بڑھاپے کے نام خط/تحریر/مہر ہمیش گل 0

مجبوری/تحریر/مہر ہمیش گل

مجبوری/تحریر/مہر ہمیش گل

کبھی کبھی اِنسان اتنا مجبور ہو جاتا ہے کہ اسے نہ چاہتے ہوئے بھی کُچھ رشتوں کو نبھانا پڑتا ہے۔ چاہے اُن رشتوں کو نبھاتے ہوئے اسے حد سے زیادہ ذلیل ہی کیوں نہ ہونا پڑے، اسے حد سے زیادہ تکلیف ہی کیوں نہ ہوتی ہو۔ ان سب کو ساتھ لے کر چلنا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ انسان اکثر ہزار باتیں سنُنے کے باوجود بھی اُن سب باتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے مگر نظر انداز کر دینے کا یہ مطلب ہرِ گز نہیں ہے کہ نظر انداز کر دینے والے انسان کو آپ سے کچھ چاہیے، نہیں یہ آپ کی سوچ ہوتی ہے کہ اسے آپ سےکُچھ چاہیے یا اسے کوئی لالچ ہے۔ اس کے نظر انداز کرنے کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ان رشتوں کو نبھانا چاہتا ہے، ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے، وہ آپ سے محبت کرتا ہے، آپ کا احترام کرتا ہے اور آپ کی عزت کرتا ہے لہذا آپ بھی تھوڑا خیال کیا کریں کہ آخر وہ بھی انسان ہے، اس کے اندر بھی دل ہے اگر وہ سب سن سکتا ہے تو آپ کو سُنا بھی سکتا ہے کسی کے صبر کو نہ آزمایا کریں، بات کرتے وقت اچھے لفظوں کا انتخاب کیا کریں۔ اگر وہ آپ کا خیال رکھتا ہے، آپ کی پرواہ کرتا ہے تو آپ بھی اس کی قدر کریں اور پیار سے بات کریں۔ وہ روز خود کو اذیت سے دوچار کرنے کے لیے آپ کے سامنے اس لیے پیش ہو جاتا ہے کیونکہ اسے صرف آپ سے محبت ہوتی ہے۔ وہ آپ سے دو پیار کے لفظ سُننے کے لیے ساری عمر ترس جاتا ہے کہ اسے کوئی اچھا کہے دے۔ اسے بھی آپ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آپ کو بتاتا نہیں ہے لیکن وہ اندر سے ختم ہو رہا ہوتا ہے۔ آپ کی ایسی ہزار باتیں جو اس کی برداشت سے باہر ہوتی ہیں، جبکہ وہ برادشت تو کر ہی لیتا ہے لیکن آپ کا تلخ رویہ اکثر اسے زہر کا پیالہ بنا دیتا ہے۔ وہ زہر جو آپ کے لیے بھی خطر ناک ہو سکتا ہے، اُس کی برداشت، صبر اور ظرف کو نہ آزمائیں۔ اس سے پہلے کہ وہ زہر بننے پر مجبور ہو جائے، آپ اپنا جائزہ لیجیے.
مجبوری/تحریر/مہر ہمیش گل
رشتہ داری کا خیال کیجیے / تحریر / احمد شہباز
اسلحہ کلچر معاشرتی بگاڑ کا خاموش ہتھیار / تحریر / حافظ محمد صدیقی مدنی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں