(یہ ایک فرضی اور اصلاحی کہانی ہے, کرداروں کے نام فرضی ہیں۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہوش : آپی چلیں تیار ہو جائیں, پارٹی میں جانا ہے۔
سارہ : کون سی پارٹی؟ کب ہے؟ کہاں ہے؟
مہوش : آپی بتایا تو تھا آپ کو, کنول والوں کے گھر بار بی کیو پارٹی ہے۔ بہت مزہ آنے والا ہے, اوپر چھت پہ انتظام کیا ہوا ہے انہوں نے اور میوزک بھی ہوگا۔ چلیں جلدی کریں تیار ہو جائیں۔
سارہ : mix gathering ہوگی؟
مہوش : oh come on aapi! don’t be so mulyani. Stay away from these things.
سارہ : don’t be so over confident, if u don’t know about Islam.
مہوش : امی ہی سمجھائیں گی آپ کو!
امی کہاں ہیں آپ؟ آپی نہیں مان رہی۔ آپ ہی سمجھا دیں (مہوش دور دور سے ہی زور زور سے بولتی ہوئی جا رہی تھی۔)
امی : کیا؟ نہیں مان رہی! اُف اس لڑکی کو کیا ہوگیا ہے!
(امی سارہ کے پاس:)
امی : بیٹا اٹھو تیار ہو جاؤ۔ ہم نے جانا ہے۔
سارہ : امی وہاں mix gathering ہوگی؟
امی : ہاں شاید,تو کیا سب بھاگ جائیں؟
سارہ : بس صحیح ہے پھر میں نہیں جا رہی, میں اس طرح comfortable نہیں ہوتی۔
امی : کیا ہوگیا ہے تمہیں پہلے تو اس طرح نہیں کہتی تھی؟
سارہ : جی امی جب سے اپنے دین کو جاننا شروع کیا ہے, تب سے۔
امی : تو کیا دین تمہیں ہٹ کٹ کے رہنا سکھاتا ہے؟
سارہ : نہیں دینِ اسلام صرف گناہوں سے دور رہنا سکھاتا ہے۔
امی : تو پارٹی میں چلنے پہ گناہ کیا ہے؟
سارہ : ٹھیک ہے پھر عبایا اور نقاب پہنوں گی۔
امی : خبردار جو میری ناک کٹوائی ہے تم نے!
(سارہ کی والدہ نے اتنے کڑک لہجے میں بولا تھا کہ,سارہ ہِل کہ رہ گئی۔)
سارہ : تو امی میں پھر کیا کروں؟ (دکھ, بے بسی اور بیزاری کی ملی جُلی کیفیت تھی اس کی۔)
امی : ویسے ہی تیار ہو کہ چلو, جس طرح مہوش چلتی ہے۔
سارہ : سوری امی۔ میں اس طرح نہیں چل سکتی۔
امی : تمہارا دین تمہیں ماں کی نافرمانی کرنا سکھاتا ہے؟
سارہ : امی میں آپ کی نافرمانی کہاں کر رہی ہوں؟ میں صرف اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
مہوش : آپی نے تو جب سے دین پڑھا ہے, پتہ نہیں انہیں کیا ہوگیا ہے؟
سارہ : جب بات سمجھ میں نا آۓ تو بیچ میں بولنا نہیں چاہیے۔ ماحول کو کیوں خراب کر رہی ہو؟
مہوش : رہنے دیں امی, آپی کو یہیں پہ۔ اکیلی ہوجائیں گی تو خود ہی اندازہ ہوجاۓ گا انہیں کہ, دنیاداری کیا ہوتی ہے۔ ہر وقت دین دین دین, ہم تو جیسے مسلمان ہی نہیں ہیں۔
سارہ : فضول بولنا ضروری تھا؟
امی : تمہیں تمیز نہیں ہے سارہ؟ اس طرح بات کرتے ہیں چھوٹی بہن سے! ٹھیک ہے مطلب نہیں چل رہی تم؟
سارہ : نہیں امی۔
امی : اکیلی رہ جاؤ گی, ابھی تو یہاں لیکن اگر یہی سلسلہ رہا تمہارا تو پوری دنیا میں اکیلی رہ جاؤ گی, یہ یاد رکھنا۔
(الفاظ بہت سخت تھے بجلی بن کہ گرے تھے سارہ کے اوپر!)
سارہ : جو اللہ کے ساتھ کو پا لیتا ہے, وہ کبھی اکیلا نہیں رہتا۔
امی : بڑی بڑی باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا, یہ دنیا ہے یہاں دنیاداری چاہیے۔ سوچ لو؟
سارہ : سوچ لیا۔
(سارہ کی امی نے زور سے دروازہ بند کیا اور مہوش بھی ساتھ تھی۔)
سارہ کو سمجھ نا آیا کہ, اس کا قصور کیا ہے؟
(اس کے بعد کئی دنوں تک سارہ کی والدہ کا رویہ سارہ کے ساتھ سخت قسم کا اور کچھ ناراض قسم کا تھا, سارہ ایک دن اپنی امی کے کمرے میں گئی:)
سارہ : السلام علیکم امی, میں اندر آؤں؟
امی : ہمممممم
سارہ : امی آپ مجھ سے کیوں ناراض ہیں؟ آپ کی ناراضگی مجھے پریشان کر رہی ہے۔
(سارہ کی والدہ بیڈ پہ پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی اور سارہ اپنے گھٹنوں کے بَل اپنی والدہ کے پاس ہی بیٹھ گئی اور اپنی امی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔)
امی : بیٹا مجھے تمہارا یہ پردہ پسند نہیں ہے, تم نماز, روزہ اور تلاوت کرتی ہو میں نے کبھی منع نہیں کیا لیکن یہ پردہ۔۔۔۔۔۔۔
سارہ : امی جیسے نماز روزہ فرض ہے ویسے ہی یہ پردہ بھی ضروری ہے۔ مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس کی نافرمانی کروں۔
امی : بیٹا تم ابھی چھوٹی ہو, تم نے دنیا نہیں دیکھی تمہیں نہیں پتہ یہاں کیسے رہتے ہیں!
سارہ : جی امی میں نے دنیا نہیں دیکھی لیکن جس نے دنیا بنائی ہے اس کو تو سب معلوم ہے نا!
امی : اس میں کیا تھا اگر تم پارٹی میں چل لیتی؟ سب پوچھ رہے تھے تمہارا۔
سارہ : امی میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ میں یوں تیار ہو کہ چلوں باہر, میرا دل مجھے اجازت ہی نہیں دیتا۔ (گویا منتیں کر کہ سمجھانے میں لگی ہوئی تھی, آخر آگے سے والدہ تھیں اس کی!)
امی : ہمممم (انداز سے غصہ صاف ظاھر تھا۔)
سارہ : امی آپ مجھے اپنی شفقت سے کیوں محروم کر رہی ہیں؟ ہم نے کئی دنوں سے باتیں بھی نہیں کی۔ (سارہ اپنی والدہ کے رویے کی وجہ سے رونے جیسی ہو گئی تھی۔)
امی : بیٹا مجھے نیند آ رہی ہے, جاتے ہوئے دروازہ بند کر دینا۔
(سارہ اپنی امی کی اس بے رخی سے دُکھی تو ضرور ہوئی لیکن صبر کا دامن نا چھوڑا اس نے وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ, آخر میرا قصور کیا ہے؟
اور دن یوں ہی گذرتے رہے, ایک دن سارہ کی امی کو تیز بخار آ گیا:)
سارہ : امی آپ کو تو تیز بخار ہو رہا ہے, آپ آرام کریں اور ساتھ میں وہ اپنی امی کے پاؤں بھی دباتی رہی اور ماتھے پہ پٹیاں بھی رکھتی رہی۔
امی : بیٹا مہوش کو بلاؤ, کچھ وہ کر لے تم کب سے لگی ہوئی ہو۔
سارہ : کوئی بات نہیں امی, میں کر رہی ہوں۔
امی : بیٹا مہوش کو بُلا لاؤ۔
سارہ : جی
(سارہ, مہوش کے کمرے میں)
سارہ : مہوش امی بلا رہی ہیں تمہیں, امی کو تیز بخار ہے۔
مہوش : میں مصروف ہوں۔
سارہ : امی سے بڑھ کر کیسی مصروفیت؟
مہوش : تنگ نہیں کرو, میرا ضروری کام چل رہا ہے۔
سارہ : فیسبک اور انسٹاگرام تم بعد میں بھی یوز کر سکتی ہو(سارہ کو کچھ غصہ آ رہا تھا۔)
مہوش : میں نہیں آ رہی۔
سارہ : شرم کرو کچھ, اللہ ھدایت دے تمہیں۔
مہوش : تم کس کام کی ہو؟ تم کر لو۔
سارہ : ہر کوئی اپنے اعمال بناتا اور بگاڑتا ہے۔(یہ کہہ کے سارہ چلی آئی۔)
امی : کیا ہوا؟ کہاں ہے مہوش؟
سارہ : امی وہ کچھ کام کر رہی ہے۔
امی : ماں سے بڑھ کر کیسا کام! دوبارہ جاؤ اس کے پاس۔
(سارہ دوبارہ گئی لیکن مہوش پھر بھی نا آئی۔ اب سارہ امی کے پاس جاتے ہوۓ گھبرا رہی تھی, اگر امی نے پوچھا تو کیا جواب دوں!)
امی : نہیں آئی؟
سارہ : نہیں امی۔
(اس کی والدہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور پھر انہوں نے کہا:)
امی : اب سمجھ آ رہا ہے, دین کیا سکھاتا ہے اور دنیا کیا سکھاتی ہے!
جو اللہ کا نا بن سکا وہ پھر والدین کا بھی نا بن سکے گا ۔ (کیونکہ خوشیوں میں تو غیر بھی ساتھ ہوتے ہیں, بات تو تب بنتی ہے جب ضرورت کے وقت کام آیا جاۓ۔)
سارہ : امی مہوش کے لیے ھدایت کی دعا کر دیں, آپ امی ہیں ہماری آپ کی دعا ضایع نہیں جاۓ گی۔
امی : ہاں بیٹا (والدہ نے اتنے دنوں بعد شفقت سے بات کی اور سر پہ ہاتھ رکھا, جس کی وجہ سے سارہ پُرانی سب تلخیاں بھول گئی۔)
(ختم شد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبق : والدین کا کوئی ایسا حکم جو شریعت کے خلاف ہو, وہ آپ مان تو نہیں سکتے البتہ ان کے ساتھ حُسن سلوک قائم رکھیں۔ وقت بدلے گا, آپ اپنے اخلاق نا گرائیں اور والدین کے لیے ہمیشہ دعاگو رہیں۔
113