
2025 پولٹری انٹرنیشنل ایکسپو/تحریر/ریاض احمد احسان/چئیرمین پولٹری پروفیشنلز کلب پنجاب
لاہور کا ایکسپو سینٹر اکتوبر کی 23، 24 اور 25 تاریخوں کو اُس وقت ایک زندہ تحقیقی اکیڈمی کا منظر پیش کر رہا تھا جب پولٹری انٹرنیشنل ایکسپو 2025 اپنے پورے عروج پر تھا۔ روشنیوں میں نہائے ہال، پروٹین کی صنعت کے متحرک نمائندے، جدید سائنسی آلات کی چمک اور علم و تجربے کی خوشبو یہ سب مل کر پاکستان کی پولٹری صنعت کے ایک نئے دور کی نوید دے رہے تھے۔
یہ صرف ایک نمائش نہ تھی بلکہ غذائی خودکفالت کے عزم کی تجدید تھی یہاں فیڈ ملز، ہیچریز، پروسیسنگ پلانٹس، ویٹرنری فارماسیوٹیکل کمپنیاں، انکیوبیٹرز، نیوٹریشن کمپنیاں، آٹومیٹڈ فارمنگ سسٹمز اور سلیکشن لیبارٹریز سمیت دیگر اہم شعبوں کی نمائندہ وفد نچائزز موجود تھیں جو سب اپنے اپنے علم و فن کے مظاہر کے ساتھ موجود تھے۔ اس محفل میں صنعت کے بزرگ بھی تھے اور وہ نوجوان بھی جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ایک نئی خوراکی دنیا تخلیق کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے اس ایکسپو کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر سائنسی اصولوں، جدید فارمنگ، بائیو سیکیورٹی، اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو اپنا شعار بنائیں۔ پولٹری اب فقط ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ بن چکا ہے وہ فریضہ جو قوم کے بچوں کو پروٹین کی صورت میں توانائی فراہم کرتا ہے اور ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے جہاں بھوک نہیں، صحت بولتی ہے۔
ایکسپو میں ایوی مارٹ، سبز فیڈ ملز، میڈیکو ویٹرنری سروسز، پاک ہیچ، الائیڈ نیوٹریشن، اور ایگری ٹیک انٹرنیشنل جیسے اداروں سمیت تمام قومی و بین الاقوامی اداروں نے اپنی اپنی مصنوعات اور تحقیق پیش کی ہر اسٹال پر سائنس بولتی تھی، ہر نمائش میں معیار کی جھلک تھی۔ جدید سلسٹرنگ سسٹمز، کلائمیٹ کنٹرولڈ فارمنگ، ہیلتھ ٹریس ایبلٹی ماڈیولز، اور نیوٹریشنل ریسرچ ماڈلز نے اس حقیقت کو آشکار کیا کہ پاکستان کی پولٹری صنعت اب تجربے سے نکل کر تحقیق کے سفر پر گامزن ہے۔
شرکاء کی کثیر تعداد، صنعتکار، محقق، طلبہ، تاجر اور صارفین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پروٹین کی اہمیت آج کے دور میں کسی تعیش کی نہیں بلکہ انسانی بقا کی ضرورت ہے۔ پولٹری مصنوعات پیش کرنے والے ان تمام ماہرین کی خدمات قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے تحقیق کو ہنر اور ہنر کو خدمت میں ڈھالا۔
اختتامی اجلاس میں صنعت کے محسنین نے نہ صرف نئے آنے والوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا بلکہ یہ عہد بھی دہرایا کہ وہ پولٹری صنعت کو عالمی معیار کی خودکفیل صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے۔
یہ ایکسپو دراصل سائنس، صنعت اور عزم کا سنگم تھا ایک ایسا سنگم جہاں مشینوں کی گونج میں محنت کا ترانہ سنائی دیتا ہے، اور جہاں ہر انڈا، ہر دانہ، ہر فارم ایک نئے پاکستان کی امید بن کر ابھرتا ہے۔
پولٹری انٹرنیشنل ایکسپو 2025 نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی پولٹری صنعت فقط کھانے پینے کی نہیں بلکہ قومی توانائی، سائنسی جدت اور غذائی خودمختاری کی صنعت ہے۔ یہ ایک پیغام ہے— کہ اگر ہم سائنسی نظم و ضبط اپنائیں تو پروٹین کا ہر ذرّہ ایک انقلاب بن سکتا ہے۔