0

دفاعِ صحابہ کیوں ضروری؟ /تحریر / جلال الدین الدیامری

دفاعِ صحابہ کیوں ضروری؟

✍️ تحریر: جلال الدین الدیامری

انسان ہمیشہ اپنے محسنین سے محبت کرتا ہے، اور ہر محاذ پر اپنے اکابرین، محسنین اور اپنے بڑوں کا احترام کرتا ہے۔

یقیناً ہمارے سب سے بڑے محسن، ہم سب کے نبی، نبی آخرالزماں محمد الرسول اللہ ﷺ ہیں، پھر یارانِ نبی (صحابہ و اہلِ بیت) ہیں۔ اس لیے کوئی بھی مسلمان اپنے ان محسنین کی بے ادبی نہ خود کرسکتا ہے، اور نہ کسی دوسرے کی زبان سے گستاخی برداشت کرسکتا ہے۔ جب بھی کوئی ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرے، مسلمان فوراً ان کے دفاع کے لیے میدان میں نکلتے ہیں۔

دفاعِ صحابہ نرالا کام ہے۔
یہ سُنّتُ اللہ بھی ہے۔
اور سنتِ رسول بھی۔

اللہ نے صحابہ کے گستاخوں کو انہی کے انداز میں جواب دیا ہے قرآنِ پاک جیسی مقدس کتاب میں۔ رسولِ کائنات ﷺ نے اپنے یاران (صحابہ) کے دفاع کے لیے صحابہ کے ہاتھ پر بیعت بھی کی۔
اور جو کام خود اللہ کرے یا رسول اللہ ﷺ کرے تو اس کی کیا شان ہوگی؟
کتنا مقدس و معظم کام ہوگا؟

تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان پر نبوت کا سلسلہ جہاں مکمل کیا گیا وہاں وحی کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا۔ جب وحی کا زمانہ تھا تو اللہ نے وحی کے ذریعہ صحابہ کا دفاع کیا، گستاخوں کو جواب دیا۔ لیکن اب چونکہ وحی کا سلسلہ بند ہے، البتہ گستاخی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سلسلہ زمانۂ وحی میں بھی تھا، یعنی اس دور میں بھی گستاخانِ صحابہ و گستاخانِ نبی موجود تھے اور آج کے دور میں بھی ہیں۔ لیکن وحی کا دور نہیں رہا، اس لیے اب گستاخوں کو جواب دینا اور اپنے محسنین کا دفاع کرنا ہم مسلمانوں پر لازم ہے۔

الحمدللہ اس پُرفتن دور کے اندر بھی نبی کی ختمِ نبوت کے محافظ موجود ہیں اور یارانِ نبی کے محافظ و چوکیدار بھی موجود ہیں۔ جب بھی کوئی بے ادب، کوئی کافر نبی کی عزت پر حملہ کرتا ہے یا یارانِ نبی کی عزت پر حملہ آور ہوتا ہے تو اللہ کے فضل سے مسلمان میدان میں نکلتے ہیں،
گستاخ کو جواب دیا جاتا ہے اور اپنے محسنین کا بھرپور دفاع کیا جاتا ہے۔ الحمدللہ والشکر للہ۔

یہ ہماری ایمانی ذمہ داری بھی ہے۔

اور عشق و محبت کا تقاضا بھی۔

یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ گستاخی کا سلسلہ زمانۂ وحی سے تاحال جاری ہے اور پہرہ بھی جاری ہے۔

یہاں میں چاہتا ہوں کہ اپنے دل کی بات بھی لکھ دوں: گستاخ اپنی شقاوت و بدبختی کی وجہ سے گستاخی کرتا ہے، نہ کہ محافظ کی چوکیداری کی وجہ سے۔ اور محافظ اپنی سعادت مندی کی وجہ سے اپنے محسنین کی ناموس پر پہرہ ہے۔ لہٰذا گستاخ کی گستاخی کے لیے محافظ کی چوکیداری کو سبب قرار دینا احمقانہ عمل ہے۔
مثلاً کوئی کہے کہ ’’جی! ختمِ نبوت کے دفاع کرنے کی وجہ سے گستاخِ رسول ﷺ گستاخی کرتا ہے، لہٰذا چوکیداری ختم کرو۔‘‘ تو یہ قائل کے دماغ کا فطور ہوگا۔ یہی صورت دفاعِ صحابہ کی بھی ہے۔

ہم صحابہ کا دفاع اس لیے کرتے ہیں: کیونکہ وہ ہمارے محسن ہیں۔
ہمارے ایمان کا حصہ ہیں۔
دفاعِ صحابہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے،
رسول اللہ ﷺ کا عمل بھی ہے اور فرمان بھی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں