0

سی ای او، وکلاء اور اساتذہ — اصل مسئلہ ہے کہاں؟ /تحریر / حسنین احمد شیخ

سی ای او، وکلاء اور اساتذہ — اصل مسئلہ ہے کہاں؟
تحریر: حسنین احمد شیخ

چند روز قبل کچھ وکلاء نے ایجوکیشن کمپلیکس شیخوپورہ میں سی ای او ایجوکیشن شیخورہ نعیم عباس رانا کے ساتھ بدتميزی کامظاہرہ کرتے ہوئے ان پر حملہ آور ہوئے۔حقائق یہ ہیں کہ وکیل صاحب کی اہلیہ بطور معلمہ خدمات انجام دے رہی تھیں۔ جب پنجاب حکومت نے اساتذہ کے لیے ریشنلائزیشن پالیسی متعارف کروائی جس کے تحت سینکڑوں اساتذہ کا تبادلہ ہوا، تو اسی پالیسی کی زد میں وکیل صاحب کی اہلیہ کا بھی تبادلہ ہوا۔ یہ تبادلہ مکمل طور پر آن لائن اور حکومتی سطح پر ہوا تھا، جس میں سی ای او یا ضلعی افسران کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ وکیل صاحب اپنی اہلیہ کا تبادلہ رکوانے پر بضد تھے، لیکن جب سی ای او ایجوکیشن شیخوپورہ نے واضح کیا کہ یہ ان کے اختیار میں نہیں ہے تو بدقسمتی سے کچھ وکلاء نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے دفتر پر حملہ کیا اور سی ای او کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ رویہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ پورے وکلاء طبقے کے وقار پر دھبہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وکلاء برادری ایسے عناصر کی سختی سے مذمت کرے جو وکالت کے مقدس پیشے کی آڑ میں غنڈہ گردی کرتے ہیں۔ وکیل کو ہمیشہ عدالت کی چار دیواری میں دلیل کی جنگ لڑنی چاہیے، نہ کہ ہاتھ اٹھا کر قانون شکنی کرنی چاہیے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اساتذہ کی نمائندہ تنظیمیں اکثر اپنے ہی اساتذہ کے لیے کھڑی نہیں ہوتیں۔ لیکن جب سی ای او اور ان کے عملے کو کسی مشکل کا سامنا ہو تو وہی اساتذہ، جنہیں دفاتر میں کبھی عزت و وقار نہیں دیا جاتا، اچانک ان کے لیے ڈھال بنا دیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف ہے؟ وکلاء اور ایجوکیشن آفس شیخورہ کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع نے یہ حقیقت کھول دی ہے کہ ایڈمنسٹریشن کی پالیسی ہمیشہ دہری رہی ہے۔ عام حالات میں اساتذہ کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کلرک، اہلکار اور افسران ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں، غلط رویوں کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن جب خود ان پر برا وقت آتا ہے تو فوراً ’’اساتذہ کی یکجہتی‘‘ کی دہائی دی جاتی ہے۔ جب اساتذہ اپنے حقوق بارے رائے دیتے ہیں تو یہی افراد معطلیوں، جواب طلبیوں اور ’’پیڈا ایکٹ 2006‘‘ کی دھمکیاں دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب وکلاء نے ایجوکیشن آفس میں دھاوا بولا تو اچانک ’’ڈیپارٹمنٹ کے تقدس‘‘ کا نعرہ بلند ہونے لگا۔ اگر واقعی تقدس عزیز ہے تو اس کا مظاہرہ اس وقت بھی ہونا چاہیے تھا جب اساتذہ کی حق تلفی کی جا رہی تھی۔ کلرکوں اور ایجوکیشن افسران کی یہ من مانی بھی ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے رویوں کے خلاف سخت احتساب ہونا چاہیے۔
سی ای او کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں کس کا قصور زیادہ ہے، یہ الگ بحث ہے۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ وکلاء ایک منظم اور متحد طبقہ ہیں۔ ان کے خلاف آواز بلند کرنا یا کوئی بھی قدم اٹھانا آسان نہیں۔ ڈاکٹرز جیسے وسائل سے مالا مال طبقے بھی ان کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔ ایک ڈاکٹر جس نے وکلاء کے خلاف مقدمہ دائر کیا، آخرکار اپنے دفاع کے لیے وکیل تک نہ پا سکا۔ ایسے میں افسران اور چند کلرک اگر یہ سمجھیں کہ وہ وکلاء سے ٹکر لے سکتے ہیں تو یہ محض خام خیالی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ایڈمنسٹریشن اپنا قبلہ کب درست کریں گے؟ وہ اساتذہ جنہیں دفاتر میں فرعونیت کے انداز میں ڈیل کیا جاتا ہے، جن کی جائز آواز کو دبایا جاتا ہے، کیا وہ مشکل وقت میں ایڈمنسٹریشن کے لیے قربانی دینے کو تیار ہوں گے؟ یقیناً نہیں۔ یہ وہی تھالی ہے جس میں کھا کر اسی میں چھید کیا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی کسی طرح قابلِ قبول نہیں کہ کوئی وکیل یا گروہ دفتر میں گھس کر بدسلوکی کرے۔ کیسے ان واقعات کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے؟ ہمیں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے تقدس کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ کیونکہ نہ ہر سی ای او میں خامیاں ہیں اور نہ ہر استاد میں خوبیاں و خصلتیں۔ ساتھ میں یہ پہلو بھی زیرِ غور آنا چاہیے کہ آخر ایسی نوبت کیوں پیش آئی کہ وکلاء کو اس طرح کا قدم اٹھانا پڑا۔ وکلاء محض احتجاجی ہجوم نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور قانون فہم طبقہ ہیں۔ اگر قانون کی بالادستی، پاسداری اور محافظ قانون کو اسی طرح ہاتھ میں لیں گے تو کوئی گریبان محفوظ نہیں رہے گا۔ اگر وکلاء واقعی باضمیر ہیں تو انہیں چاہیے کہ ان عناصر کو پہچانیں جو اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں اور اساتذہ کے احترام کو مجروح کرتے ہیں۔ اگر کسی دیانت دار افسر کو عوام کا حقیقی خادم سمجھا جائے تو ایسی صورتحال کبھی پیدا ہی نہیں ہوتی۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اپنے اندر اصلاح لائے۔ اساتذہ کے ساتھ عزت اور انصاف کا برتاؤ کرے۔ کلرکوں اور افسران کی بے جا طاقت کو لگام دے۔ جب تک اندرونی سسٹم درست نہیں ہوگا، اس طرح کے بحران بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ اور پھر ہر مرتبہ، ذمہ دار اور قصوروار خود کو بچانے کے لیے اساتذہ کو سامنے لاتے رہیں گے۔ اگر سی ای او ایجوکیشن کو اپنی پوزیشن پر اعتماد ہے تو اساتذہ کا کندھا استعمال کیے بغیر خود میدان میں آئیں۔ اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اصل مسائل پر یکجا ہوں، اپنی عزت اور وقار کے لیے آواز بلند کریں، اور کسی کے ذاتی جھگڑوں کا ایندھن نہ بنیں۔ بصورتِ دیگر، یہ کھیل یونہی جاری رہے گا اور نقصان صرف اور صرف استاد کو ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں