
سوچ اور عمل قرآن کریم اور عصری علوم فکر میں دو علمی بیانات ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں سوچ عمل پر غالب آتی ہے، اور عمل زیادہ تر صورتوں میں سوچ پر غالب ہوتا ہے، اور دوسری صورتوں میں عمل سوچ اور احتمال پر قطعیت کی صورت میں غالب ہوتا ہے۔لفظ “فکر” قرآن میں اڑسٹھ بار آیا ہے: سینتالیس فعل کے طور پر استعمال ہوا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ احساس کا ایک علمی عمل ہے، اور بائیس مرتبہ اسم کے طور پر استعمال ہوا ہے، جو ایک جگہ مثبت اور باقی ان میں سے تمام منفی معنی میں مستعمل ہوا ہے۔لفظ سوچ مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔* غور و خوض، معاملے کے مختلف پہلوؤں یا نتائج پر گہری نظر ڈالنے کی صلاحیت، فکر۔* حُزن، ملال، افسوس یا تعجب وغیرہ کے ساتھ کسی بات کا دھیان، فکر۔* تردّد، تامل، تذبذب۔* ہمہ وقت دھیان، تصور، دُھن، خیال۔* تخیل، سمجھ بُوجھ، خیال (جو غور و فکر کا نتیجہ ہو)۔* وہ رُخ جس سے کسی بات کو سوچا سمجھا جائے، طریقِ فکر، اندازِ خیال۔یہاں پر ایک قائدہ بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ لفظ کی نسبت بدلنے سے لفظ کے معنی بدل جاتے ہیں۔اللہ تعالی نے قرآن کریم سورت حجرات آیت نمبر 12 میں فرمایا اے ایمان والو زیادہ غور و فکر سے بچو بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔یہاں ظن کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ اچھے اور صالح لوگوں پر بغیر دلیل و ثبوت کے برا گمان کیا جائے۔سفیان الثوری فرماتے ہیں کہ بدگمانی دو قسم کی ہے: ان میں سے ایک گناہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ تم اس کے بارے میں سوچتے ہو اور بولتے ہو، اور دوسرا یہ کہ گناہ نہیں ہوتا، اور وہ یہ ہے کہ تم سوچتے ہو اور بولتے نہیں ہو۔بعض علماء فرماتے ہہیں کہ گمان کی کئی قسمیں ہیں: ان میں سے بعض واجب ہیں، بعض حرام ہیں اور بعض جائز ہیں۔پس جو چیز حرام ہے وہ ایک مسلمان کے بدگمانی کے مترادف ہے جس کی حالت مخفی ہو اور جو بظاہر عادل ہو، حدیث مبارک میں ہے: “شک سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ فریب والی بات ہے…” اور ایک دوسری حدیث میں ہے:ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ایک بار کعبۃ اللہ پر نظر ڈالتے ہوئے فرمایا: اے اللہ کے گھر تجھے خوش آمدید، تو کس قدر عظمت والا اور تیری حرمت کسی قدر عظیم ہے، مگر اللہ کے نزدیک مومن کی حرمت تیری حرمت سے بڑھ کر ہے، اللہ نے تیری ایک چیز کو حرمت والا اور مقدس بنایا ہے، اور مومن کی تین چیزوں کو حرمت والا و مقدس بنایا ہے، اس کی جان کو، اس کے مال کو، اور یہ کہ کوئی اس کے بارے میں بدگمانی نہ کرے۔ابن کثیر لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بہت سے خیالات و شبہات سے روکتا ہے، جو کہ اہل و عیال، رشتہ داروں اور بغیر مناسب جگہ کے لوگوں پر تہمت لگانا اور خیانت کرنا ہے، کیونکہ اس میں سے بعض گناہ صریح ہیں، لہٰذا احتیاط کے طور پر اس سے کثرت سے پرہیز کریں۔ حارثہ بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں میری امت کی لازمی چیزوں میں سے ہیں بد شگونی حسد اور برا گمان ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کون سی چیز ان کو ختم کرسکتی ہے جس میں یہ تینوں چیزیں پائی جائیں ؟ آپ نے فرمایا جب تو حسد کرے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور جب تو گمان کرے تو اس کو تحقیق نہ کر اور جب تو بد شگونی کرے تو اس سے گزر جا (یعنی اس کی طرف التفات نہ کر) خیال انسان کے ذہن میں مجبوری اور اختیار کے بغیر پیدا ہوتا ہے۔ اس انتباہ کا مقصد برے شکوک و شبہات کی مزاحمت کرنا ہے، جو ان کی درست علامات کا معیار ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ “اگر تم سوچو تو تصدیق نہ کرو” کہ اچھا اندازہ جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے قابل ستائش نہیں ہے کیونکہ اس سے وہ نقصان ہو سکتا ہے جو اس کے نقصان کو محدود نہیں کرتا، جیسے کہ احتیاط کی جگہ پر دھوکہ کھا جانا اور اس کی مثال پر عمل کرنا۔ہمارا ذہن گمان و سوچ بنانے کا گھر ہے جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی خیال گردش کرتا رہتا ہے۔ ہم کچھ نہ کچھ سوچتے ہی رہتے ہیں، کبھی اچھا کبھی برا، کبھی مثبت اور کبھی منفی۔ مثبت سوچ کا نتیجہ بھی ہمیشہ مثبت نکلتا ہےاور منفی کا الٹا ہی۔ کامیاب زندگی، مثبت خیال اور رویوں سے ہوتی ہے جب کہ ناکام زندگی منفی فکروں اور روشوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ خیال انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتا ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر تخیل سے جنم لیتا ہے اور سوچ پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ایک منفی سوچ کا حامل شخص منفی عمل کو جنم دیتا ہے جبکہ مثبت سوچ کا حامل شخص تعمیری فعل انجام دیتا ہے۔ ہماری زندگی پر ہماری سوچ اور خیالات مستقل طور پر اثر انداز ہوتے ہیںیعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو آپ کر سکیں گے اور اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ نہیں کر سکتے تو کچھ بھی کر لیں آپ وہ کام نہیں کر سکیں گے جس طرح اللہ کا فرمان ہے جیسے تم گمان کرتے ہو ویسا ہی تمہارے ساتھ ہوتا ہےسوچ سے خیال، خیال سے نظریہ، نظریہ سے مقصد، مقصد سے تحریک، تحریک سے جستجو اور جستجو سے کامیابی جنم لیتی ہے۔جیسے ایک بات مشہور ہے پاؤں کی موچ اور بری سوچ بندے کو زندگی میں آگے نہیں بڑھنے دیتیں۔تخیلات کا زاویہ فکر اور عمل کی ہیئت کو بدل کر رکھ دیتا ہے ۔ جیسے برستی بارش کے قطرے سیپ اور سانپ کے منہ دونوں پر گرتے ہیں لیکن سیپ اس قطرے کو موتی اور سانپ زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی معاملہ مثبت اور منفی سوچ کا ہے۔ انسان کے لیے قابلِ ستائش فکر گمان خیال سوچ یہ ہے کہ جب وہ خود اپنی ذات کا محاسبہ کرنا شروع کرے گا تو کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کو بھی یاد رکھے گا اور اپنی کی گئی غلطیوں کتاہیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت میں بد ل دے گا پھر اس کی زندگی خوش حال راحت سکون والی گزرے گی لہذا کوشش کیجیے اچھا سوچیے اور اس پر عمل کیجیے اور معاشرے کو اپنی فکر و عمل ، سوچ و کردار سے امن والا بنائیے پہلے خود عمل کیجیے پھر دوستوں کو دعوت دیجیے اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے