حکیم الامت علامہ محمد اقبال مرحوم نے فرمایا تھا:
شہادت ہے مطلوب و مقصود مؤمن
نہ مال غنیمت، نہ کشور کشائی
ایک مؤمن آدمی کے لیے جام شہادت نوش کرنا، جام شراب نوش کرنے سے ہزاروں درجے افضل ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ شراب نوش وقتی طور پر چند گھڑیوں کے لیے دنیا و مافیہا سے لاتعلق ہو جاتا ہے جب کہ جام شہادت پینے والا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لذت و سرور میں ڈوب جاتا ہے۔ دنیاوی لذتیں فنا ہونے والی ہیں لیکن آخرت کی لذتیں لافانی و لازوال ہیں۔ شرابی سے ہر کوئی نفرت کرتا ہے جب کہ شہید سے اللہ رب العزت محبت فرماتے ہیں اور جس سے رب کائنات محبت کرنے لگیں، ساری مخلوق اس کی دیوانی ہو جاتی ہے۔ شہید کے لیے اتنے زیادہ انعامات و فضائل کا اعلان لسان نبوت سے کیا گیا ہے کہ عام انسان ان کا تصور کرنے سے قاصر ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود اپنے لیے بار بار شہادت کی دعا مانگی۔
شہادت کے کئی ایک لغوی معانی ہیں مثلاً قطعی، گواہی دینے والا، حاضر ہونے والا، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی جان سے گزرنے والا وغیرہ وغیرہ۔ شریعت کی اصطلاح میں شہید وہ ہوتا ہے جو کفار کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی جان سپرد خدا کر دے۔ علماء کرام نے لکھا ہے، شہید کو شہید کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی زیارت کے لیے فرشتے اور جنت و اہل جنت حاضر رہتے ہیں۔ بعض نے لکھا ”چونکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں ایک وعدہ کیا ہے کہ تم اللہ رب العزت کو اپنی جان و مال بیچ دو، بدلے میں وہ تمھیں جنت عطا فرمائے گا۔ تو جو مؤمنين اللہ تعالیٰ سے یہ سودا کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان سے وعدہ پورا کرتا ہے۔ اسی لیے ان لوگوں کو شہید کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اپنی جان کے ذریعے گواہی دے دی ہے۔” بعض نے کہا کہ شہید کے اخلاص کی گواہی روز قیامت ان کے بدن سے بہنے والا خون دے گا کہ انھیں خون میں لت پت ہی اٹھایا جائے گا، اس لیے انھیں شہید کا لقب عنایت فرمایا گیا ہے۔
شہید کا اطلاق بہت سے افراد پر کیا جا سکتا ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ نے تیس کے قریب افراد کو شہید کا مصداق قرار دیا ہے مثلاً: رضائے الٰہی کے لیے جان دینے والا، پانی میں ڈوب کر مر جانے والا، کسی آسمانی آفت سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری، ہیضہ، طاعون سے مرنے والا، چھت سے گر کر یا دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مرنے والا، مال کی حفاظت کرتے ہوئے ڈاکوؤں کے ہاتھوں ہلاک ہو جانے والا، آگ سے جل کر راکھ ہو جانے والا، جمعہ کی رات دنیا سے رخصت ہونے ولا، علم کی راہ میں چلتے ہوئے انتقال کر جانے والا اور وہ عورت جو وضع حمل کی تکلیف میں دنیا سے رخصت ہو جائے وغیرہ۔ پہلی قسم کا شہید (اللہ تعالیٰ کے راستے میں کفار سے لڑتا ہوا مارا جانے والا شخص) شرعاً شہید کہلاتا ہے اور اس پر شہید کے ہی احکام جاری ہوتے ہیں۔ یعنی بغیر کفن اور غسل دیے، بوقت شہادت پہنے خون میں لت پت لباس کے ساتھ ہی جنازہ پڑھ کر دفن کر دینا۔ جب کہ بقیہ اقسام کے شہداء کو ”شہید” تو کہا جاتا ہے لیکن ان پر شہید کے احکامات جاری نہیں ہوتے۔ انھیں نیا کفن دے کر غسل کروا کر دفن کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کا بہت زیادہ مرتبہ ہے۔ جن کا تذکرہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بکثرت وارد ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ شہید کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انھیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں باقاعدہ رزق دیے جاتے ہیں۔ اب اس رزق کی کیفیت کیا ہے؟ ہم اس سے لاعلم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی شہداء کے بارے میں ہمارے شعور کی نفی فرما دی ہے۔ کیوں کہ ہماری محدود عقل اللہ خالق کائنات کے لامحدود رازوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے محبوب اور افضل ترین چار قسم کے افراد کی فہرست جاری کی ہے جن میں تیسرے نمبر پر شہداء کرام کا تذکرہ ہے۔ پہلے نمبر پر انبیاء کرام، دوسرے پر صدیقین حضرات ہیں۔ شہداء کرام سے آخرت میں کسی قسم کا حساب کتاب نہیں لیا جائے گا۔ ان کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ حدیث مبارکہ کے مطابق شہداء انبیاء کرام سے محض ایک درجہ نیچے ہوں گے۔ ان کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں میں ڈال کر جنت میں آزادانہ چھوڑ دی گئی ہیں، ان کا جہاں جی چاہتا ہے، چلے جاتے ہیں۔ وہ ان قندیلوں میں قیام کرتے ہیں جو عرش کے سائے میں معلق ہیں۔ ان لوگوں کو اگر دنیا میں بھیجا جائے تو ان کی دوبارہ تمنا یہی ہوگی کہ وہ اسی طرح اپنے رب کے لیے لڑتے ہوئے مارے جائیں۔ کیوں کہ شہادت ایسی پر لطف نعمت شاید اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی نہیں کی۔ تبھی تو انبیاء کرام بھی اس کی تمنا اور دعائیں کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے ان شہدا کی قبروں پر جنھوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے وطن، ملت اور دین کو بچا لیا کہ آج ہم سکون سے اپنے اپنے گھروں میں فروکش ہیں۔ وطن عزیز پاکستان انھی سرفروش و سر بلند جماعت کی جانوں کے بدلے دیا گیا انعام ہے جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں ہم بھی محفوظ ہیں اور ہماری نسلوں کا مستقبل بھی تابناک ہے۔ ورنہ مکار دشمن تو کب کے تاک میں ہیں ہم سے ہماری پہچان چھیننے کے لیے۔
اے شہیدو! تمھارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوئے!!
ظلم سہتے رہے ہیں بڑی دیر تک
آج بدلہ چکانے کے قابل ہوئے