0

باسی /تحریر / عالیہ ذوالقرنین

باسی
تحریر: عالیہ ذوالقرنین

میز پر رکھا ہوا سلاد کتنا رنگین، کتنا دلکش تھا۔ کہیں ٹماٹر کے سرخی آنکھوں کو بھا رہی تھی تو کہیں کھیروں کا سبز رنگ ٹھنڈک کا احساس دلا رہا تھا ۔ زمل نے اسے بڑے شوق سے بنایا تھا مگر کوئی خاص استعمال نہ ہوا
” یہ تو اب کل استعمال بھی نہیں ہو گا مگر کیسے پھینک دوں یہ بالکل صحیح ہے…“ اس نے خود کلامی کی اور پلیٹ ڈھک کر ایک طرف رکھ دی۔

زمل کی دل کا اگر کوئی مکین ہو تھا تو وہ صرف ایک شخص تھا ” ڈاکٹر اسد“ ۔ جو عمر میں سالہا سال بڑے ہونے کے باوجود اس کے دل کے گوشے میں بچپن کی جانے کون سے کمزور گھڑی میں آن سمائے تھے ۔ وقت کے طوفان آئے، زمل کی اشعر سے شادی ہوئی، بچے جوان ہوئے، مگر اس نام کی دھڑکن کبھی مدھم نہ ہوئی۔ وہ نام دل کے ساتھ روزِ اول کے طرح دھڑکتا رہا۔ بستر پر لیٹتے ہی ایک شبیہہ چھن سے انکھوں کے سامنے آتی اور سارے دن کی تھکن ، حالات کی سختیاں اور اردگرد پھیلے رویوں کی بدصورتی جانے کہاں بہا لے جاتی۔۔ ہر طرح کے حالات پر سمجھوتہ کرنے والی زمل اس شبہیہ پر کوئی سمجھوتہ نہ کر سکی۔ کرتی بھی کیسے اس نے تو اپنے بچپن سے اپنے کمرے کی دیوار پر اس شبیہہ کی محبت کو اپنے ساتھ پروان چڑھتے ہوئے دیکھا تھا پروجیکٹر کی طرح چلتی فلم میں کمرے کی دیوار پر صرف دو کردار ابھرتے زیمل اور اسد ، ہنستے بولتے،چلتے پھرتے، دکھ سکھ بانٹتے ۔۔

اور پھر سالوں بعد ایک دن ایک معجزہ ہوا… وہ دھڑکن گوشت پوست کے وجود میں اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
کلینک کی راہداری میں قدموں کی چاپ، نس نس میں بکھری ہوئی ہلکی سی گھبراہٹ، اور پھر وہ لمحہ جب زمل نے پہلی بار برسوں بعد ڈاکٹر اسد کو دیکھا۔ ہلکی نیلے رنگ کی شرٹ اور گرے پینٹ میں ملبوس، آنکھوں پر عینک، مگر چہرے پر وہی سنجیدگی، وہی ٹھہراؤ، وہی بردباری سے چلتے جیسے زمل نے اپنے خوابوں میں بارہا دیکھا تھا۔ وہ لمحہ زمل کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھا وہ پلک جھپکے بغیر دیکھتی رہی یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو کر اپنے کمرے میں نہ چلے گئے۔ کچھ دیر بعد وہ ان کے سامنے تھی ۔
“آپ پہچانتے ہیں مجھے؟ میں زمل ۔۔۔ آپ کی پرانی مریضہ” وہ اس کا بی پی چیک کرنے لگے تو اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

ڈاکٹر اسد نے نظر اٹھا کر اسے لمحہ بھر کو غور سے دیکھا، پھر ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری جس میں پہچان لئے جانے کا عندیہ تھا۔
” کیسی ہیں آپ؟ بہت سارے مریضوں میں آپ مجھے اپنے پوچھے جانے والے عجیب و غریب سوالوں کی وجہ سے یاد ہیں جن پر میں بعد میں بھی بہت سوچتا تھا ۔۔“ اور زمل کے لیے یہی بہت تھا کہ وہ ان کی یادداشت میں کہیں تو محفوظ تھی۔

وقت کا پہیہ چلا تو ڈاکٹر مرہض کا تعلق بڑھتا گیا ۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملے لکھ کر بھیجتی اور ڈاکٹر اسد کے جواب آنے پر گویا آسمان پر اڑتی پھرتی اب وہ میسج نہ کرتی تو ڈاکٹر اسد پرہشان ہو جاتے اور پھر مایوس ہو کر خود ہی مخاطب کر بیٹھتے ۔

“کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی مسکراہٹ مجھے کس قدر بے چین کر دیتی ہے؟ یہ میری کمزوری ہے اب سے نہیں بچپن سے۔۔“ اس دن حسن عادت وہ اپنے بے تکلفانہ انداز میں بولی

اسد ہنس دیے ”اور آپ مجھے بچپن میں تو یاد نہیں لیکن اب آپ کے یہ معصوم سوالات میری خشک دنیا کو رنگین بنا دیتے ہیں آپ کے اندر ایک معصوم بچہ ہے مجھے آپ کی معصومیت پسند ہے میری زندگی میں کوئی کمی نہیں تھی لیکن آپ پتہ نہیں کب دل تک اترتی چلی گئیں یہ کیفیت پہلے کبھی کسی کے لیے محسوس نہیں ہوئی ۔۔لو یو میری جان“
محبت کا یہ والہانہ اظہار زمل کے دل کی دنیا میں جیسے جہاں بھر کی بہاریں جگا گیا ۔ اعتراف نے گویا محبت کو پر لگا کر اڑنا سیکھا دیا تھا اب ہر روز ڈھیروں میسجز سے زمل اور ڈاکٹر اسد کا ان بکس بھرا رہتا اور دن میں کئی کئی بار کالز پر دنیا بھر کی ڈھیروں باتیں جن میں ایک دوسرے سے محںت کا بارہا اظہار سر فہرست تھا۔

بارش کی ایک شام جب
زمل کلینک پہنچی۔ بظاہر چیک اپ کے لیے، مگر حقیقت میں صرف ایک جھلک کے لیے۔ ڈاکٹر اسد نے مسکراتے ہوئے اس کا ماسک نیچے کر کے اسے پہلی بار دیکھا ۔ سامنے جھکی ہوئی آنکھیں تھیں، شرمیلی مگر چمکدار۔
”برسوں بعد کسی کو شرماتے لجاتے دیکھا ہے۔۔اوپر دیکھیے نا “ مگر زمل اوپر کیسے دیکھتی وہ ان آنکھوں کی محبت بھری تپش کو بغیر دیکھے بھی محسوس کر سکتی تھی ۔ لمحے کا جادو ٹوٹا تو زمل کے ہاتھ بے اختیار ان کے گھٹنے پر تھے۔
اس نے لمحہ بھر میں فوراً ہاتھ پیچھے کھینچے، معذرت کی اور تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔

اگلی بار چیک اپ کے بعد ڈاکٹر اسد نے اچانک اس کا ہاتھ تھام لیا اور تیزی سے بوسہ لے کر چھوڑ دیا۔ زمل کے بدن میں جیسے بجلی سی کوند گئی مگر لمس اپنی جگہ بنا چکا تھا۔ اب کبھی وہ مریضوں سے اوجھل ہو کر ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لیتے، کبھی ہونٹ چھو جاتے اور وہ لمس اندر تک جلتا ہوا سا احساس چھوڑ جاتا۔

ایک دن ڈاکٹر اسد نے دھیرے سے کہا:
“زمل… میں اکیلے میں ملنا چاہتا ہوں “ اور زمل نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے الجھی ہوئی نظروں سے انہیں دیکھا
”کیا ہوا اکیلے میں ملنے سے ڈر لگ رہا ہے ؟” وہ چونکی، پھر مسکرا کر بولی:
”ڈر کیسا؟ میں تو اپنے اسد کے ساتھ ہوں گی”

یوں دن گزرتے گئے۔ محبت نے دلوں کو چھو لیا تھا، مگر ایک ان کہی لکیر دونوں کے درمیان کھڑی تھی ذمہ داریوں کی، گھروں کی، بندھنوں کی۔ سماج اور مذہب کی۔۔
زمل کبھی کبھی سوال کرتی:
“کیا یہ تعلق ہمیشہ یوں ہی چلتا رہے گا؟ آپ مجھے آگے بڑھا کر پیچھے تو نہیں ہٹ جائیں گے نا ؟ میں آپ سے کچھ نہیں چاہتی مگر یہ تعلق کچھ ختم مت کیجے گا یہ میری زندگی کی ضمانت ہے اس کے بغیر میں مروں گی نہیں مگر ژندہ بھی نہیں رہوں گی“ وہ ہر ملاقات پر کہتی۔
“محبت دل میں ہو تو زندہ رہتی ہے۔ میسج ہو نہ ہو، بات ہو نہ ہو ملاقات ہو نہ ہو کیا فرق پڑتا ہے! آپ کی محبت میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ ہے” اسد نے آہستہ سے کہا اور اسے قریب کر لیا اور زمل کے لیے یہ ہی بہت تھا کہ اسے اسد کا قرب میسر تھا وہ اسد کی جسمانی محبت کی طالب نہیں تھی مگر اسے ان کا لمس اچھا لگتا اور اپنی محبت بھری آنکھوں میں دنیا جہان کا پیار سمیٹے جب وہ اسے پیار کرتے تو زمل کو کچھ یاد نہ رہتا سوائے اس اسد کے جو اس کا دیوتا تھا جسے وہ پوجتی آئی تھی۔

پھر ایک دن سب بدل گیا۔
اسد نے اچانک فاصلہ پیدا کر لیا۔ وہ شخص، جو زمل کے ایک میسج کے انتظار میں رہتا تھا، اب گھنٹوں، دنوں خاموش رہنے لگا۔
زمل نے پوچھا:
“یہ خاموشی کیوں؟”
” میری بیوی نے تمہارے میسجز پڑھ لئے ہیں میں یہ تعلق اب مزید نہیں رکھ سکتا مجھے اپنا گھر بچانا ہے۔” نام نہاد محبت منہ چھپاتی ہوئی رخصت ہوئی اور وہ دھیرے سے بولتا اس کی دنیا اندھیر کر گیا۔
یہ جملہ نہیں ایک خنجر تھا جو زمل کے دل میں اتر گیا۔
” گھر بچانا ہے ؟ یہ گھر اب کیوں یاد آیا جب اپ میرا ہاتھ پکڑ کر اتنا آگے لے آئے۔۔ آپ تو عمر ، تعلیم ، فہم ،تجربہ سب میں مجھ سے زیادہ تھے پھر یہ پہلے خیال کیوں نہیں آیا “
” اگر تم میری طرف نہ بڑھتی تو میں کبھی تمہاری طرف نہ بڑھتا، اگر اس دن تم نے میرے گھٹنے پر ہاتھ نہ رکھا ہوتا تو میں کبھی تمہیں ہاتھ نہ لگاتا “ الفاظ تھے کہ نشتر۔۔۔ نشتر تھے کہ گرم سیسہ جو کانوں میں انڈیلا گیا تھا ۔۔اہنے گناہوں کے ساتھ ناکردہ گناہوں کا بوجھ کندھے بوجھل کر گیا تھا۔
” میرا فرط جذبات سے آپ کے گھٹنے ہکڑنا اور آپ کا مجھ سے جسمانی فائدہ اٹھانا کیسے برابر ہو گئے اسد؟ “
مگر اسد کے پاس اب زمل کے کسی سوال کا جواب تھا نہ وقت۔۔۔اب وہ باسی روٹی کی طرح تھی جو بغیر کسی لذت کے صرف پیٹ بھر سکتی تھی اور پیٹ بھرنے کے لیے تو اس کی بیوی بھی گھر موجود تھی تو پھر یہ خواہ مخواہ کا عذاب چہ معنی ؟؟

کل کا ڈھکا ہوا سلاد، اب مکمل طور پر خراب ہو چکا تھا کھیرے ٹماٹر پیاز سبب رنگ بدل کر پانی چھوڑ چکے تھے۔ زمل نے پلیٹ اٹھائی اور بغیر کسی تکلیف کے اسے ڈسٹ بن میں انڈیل دیا۔ کچن کی خاموشی میں دل سے نکلنے والی ایک مدھم سی چیخ گونجی جیسے صرف زمل ہی سن پائی تھی ۔ وہ دیر تک ڈسٹ بن پر نظریں جمائے رہی۔ کل کا تازہ سلاد آج کا محض کچرا تھا۔
“حیرت کیسی اگر سلاد باسی ہوا تو میں نے پھینک دیا،
اور محبت باسی ہوئی تو اُس نے مجھے۔“ کچی عمر کی مٹھاس ، پکی عمر کے اسد کی محبت کی کڑواہٹ سے اس کے وجود سمیت ساری زندگی کڑوی کر چکی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں