
” دادا جی ! آپ کیا کر رہے ہیں ” پپو نے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ پوچھا ۔” میں جھنڈیاں تیار کر رہا ہوں ،یہ دیکھو ” دادا جی نے دھاگے کے ساتھ چپکائی ہوئی سبز جھنڈیاں دکھائیں .” ان کو گیٹ اور برآمدے پر لگائیں گے، دیکھنا جب ہوا چلے گی تو کس خوب صورتی سے لہرائیں گی “۔ وہ مسکرانے لگے۔” ہوں ، لیکن دادا جی ،ہماری ٹیچر تو کہتی ہیں کہ ہم آزاد نہیں ہیں، چودہ اگست پر جھنڈے نہ لگاؤ بلکہ درخت لگاؤ ” پپو نے الجھے ہوۓ سے انداز میں کہا۔” ارے ، پرچم کی بہت اہمیت ہے بیٹا ،یہ کسی قوم کی پہچان ہوتا ہے ،یہ اس کا وقار ،اس کی شان ہوتا ہے ،یہ آزادی کا اظہار ہے اور درخت لگانے سے کس نے روکا ہے بھلا مگر پرچم کا متبادل درخت تونہیں ہے نا بیٹا” دادا جان نے شفقت سے کہا پھر اپنے ہاتھ دھو کے موبائل پکڑ لیا اور بستر پر بیٹھ گئے ، پپو بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔موبائل پر ایک ہندوستانی مسلمان کی ویڈیو اوپن ہوگئ جو نماز پڑھ کے مسجد سے نکلا تو اس پر ” ہندو توا ” کے غنڈوں نے حملہ کردیا ،وہ نہتا نوجوان ،بیس پچیس افراد کے نشانے پر تھا جو اس پر بے پناہ تشدد کر رہے تھے ۔ارد گرد مجمع اکٹھا ہوگیا مگر کسی نے اس نوجوان کو بچانے کی کوشش نہیں کی اب وہ لہولہان ،باریش نوجوان زمین پر گر چکا تھا !” بس کریں،دادا جی ،یہ مجھ سے دیکھا نہیں جارہا ،اس نوجوان کو بلاوجہ کیوں مارا پیٹا جارہا ہے ؟” “اس لئے کہ وہ نوجوان اپنے دین،اپنے کلچر پر چلنے کے لئے آزاد نہیں ہے ، ہمارے بزرگوں نے اسی لئے تو پاکستان بنایا تھا کہ ہم دوسروں کے جبر و تشدد سے چھٹکارا پا سکیں اور بحیثیت مسلمان زندہ رہ سکیں !”پپو پر اس آنکھوں دیکھی حقیقت نے ایسا اثر کیا کہ وہ دادا جی کی میز کے ساتھ رکھے ہوۓ پرچم کے ڈنڈے کو اٹھا کے پوری قوت سے بولا :” پاکستان ،زندہ باد !”