314

قادیانیوں کا بائیکاٹ وقت کی ضرورت ہے /تحریر محمد ناظم، اوکاڑہ

Muhammed Nazim, Okara


محمد ناظم متعلم البیان اکیڈمی آن لائن


نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے:
انالرِّسالته والنُّبُوَّته قد اِنقطعت فلا رسولٌ بعدی ولا نبیٌّ
(“ترمذی شریف ص: 51 ج: 6”)
” حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”رسالت و نبوت ختم ہو چکی ہے ، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی”۔

پروردگار عالم نے ہنگامہ زندگی بر پا کرنے کے لیے اس چمن میں جب حضرت انسان کو آباد کیا تو انبیا ء کرام کو ان کی رہنمائی کے واسطے مبعوث فرمایا۔ اس مبارک سلسلہ کا آغاز سیدنا آدم علیہ السلام سے فرما کر جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا۔ اب قیامت تک کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ دین اسلام میں اس عقیدہ کو “عقیدہ ختم نبوت” کہتے ہیں۔

یہ زمانہ قرب قیامت کا ہے ہر روز نت نئے فتنے رونما ہو رہے ہیں۔ جن میں سے ایک “فتنہ قادیانیت” بھی ہے ۔ اس فتنہ کے شر اور بھیانک نتائج کو دیکھتے ہوئے 7 ستمبر 1974ھ کو اس وقت کی حکومت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ لیکن … قادیانی ابھی تک خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی ریشہ دوانیاں مسلسل جاری ہیں۔ وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، امت مسلمہ کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ان کی مادی قوت اور مالی وسائل میں روز افزوں ترقی کا انحصار مسلمانوں کے استحصال پر ہے اور وہ سیاسی و اقتصادی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ان کی سیاسی و عسکری تنظیمیں موجود ہیں۔ جن کے تحت ہونے والی سرگرمیاں ملت اسلامیہ کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت بڑا خطرہ ہیں۔ اسلام دشمن بیرونی طاقتوں مسیحی،
یہودی حکومتوں سے بڑے قوی رابطے ہیں۔
الغرض مسلمانوں کے لیے دینی، سیاسی، معاشی، اقتصادی اور معاشرتی اعتبار سے ان کا طرز عمل سنگین خطرات کا باعث ہے۔ ان کی وجہ ایک اسلامی ریاست کو بغاوت کا اندیشہ لاحق ہے۔ ان نازک حالات میں بے بس مسلمانوں کو اس فتنے کی روک تھام اور اس جماعت کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر قدغن لگانے کے لیے ان سے مکمل بائیکاٹ کرنا ضروری ہے۔ ورنہ اس فتنے کی سلگائی آگ میں ملت اسلامیہ اور وطن عزیز کے پرامن گوشے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

فضائیں ظلمت گستاخ کی لپیٹ میں ہیں
اٹھو کہ عشق رسالت کا اہتمام کریں

چنانچہ اس شر سے بچنے کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر اس جماعت سے برادرانہ تعلقات ختم کر دینا از بس ضروری ہیں۔ ان سے سلام و کلام، میل جول، نشست و برخاست، خوشی غمی میں شرکت نہ کی جائے۔ بلکہ ان سے معاشرتی سطح پر مکمل مقاطعہ کیا جائے۔ ان سے تجارت، لین دین اور خرید و فروخت سے مکمل پر ہیز کیا جائے۔ ان سے اقتصادی ربط و تعلق ختم کرکے ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے مال نہ خریدا جائے۔ اور نہ ہی ان سے رواداری برتی جائے۔ ان کی تعلیم گاہوں، ہوٹلوں میں جانا گویا کہ اپنے محسن و غم خوار نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تکلیف دینا ہے۔
اے مسلماں جب تو نبی کے دشمن مرزائی سے ملتا ہے، تو گنبد خضری میں دل مصطفے رکھتا ہے۔

نیز ان کی دیگر مصنوعات جیسے شیزان (بوتل، جوس، اچار، کسٹرڈ)، پنجاب آئل ملز، لمیٹڈ (ذائقہ گھی، کوکنگ آئل اور کینو لیو بنا سپتی گھی “O.C.S” کوریر سروس، یونیورسل اسٹیپلائزر، شاہ نواز فلور ملز، شاہ نواز ٹیکسٹائل ملز، شاہ تاج شوگر ملز کیوریٹو، وارسن (ہومیو پیتھک ادویات)، الرحیم جیو لرز کراچی ، رومی ٹریولز کینٹ اسٹیشن کراچی، مشموم (ادویات ، جوس، جام) بیٹا پائپ ، قاضی دواخانہ چک چٹھہ ( گوجرانوالہ ، حافظ آباد) ان سب مصنوعات کا استعمال نہ کیا جائے۔ کیوں کہ تمام مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے انہیں راہ راست پر لانے کے لیے ان سے سوشل بائیکاٹ کو یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں اور کوئی چارہِ اصلاح موجود نہیں۔

ویسے تو تعزیرات قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے رعایا کی نہیں۔ لیکن اگر حکومت والے غفلت کی نیند سو رہے ہوں اور معاشرے میں جرائم اور معاصی کے ارتکاب سے بگاڑ پیدا ہونے لگ جائے توان جرائم پیشہ لوگوں سے ان کی اصلاح کی غرض سے قطع. تعلقی کرنا نہایت ہی پُرامن ، بے ضرر اور مؤثر ذریعہ ہے اور یہ بائیکاٹ قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے۔ قرآن پاک میں ہے. ” اذا سمعتم آیت الله يكفر بها ويستهزأ بھا فلا تقعد وا معهود (سورہ نساء : آیت ۱۴۰) یعنی جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دو –
اور “سورۃ المائدہ آیت 51” میں ہے
یٰٓایّھا الذین امنو لا تتخذواالیهود والنصٰرٰی اولیآءَ”
٫٫یعنی اے ایمان والو تم یہود و نصاری کو اپنا دوست مت بناؤ،،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
” آخری زمانہ میں کچھ لوگ کذاب ، دجال بہت دھوکے باز آئیں گے وہ تم سے ایسی باتیں کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے باپ دادا نے ۔ لہٰذا اے میری امت ! تم ان کو اپنے سے بچاؤ. اور اپنے آپ کو ان سے بچاؤ، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ “
(مسلم شریف ج : 1 ص : 10 باب النھی عن الرواية )
مخدوم الاولیاء سیدنا امام ربانی خواجہ مجدد الف ثانی نے فرمایا ! تاجدارِ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے کمالِ محبت کی علامت یہ ہے کہ آقا نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ساتھ کمالِ بغض و عداوت ہو۔ ( مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ۱۶۵ ج 1 )
شفیع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل کرنے کا یہی ایک راستہ ہے ۔ اگر اس راستہ کو چھوڑ دیا جائے تو اس دربار تک رسائی ناممکن ہے۔ کیوں کہ

بمصطفے برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر باد نرسیدی تمام بو لہبی ست

سیدنا ابن مبارک کی وفات کے بعد کسی شخص کو خواب میں آپ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ تو اس نے عرض کی: “حضرت! خدا تعالی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟” تو فرمانے لگے “الله نے مجھے عتاب فرمایا اور مجھے تیس سال (ایک روایت میں ہے تین سال) کھڑے کیا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ ایک دن میں نے ایک بد مذہب کی طرف شفقت سے دیکھا تھا۔ اللہ نے فرمایا :” اے ابن مبارک تو نے میرے دین کے دشمن کے ساتھ دشمنی کیوں نہیں کی؟”
(روح البیان ج: ص: ۴۱۹ )

پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جو دِیدہ و دانِستہ دین کے دشمنوں کے پاس بیٹھتا ہے۔
میرے پیارے مسلمان بھائیو! نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بھولے بھالے امتیو ! ہوشیار ، خبردار ان آستین کے سانپوں سے اپنے ایمان کو بچائیں۔ اور اپنے ، بیگانے کی پہچان کریں۔
خدا ہمیں دوست اور دشمن کی پہچان نصیب کرے ۔ آمین
” گر قبول افتد زہے عز و شرف”


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں