0

قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم وفات / تحریر /ام عمر کراچی

تحریر / ام عمر / کراچی
تحریر/ام عمر کراچی

قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم وفات:
(1876–1948)
ام عمر کراچی

قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی کے ا یک تجارتی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرسہ السلام اور کرسچن مشن سکول سے حاصل کی۔ جناح نے 1893ء میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے برطانیہ گئے ،تعلیم مکمل کرکے وکالت شروع کر دی۔وکالت کا پیشہ اختیار کرنے والوں میں سب سے کم عمر محمد علی جناح تھے۔
محمد علی جناح ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔محمد علی جناح بانی پاکستان ہیں اور اس جدوجہد میں زندگی کے 42 سال صرف کیے۔وہ ہر شعبے میں کامیاب تھے۔ انہوں نے وہ کر دکھایا جو کہ عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایسے لوگ اپنے کردار کی وجہ سے مرنے کے بعد بھی قوم کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے سفیر ، ایک عظیم آئین پسند، ممتاز پارلیمنٹیرین ، ایک اعلی درجے کے سیاستدان ، متحرک مسلمان رہنما اور جدید زمانے کے سب سے بڑے قومی رہنما تھے ۔
قیامِ پاکستان کے بعد وہ تقریباً ایک سال 72 دن قوم کے درمیان رہے۔ قائد اعظم 1934ء سے وقفہ وقفہ کے ساتھ علیل رہنے لگے تھے۔
اس وقت ان کی عمر تقریباً 58 سال تھی گویا 58 سال سے لے کر 72 سال تک یعنی چودہ سال ان پر کام کا دباؤ اور صحت کے مختلف عوارض کے طویل اور مختصر حملے ہوتے رہے، لیکن انہوں نے ہمیشہ آزادی کی منزل تک پہنچنے کے لیے خود کو مستعد رکھا۔ قائد اعظم نے ہمیشہ اس مقولے کو سامنے رکھا کہ آزادی کی تحریک صرف کام اور کام سے کامیاب ہو سکتی ہے۔

1940ء میں قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قرارداد لاہور منظور کی جس میں پاکستان کی علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قائداعظم کی کوششوں سے 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا اور قائداعظم اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔
قائداعظم نے ہمیشہ قومی یکجہتی پر زور دیا اور تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگوں کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کی۔ قائد اعطم دن رات پاکستان کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔

قائد اعظم ایک دوراندیش رہنما تھے۔ قائد اعظم نے پاکستان کو ایک آزاد خودمختار ملک بنایا۔انہوں نے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا۔انہوں نے پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ بنانے کا خواب دیکھا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلسل جدوجہد اور قانونی جنگ کا ثمر تھا۔

انھوں نے اپنی سیاسی و قانونی بصیرت کا مظاہرہ کرکے بر صغیر کے نقشے پر ایک آزاد مملکت پاکستان کا قیام ممکن کر دکھایا۔15 اگست 1947ء کو
قائداعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔ اگلے مرحلے میں پاکستان کی پہلی کابینہ نے حلف اٹھایا اور نوابزادہ لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیراعظم مقرر ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے پانچ اہم امور سے پاکستانی عوام کو روشناس کرایا۔ ایک متفق آئین، دوسرا فوج میں اتحاد و یگانگت، تیسرا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا قیام جس کے بعد پاکستان اپنی کرنسی چھاپنے کے قابل ہوا۔ چوتھا مہاجرین کی بحالی اور پانچواں امن و محبت اور یگانگت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ پر مبنی خارجہ پالیسی۔ اس کے علاوہ مملکت چلانے کے تین زریں اصول ’’تنظیم، اتحاد اور ایمان‘‘ مرتب کرتے ہوئے صرف کام،کام اور کام کو اپنانے پر زور دیا۔
یکم جولائی 1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا۔ قیام پاکستان کے بعد سے قائد اعظم مستقل مصروف رہتے تھے۔
قائد اعظم کی کرشماتی شخصیت اور سیاسی تدبر کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں موجود ریاستوں کے نوابوں نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان میں واقع ریاستوں کے نوابین سے ملاقات کے لیے قائد اعظم نے طوفانی دورے کیے۔
قائد اعظم ؒ اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے حامی تھے، جس کے لیے 13 اگست کو ابو الحسن اصفہانی کو امریکا بھیجا گیا۔
قائد اعظم بھارت سے دوستانہ روابط پر خارجہ تعلقات کی پالیسی امن و رواداری پر زور دیتے تھے۔

14 جولائی 1948ء کا دن تھا جب نوزائیدہ ملک کے بانی اور گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11 ستمبر 1948ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ بابائے پاکستان کے یہ آخری 60 دن پاکستان کی تاریخ کے اہم دن ہیں۔
ان ہی دنوں میں بانی پاکستان کو کوئٹہ سے زیارت منتقل کر دیا گیا۔
جناح زیارت میں ایک ماہ قیام کے بعد جب 13 اگست 1948ء کی شام کوئٹہ واپس پہنچے تو انھوں نے اپنی معالج ڈاکٹر کرنل الہی بخش سے کہا: ”بہت اچھا کیا کہ آپ مجھے یہاں لے آئے۔“
کوئٹہ پہچنے کے بعد 16 اگست کو قائد اعظم کے دوبارہ ٹیسٹ اور ایکسرے کے لیے گئے جس کے نتائج بہتر آئے تو ان کے ڈاکٹر نے ان کو دفتری کام کرنے کی اجازت دے دی۔
قائد اعظم سخت بیماری کی حالت میں بھی ملک وقوم کے لیے پریشان رہتے تھے۔
یکم ستمبر 1948ء کو جناح نے زیارت سے بری فوج کے سربراہ جنرل ڈگلس گریسی کے نام خط تحریر کیا جو ان کی آخری تحریر ثابت ہوئی۔ اس خط میں انہوں نے لکھا: ’میں نے آپ کے خط کی ایک نقل قائد اعظم ریلیف فنڈ کے نائب صدر کو بھیج دی ہے اور میں نے اس فنڈ میں سے تین لاکھ روپے کی امداد کی منظوری دے دی ہے جو تھل پروجیکٹ کے مہاجر فوجیوں کی بہبود کے لیے مخصوص ہے۔‘
قائدِ اعظم کی زندگی کا آخری حصہ بیماری سے شدید متاثر تھا۔ انہیں تپ دق کا عارضہ لاحق تھا، جو اس وقت ایک مہلک بیماری سمجھی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنی بیماری کو زیادہ تر لوگوں سے چھپا کر رکھا تاکہ نئی ریاست کے قیام کی کوششوں پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ انہوں نے اپنی صحت کو پسِ پشت ڈال کر دن رات کام کیا، جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو گئی۔

اگست 1948ء میں ان کی صحت زیادہ بگڑ گئی اور انہیں زیارت میں ایک چھوٹی سی رہائش گاہ میں منتقل کیا گیا تاکہ بلوچستان کی خشک آب و ہوا ان کی صحت پر مثبت اثر ڈال سکے۔ ان کی حالت بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوتی گئی۔ ان کے آخری ایام انتہائی پریشانی میں گزرے۔ ان کی دیکھ بھال محترمہ فاطمہ جناح اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کر رہی تھی۔

یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ ’قائد اعظم‘ محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔
دس ستمبر 1948ء کو جناح صاحب کے ڈاکٹر نے فاطمہ جناح کو مطلع کیا کہ اب جناح کے صحت یاب ہونے کی امید نہیں ہے۔
غالباً اسی دن جناح پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ اس بے ہوشی کے عالم میں ان کی زبان سے بے ربط الفاظ ادا ہو رہے تھےکہ ’کشمیر۔۔۔ انھیں فیصلہ کرنے کا حق دو۔۔۔ آئین۔۔۔ میں اسے مکمل کروں گا۔۔۔ بہت جلد۔۔۔ مہاجرین۔۔۔ انھیں ہر ممکن۔۔۔ مدد دو۔۔۔ پاکستان۔۔۔‘

گیارہ ستمبر 1948ء کو جناح صاحب کو طیارے تک پہنچا دیا گیا۔ جب انھیں طیارے تک لے جایا جا رہا تھا تو عملے نے انھیں سلامی دی اور پھر سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جناح نے انتہائی نقاہت کے باوجود فوراً ہی ان کا جواب دیا۔ ان کے ہاتھ کی جنبش سے محسوس ہوتا تھا کہ بستر مرگ پر بھی ان کو نظم و ضبط کے تقاضوں کا مکمل احساس تھا۔
کوئٹہ سے کراچی دو گھنٹے میں سفر طے ہوا۔ دوران سفر بار بار آکسیجن دی جاتی رہی۔
طیارہ جناح کو لے کر سہ پہر سوا چار بجے ماری پور کے ایئر پورٹ پر اترا۔ جناح کی ہدایت پر انھیں لینے کے لیے آنے والوں میں نہ حکومت کا کوئی آفیسر تھا ، اور نہ کوئی لمبا چوڑا پروٹوکول ،
گورنر جنرل کے سٹاف نے انھیں سٹریچر پر ڈال کر فوجی ایمبولینس میں منتقل کیا۔ فاطمہ جناح اور دیگر لوگ ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔
جناح کی ایمبولینس نے صرف چار میل کا فاصلہ طے کیا تھا کہ اس کا انجن ایک جھٹکے کے ساتھ بند ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ایمبولینس کے پیچھے پیچھے آنے والی کار، سامان بردار ٹرک اور دوسری گاڑیاں بھی رک گئیں۔
قائد کی حالت بہت خراب تھی اور ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا جا سکتا تھا۔ فاطمہ جناح کے حکم پر ملٹری سیکریٹری اپنی کار میں ایک اور ایمبولینس لینے کے لیے روانہ ہوگئے۔یہ لمحات قائد اعظم کی جان بچانے کے لیے بہت اہم تھے۔
ڈاکٹر الٰہی بخش بار بار اپنے قائد کی نبض دیکھتے تھے جو بتدریج ڈوب رہی تھی۔دوسری ایمبولینس آئی اور بانی پاکستان شام چھ بج کر دس منٹ پر گورنر جنرل ہاؤس پہنچے۔ ایئر پورٹ سے رہائش گاہ تک کا نو میل کا فاصلہ جو زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ میں طے ہوجانا چاہیے تھا تقریباً دو گھنٹے میں طے ہوا۔
یہ تکلیف دہ سفر بانی پاکستان نے اس کسمپرسی کے عالم میں طے کیا کہ ہماری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے کے بعد جناح سوا چار گھنٹے بعد اپنے خالق سے جا ملے۔

فاطمہ جناح’مائی برادر‘ میں لکھتی ہیں: ’جناح نے دو گھنٹے کی پرسکون اور بے خلل نیند کے بعد اپنی آنکھیں کھولیں، سر اور آنکھوں سے مجھے اپنے قریب بلایا اور میرے ساتھ بات کرنے کی آخری کوشش کی۔ ان کے لبوں سے سرگوشی کے عالم میں نکلا: فاطی۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ لاالٰہ الاللہ محمد الرسول اللہ۔‘ پھر ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔

12 ستمبر 1948ء کو
قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ لاکھوں افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ کراچی میں قائد اعظم کی ارام گاہ ہے۔ قائد اعظم کا مزار تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتا ہے۔

قائدِاعظم محمد علی جناح ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتے تھے جو ایک فلاحی ریاست ہو، جہاں جمہوریت مضبوط ہو، اور ہر شہری کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کے مواقع ملیں۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں ہمیشہ قانون کی حکمرانی، مذہبی رواداری اور قوم پرستی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک قوم بن کر رہنا ہے اور ہر طرح کے لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔
ملک بھر کی مختلف تنظیموں اور سرکاری سطح پر قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے 11 ستمبر کو تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

قائد اعظم کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کے یوم وفات پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔

قائدِاعظم کا یوم وفات ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ایک عظیم رہنما کی قربانیوں کی بدولت ایک آزاد وطن حاصل کیا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے اصولوں پر عمل کریں اور ان کے خوابوں کا پاکستان بنانے کے لیے کوشش کریں۔ یہ دن صرف قائد کی وفات کا دن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن ہے کہ ہم بحیثیت قوم، قائدِاعظم کے وژن کو زندہ رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں