
السلام وعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ!
میرا آج کا عنوان ھیکہ!
سیلاب زدگان کی مدد اور ہمارا کردار
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں آزمایا ہے۔ کبھی خوشحالی کے ذریعے اور کبھی مشکلات کے ذریعے۔ انہی آزمائشوں میں سے ایک بڑی آزمائش قدرتی آفات ہیں۔ سیلاب بھی ایک ایسی قدرتی آفت ہے جو اچانک آتی ہے اور لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال مون سون کے موسم میں کئی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مکانات گر جاتے ہیں بلکہ کھیت کھلیان، سڑکیں، پل، اسکول، اسپتال اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ غریب اور نادار لوگ اس آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
سیلاب زدگان کی زندگی لمحوں میں بدل جاتی ہے۔ جو لوگ کل تک اپنے گھروں میں سکون سے رہ رہے تھے، آج کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کھانے کو روٹی بچتی ہے، نہ پینے کے لیے صاف پانی، نہ پہننے کے لیے کپڑے اور نہ ہی کوئی محفوظ پناہ گاہ۔ بچے بھوک سے بلبلاتے ہیں، خواتین پریشان حال ہوتی ہیں اور بوڑھے بے بسی کے عالم میں دعائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم سب کو آگے بڑھ کر اپنے بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے۔
مدد کرنا صرف حکومت یا چند بڑے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق اس کارِ خیر میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بننا اصل ایمان کی پہچان ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری فرماتا ہے۔”
ہم سیلاب زدگان کی کئی طریقوں سے مدد کر سکتے ہیں:
*1. مالی مدد*
سب سے پہلی اور فوری ضرورت مالی امداد کی ہوتی ہے۔ سیلاب کے متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے، دوائیں، بستر اور پناہ گاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اپنی جیب خرچ سے کچھ رقم نکال کر مستحقین تک پہنچا سکتے ہیں۔ چاہے یہ رقم تھوڑی ہو، مگر نیت خالص ہو تو اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہے۔
*2. سامان عطیہ کرنا*
اگر مالی حیثیت زیادہ نہ ہو تو ہم گھر میں موجود زائد کپڑے، بستر، برتن، خشک راشن، دوائیں یا جوتے وغیرہ اکٹھے کر کے سیلاب زدگان تک پہنچا سکتے ہیں۔ ہمارے تھوڑے سے سامان سے کسی کے دن کا کھانا یا رات کی نیند کا سکون واپس آ سکتا ہے۔
*3. وقت اور محنت دینا*
بعض اوقات صرف پیسہ کافی نہیں ہوتا بلکہ انسانی ہمدردی کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ہمارے علاقے میں کوئی امدادی کیمپ لگا ہو تو ہم وہاں جا کر اپنا وقت دے سکتے ہیں، راشن پیک کر سکتے ہیں، متاثرین تک سامان پہنچا سکتے ہیں یا ان کے لیے عارضی تعلیمی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں تاکہ بچے اپنا وقت مثبت انداز میں گزار سکیں۔
*4. چھپ کر مدد کرنا*
سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کی مدد اس طرح کی جائے کہ نہ لینے والے کو شرمندگی ہو اور نہ دینے والے کو فخر۔ قرآن و حدیث میں پوشیدہ صدقہ کو بہت فضیلت دی گئی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ہم گمنام انداز میں کسی خاندان کو کھانا پہنچا دیں یا ان کے اخراجات کسی کو بتائے بغیر ادا کر دیں۔ اس سے مدد لینے والے کی عزت نفس محفوظ رہتی ہے اور دینے والے کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
*5. دعا کرنا*
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دعا ایک مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ سیلاب زدگان کے لیے دعا کریں کہ اللہ ان کی مشکلات آسان کرے، ان کے نقصان پورے کرے اور انہیں دوبارہ خوشحالی عطا فرمائے۔
نتیجہ
سیلاب ایک بڑی آزمائش ہے لیکن یہ ہمارے لیے بھی امتحان ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر ہم سب تھوڑا تھوڑا حصہ ڈالیں تو یہ تھوڑا بہت مل کر بہت بن جاتا ہے۔ کسی کا دکھ بانٹنا، کسی کی بھوک مٹانا اور کسی کی بے بسی کو سہارا دینا نہ صرف انسانی ہمدردی ہے بلکہ عین عبادت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم سیلاب زدگان کی ہر ممکن مدد کریں اور یہ مدد دکھاوے یا شہرت کے لیے نہ ہو بلکہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ جب ہم اپنے بھائیوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو اللہ ہمارے لیے بھی آسانیاں پیدا کرے گا۔.
معلمہ صبیحہ خانم
1ـ9ـ2025
بروز ۔ پیر