اشاروں کا عالمی دن/تحریر/زاہد محمودانسانی زندگی میں اشاروں کا عمل دخل اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود انسانی تاریخ۔ جب انسان نے زبان و بیان پر پوری طرح دسترس حاصل نہیں کر لی تھی، تو اس کے زیادہ تر معاملات اشاروں ہی کے مرہون منت حل ہوتے تھے۔ زبان و بیان پر دسترس حاصل کرنے کے بعد بھی انسانوں نے اشاروں کی زبان ترک نہیں کی۔ تاھم اس وقت اشاروں کی زبان بالعموم گونگوں، بہروں یا ان کے اہل خانہ کے درمیان اظہار رائے کے لیے بہت زیادہ مستعمل ہے۔
تجربہ کار لوگ انسانی چہرے کے تاثرات سے دیگر انسانوں کے حال احوال کا بخوبی اندازہ لگا لیتے ہیں۔ البتہ اندازہ پھر بھی اندازہ ہی ہوتا ہے جو کبھی کبھار غلط بھی ہو جاتا ہے۔ بروقت اشارے کبھی کبھار انسانوں کو بڑی بڑی مشکلوں سے بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں جب کہ غلط وقت پر کیے گئے اشارے اکثر و بیشتر انسانوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتے ہیں۔ محبت اور نفرت اگرچہ آپس میں انتہائی حد تک متضاد ہیں تاھم ان کا آغاز اشاروں کی زبان میں ہی ہوتا ہے جب کہ فریقین کے درمیان چلنے والے اشاروں سے اس کے انجام کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے۔
اشارے کرنے سے اشارے سمجھنا زیادہ اہم ہوتا ہے کیوں کہ سمجھنے والا اگر اشارے نہ سمجھ پائے یا غلط سمجھ لے تو اس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے جو نتائج کے لحاظ سے 180 ڈگری برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔ ملکوں کے درمیان قائم تعلقات کا زیادہ تر انحصار سفارتی آداب کو ملحوظ رکھنے پر ہوتا ہے۔ سفارتی آداب کو آپ ایک لحاظ سے اشاروں کنایوں کی زبان کا نام بھی دے سکتے ہیں جو کہنے میں کچھ تو سمجھنے میں کچھ ہوتی ہے۔
عالمی راہنماؤں کے درمیان باہمی گفتگو عمومی طور پر اسی زبان میں ہوتی ہے جسے بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اگر فریقین میں سے کسی ایک فریق کو بین الاقوامی زبان پر مکمل دسترس نہ ہو یا وہ اسے اختیار نہ کرنا چاہے تو یا تو ترجمان کا سہارا لیا جاتا ہے یا پھر اشاروں کی زبان میں ہی اپنا مدعا بیان کر لیا جاتا ہے۔ ذیل میں آپ دنیا کے دو اہم ایٹمی ملکوں کے سربراہوں کے درمیان اشاروں کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی اشاراتی گفتگو ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اس وڈیو میں کوئی اشارہ غلط لگے تو سمجھ جائیں کہ آپ اشاروں کو سمجھنے کے لیے مطلوبہ صلاحیت سے محروم ہیں۔