورا خطہ ترقی اور امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اسلام ہمیں بھائی چارہ ، محبت ، صبر اور عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إنما المؤمنون إخوة یقیناً تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اس تعلیم کی روشنی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشمنی یا نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔ دونوں ممالک کے حکمرانوں ، علما کرام ، دانشوروں اور عوام کو چاہیے کہ وہ اشتعال انگیزی ، بداعتمادی اور نفرت کے بجائے امن ، تعاون اور دوستی کی راہ اختیار کریں۔ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی سطح پر بھی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان ایک پُرامن ، مستحکم اور خودمختار ملک بنے۔ تاہم جب بھی سرحد پار سے فائرنگ یا دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں تو یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ ان واقعات سے صرف دشمن قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ مسلم ممالک متحد ہوں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں ، غلط فہمیاں دور کریں اور مشترکہ مفادات کے لیے پالیسی بنائیں۔ سرحدوں پر امن ، تجارتی راستوں کی بحالی ، عوامی سطح پر روابط اور تعلیمی و ثقافتی تبادلوں سے تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ دشمنی اور کشیدگی سے صرف نقصان ہوگا جبکہ بھائی چارے ، احترام اور باہمی اعتماد سے ہی ترقی ، امن اور خوشحالی ممکن ہے۔ دونوں اسلامی ممالک کو باہمی رنجشیں ختم کر کے امن و محبت کا پیغام عام کرنا چاہیے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے کے لیے بھائی ہیں لیکن دشمن نہیں۔ ہمیں نفرت نہیں ، اخوت کی دیوار کھڑی کرنی ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام قائم ہو سکے۔