0

اسرائیل کی ابدی کہانی کا انجام/تحریر/ضیاء چترالی

اسرائیل کی ابدی کہانی کا انجام/تحریر/ضیاء چترالی

کیا کوئی جنگ انسانوں کے تصورات بدل سکتی ہے؟ کیا ایک معرکہ اخلاق، سیاست اور حقیقت کے معنی دوبارہ لکھ سکتا ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اپنی گہرائی میں وہ اس توازن کو جھنجھوڑ دیتا ہے جو طویل عرصے سے ’’اخلاق‘‘ اور ’’طاقت‘‘ کے درمیان قائم سمجھا جاتا تھا۔
اسرائیل کی پوری تصویر، جو 1948ء میں عرب دنیا کے قلب میں ایک سیاسی پودے کے طور پر لگایا گیا، دراصل ’’ہمیشہ کے مظلوم‘‘ کی کہانی پر کھڑا تھا۔ وہ ملک جو نازی ازم کی راکھ سے اٹھا اور اپنے لیے ایک ایسی پناہ گاہ بنائی جس کا مقصد تاریخ کے زخموں کا ازالہ تھا۔ لیکن ہیگل کے بقول ’’تاریخ خود کو دہراتی ضرور ہے، پہلے المیے کی صورت، پھر تماشے کی شکل میں۔‘‘
فلسطین کی طویل المیہ داستان، نکبت سے لے کر آج تک، بتاتی ہے کہ جو قوم اپنے زخموں سے صلح نہیں کرتی، وہ وقت گزرنے کے ساتھ خود جلاد بن جاتی ہے، ایسا جلاد جو اپنے چہرے کو آئینے میں دیکھنے سے ڈرتا ہے۔
غزہ پر حالیہ جنگ نے دنیا کی آنکھوں سے پرانی پٹی ہٹا دی ہے۔ اب وہ پرانی دلیل ’’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے‘‘ زمین بوس ہو چکی ہے۔ اب دنیا غبار کے درمیان ماں کی چیخ سنتی ہے جو اپنے بچے کو ڈھونڈ رہی ہے، یا کسی چھت کے نیچے دبے بچوں کو جو بھوک سے دم توڑ دیتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب کہانی کا مرکز تل ابیب یا واشنگٹن نہیں رہا، بلکہ ملبے کے نیچے دبے انسان بن گئے۔ اسرائیل پہلی بار طاقت کا استعارہ تو بنا، مگر اپنی اخلاقی سمت کھو بیٹھا۔
اب مفہوم بدل گیا ہے: ہولوکاسٹ سے غزہ جینوسائڈ تک۔
تاریخ کے ایک تلخ تضاد میں وہ قوم جو کہتی تھی ’’ہولوکاسٹ دوبارہ نہیں ہوگا‘‘ اسی خوف کے نام پر ایسی سفاکی برپا کر رہی ہے جس نے ہولوکاسٹ کے تصور کو ایک نئے رُخ سے زندہ کر دیا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ’’یادداشت‘‘ اور ’’طاقت‘‘ کی گتھی کھلتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی یادوں کو تنقید سے اوپر رکھ دیتی ہے، تو وہ یادداشت سبق نہیں رہتی، بلکہ جواز بن جاتی ہے اور طاقت کے لیے ڈھال۔
فلسفی ’’حنة آرنت‘‘ نے کہا تھا کہ ’’بدی اکثر معمولی ہوتی ہے‘‘ یعنی بڑے جرائم کسی درندے کے نہیں، بلکہ ایک ایسے ملازم کے ہاتھوں ہوتے ہیں جو محض ’’اپنا فرض‘‘ نبھا رہا ہوتا ہے۔
غزہ میں یہی ’’عام بدی‘‘ پوری وضاحت سے دیکھی گئی: ایک پائلٹ بم گراتا ہے، ایک تجزیہ کار ٹی وی پر وضاحت دیتا ہے، اور ایک ترجمان کہتا ہے ’’پورا محلہ مٹانا ضروری تھا کیونکہ وہاں دہشت گرد چھپے تھے۔‘‘
ہولوکاسٹ کو مغربی ذہن میں اسرائیل کی اخلاقی سند کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، لیکن غزہ نے وہ پردہ چاک کر دیا۔ اب دنیا تصویروں کو لفظوں میں نہیں ڈھانپ سکتی، بچے جلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، لاشیں ملبے تلے برآمد ہو رہی ہیں۔
نوم چومسکی نے درست کہا تھا کہ مغربی میڈیا جرائم کے الفاظ کو ’’جراثیم کش‘‘ بناتا ہے، قتل کو ’’دقیق آپریشن‘‘ اور قتلِ عام کو ’’ضمنی نقصان‘‘۔ مگر اب دنیا نے لفظوں کو ان کے اصل معنی لوٹا دیئے ہیں۔
اب وہ اسرائیل جو ہمیشہ مظلوم بن کر بولتا تھا، خود ظالم کی جگہ پر کھڑا ہے اور وہ فلسطینی جو اپنی کہانی کبھی سنا نہ سکے، اب اپنے لہو سے لکھ رہے ہیں۔
اسرائیلی بیانیے کا زوال
1948ء میں قیام کے بعد سے اسرائیل نے اپنی پہچان تین ستونوں پر قائم رکھی: خوف، براءت، اور ضرورت۔
خوف بطور جواز
براءت بطور ڈھال
اور ضرورت بطور دفاع
مگر اب یہ تینوں ستون ایک ایک کر کے گر رہے ہیں۔
دنیا جو کبھی اسرائیل کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت‘‘ سمجھتی تھی، اب اسے ایک نسل پرست، قابض، اور نوآبادیاتی منصوبہ دیکھ رہی ہے۔
طاقت جو کبھی ’’حیات کی محافظ‘‘ تھی، اب ’’زندگی کی قاتل‘‘ بن چکی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب سلافوئے ژیژک کے الفاظ میں ’’خیالی ساخت کا انکشاف‘‘ ہوتا ہے، یعنی وہ مصنوعی بیانیہ جو اسرائیل کو مظلوم اور عقل مند دکھاتا تھا، اب اپنی حقیقت کے بوجھ تلے دب گیا ہے۔
حقیقت نے داستان کو شکست دی۔
اب تل ابیب کی ترجمانی نہیں، بلکہ غزہ کے ملبے نے دنیا کو قائل کیا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس بیداری میں انقلابی کردار ادا کیا۔
اب ’’عوام‘‘ پہلے کی طرح صرف قاری اور محض سامع نہیں، بلکہ شاہد بھی ہیں اور منصف بھی۔
تصویروں اور ویڈیوز کا سیلاب کسی بھی ریاستی بیانیے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔
اسرائیل کی کہانی اب کسی سیاسی تقریر سے نہیں، ایک انسانی منظر سے ٹوٹی ہے۔
دنیا کا اخلاقی انکشاف
غزہ کی جنگ نے صرف اسرائیل کو نہیں، مغرب کو بھی آئینہ دکھا دیا ہے۔
جو دنیا یوکرین کے لیے ’’انسانیت‘‘ کا نعرہ لگاتی ہے، وہ غزہ کے لیے خاموش کیوں ہے؟
جو قانون روسی قبضے کے خلاف بولتا ہے، وہ اسرائیلی قبضے پر کیوں چپ ہے؟
چومسکی نے اسے ’’منظم منافقت‘‘ کہا ہے جب انصاف صرف مخصوص جغرافیے میں لاگو ہوتا ہے۔
اب مغربی اخلاقیات کا کھوکھلا پن عیاں ہو گیا ہے۔
’’انسانی حقوق‘‘ کا پرچم طاقت کے توازن کا پردہ بن چکا ہے۔
جو اقدار ظلم سے لڑنے کے لیے پیدا ہوئیں، وہ خود ظلم کے دوام کا ہتھیار بن گئی ہیں، بشرطِ یہ کہ ظالم، مغرب کا حلیف ہو۔
اسرائیل بطور آئینہ
پہلی بار مغربی دانشور اسرائیل کو ایک استثنائی ’’مظلوم ملک‘‘ کے بجائے ایک استعماری ماڈل کے طور پر دیکھ رہے ہیں یعنی مغربی تسلط کی نئی شاخ۔
اسرائیل اب جمہوریت کا قلعہ نہیں، بلکہ مغرب کی اپنی اخلاقی کمزوریوں کا عکس ہے: طاقت کی پوجا، اور ’’تہذیبی برتری‘‘ کا جواز۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ اسرائیل کیا کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ’’کیا ہم خود اسرائیل جیسے بن گئے ہیں؟‘‘
یہ سوال خطرناک ہے کیونکہ یہ سیاسی بحث سے بڑھ کر اخلاقی احتساب کا دروازہ کھولتا ہے۔
جب اسرائیل مظلوم کا لباس اتارتا ہے تو مغرب کا سامراجی چہرہ نمایاں ہو جاتا ہے، ایک ایسا چہرہ جو اپنی برتری کو انصاف کے نام پر بیچتا ہے۔
یہ اب محض اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید نہیں رہی، بلکہ صہیونی نظریے کی بنیاد پر سوال اٹھ چکا ہے، وہ نظریہ جو نجات کے لیے دوسرے کی نفی پر کھڑا ہے۔
عالمی بیداری کا نیا دور
امریکی جامعات سے یورپی سڑکوں تک، اور لاطینی فنکاروں سے کینیڈین طلبہ تک، ایک نیا شعور جنم لے رہا ہے۔
یہ محض سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی بغاوت ہے، ان اقدار کے خلاف جنہیں طاقت نے مسخ کر دیا ہے۔
نئی نسل فلسطین کو کسی ’’مسلم مسئلے‘‘ یا ’’عربی قضیے‘‘ کے طور پر نہیں، بلکہ انسانیت کے معیار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
جودیت بٹلر کے الفاظ میں، وہ جان چکے ہیں کہ دنیا میں کچھ زندگیاں ’’قابلِ ماتم‘‘ سمجھی جاتی ہیں اور کچھ نہیں اور یہ تقسیم ہی ظلم کی جڑ ہے۔
اب خاموشی، غیرجانبداری نہیں رہی، جرم میں شرکت بن گئی ہے۔
سیاسی رہنما پرانے نعرے دہرا رہے ہیں، مگر شعور کی سطح پر انقلاب آ چکا ہے۔
فلسطین اب مسئلہ نہیں، پیمانہ ہے، انسانیت کے امتحان کا پیمانہ۔
کیا عالمی ضمیر ملبے کے نیچے سے جنم لے سکتا ہے؟
شاید یہی انسانیت کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
غزہ نے عسکری نہیں، بلکہ اخلاقی فتح حاصل کی ہے۔
اس نے ثابت کر دیا کہ طاقت کبھی معصوم نہیں ہوتی اور مظلوم ہمیشہ بے اختیار نہیں رہتا۔
اس نے دنیا کو اپنی صورت میں جھانکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اب اسرائیل صرف ایک ملک نہیں، ایک سوال بن چکا ہے:
کیا مظلوم کا دکھ جوازِ ظلم بن سکتا ہے؟
نقاب اتر چکا ہے، طاقت، اخلاق نہیں دیتی
اور نجات، جب دوسروں کی بربادی پر قائم ہو، تو وہ بھی جرم بن جاتی ہے۔
غزہ کی تصویروں میں دنیا نے خود کو دیکھا۔
ایک ایسا انسان جو اپنی تہذیب پر نازاں ہے مگر اپنی انسانیت سے شرمندہ۔
یہ جنگ صرف غزہ پر نہیں، انسان کے اپنے چہرے پر لڑی گئی ہے۔
اور شاید ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی، مگر ایک چیز ٹوٹ چکی ہے۔
وہ اندھا یقین کہ طاقت ہی سچ ہے۔
دنیا اب اسرائیل کو نہیں، خود کو نئے نظر سے دیکھ رہی ہے۔
ملبے اور آئینے کے درمیان انسانیت کھڑی ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب سچ پیدا ہوتا ہے۔
نہ صرف غزہ کے بارے میں، بلکہ اس سوال پر کہ
’’ہم واقعی انسان ہیں یا نہیں۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں