
مفتی محمودؒ اور ان کی نو ماہی وزارت
تحریر : عدنان ڈیروی /
انسان دنیا میں آتے رہے، آرہے ہیں، اور قیامت تک آتے رہیں گے۔ لیکن بعض انسان دنیا اپنے ساتھ ایسے کمالات و خصوصیات لے کر آتے ہیں کہ جن کی تمام تر زندگی خدمت انسانیت میں گزرتی ہے۔ انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کی تھیں حضرت مفتی صاحب جنوری 1919 پنیالہ ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں پیدا ہوئے۔
اپتدائی تعلیم پنیالہ میں ہی حاصل کی، مڈل کا امتحان پنجاب بورڈ میں فرسٹ ڈویزن میں پاس کیا۔ دینی تعلیم کے لیے دیوبند روانہ ہوئے بعد ازاں 1941 میں شیخ الہندؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا فخرالدین ؒ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔
1950 مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں بحیثیت مدرس تقرر ہوا،بعد ازاں صدر مدرس، ناظم تعلیمات، مفتی، شیخ الحدیث اور مہتمم کے عہدوں پر شاندار خدمات سرانجام دیں۔ آپ نےکم و پیش پچیس ہزار فتاوی جاری کیے۔
1962 میں ڈیرہ اسمعیل خان سے قومی اسمبلی کی نشست سے الیکشن میں حصہ لیا نیشنل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
دوسری مرتبہ 1970 کے عام انتخاب میں ڈیرہ اسمعیل خان کی نشست سے ذوالفقار علی بھٹو سے مثالی کامیابی حاصل کی۔
یکم مئی 1972 میں صوبہ سرحد موجودہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور درج ذیل اقدامات کیے۔
مفتی صاحب نے وزارت علیا کا حلف اٹھاتے ہی پورے خلوص اور علم و فراست سے صالح معاشرہ کی جد و جہد کا آغاز کردیا ۔
صوبے میں مفتی صاحب کی ان اصلاحات کو خطرہ بھی تھا کیوں کہ کسی بھی نئے نظام کو چلانے کے لیے اور اسے نافذ کرنے کے لیے نچلی سطح کی انتظامیہ کا منظم اور صالح ہونا ضروری ہوتا ہے۔
شراب پر پابندی۔
شراب سازی، شراب فروشی اور شراب نوشی پر پابندی لگائی گئی کیوں کہ شراب اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک ایسی لعنت ہے جس میں سوائے چند لمحات کی نفسانی لذت کے کوئی مستقل فائدہ نہیں ہے۔ شراب پر پابندی کے بعد قمار بازی اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی دیگر برائیوں پر پابندی عائد کردی گئی۔
سرکاری زبان اردو
تقاضا تو یہ تھا کہ صوبے میں پشتو کو سرکای زبان کا درجہ دیا جاتا کیوں کہ اکثریت پشتو بولنے والوں کی تھی جو اردو کی ابجد سے بھی واقف نہ تھے ۔لیکن مفتی صاحب نے قومی وحدت اور ملکی سالمیت کو مقدم سمجھتے ہوئے اردو کو سرکاری زبان قرار دیا۔ قیام پاکستان سے اب تک یہی لکھا پڑھا اور سنا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے۔ لیکن عملی طور پر قومی زبان کی ترقی و ترویج اور نفاذ کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
رسم جہیز پر پابندی
ملکی معاشرت میں پھیلی ہوئی برائیوں میں رسم جہیز کی جڑیں بھی کافی مضبوط ہیں۔ جو لوگ ان آسائشوں کو حاصل نہیں کرپاتے جن کے وہ متمنی ہوتے ہیں تو وہ جہیز کا سہارا لیتے ہیں۔
مفتی صاحب نے صوبے میں جہیز آرڈیننس نافذ کرکے لوگوں کو جہیز کی رسم سے نجات دلائی۔
قومی لباس
اسلام نے انسانی جسم کی حفاظت کے لیے ایسا لباس زیب تن کرنے کا حکم دیا ہے جس میں عریانی و فحاشی بھی نہ ہو اور انسان کی خرید سے باہر بھی نہ ہوں۔ اور وہ لباس قمیص و شلوار ہے۔ اور یہی لباس اسلامی تہذیب ، سادگی اور قومی شناخت بھی ہے۔
اسی سہولت کے تحت مفتی صاحب نے صوبے کے تمام سرکاری اہل کاروں کے لیے دفتری اوقات میں شلوار قمیص پہننے کا حکم جاری کیا کیوں کہ شلوار قمیص اقتصادی لحاظ سے بھی اور موسمی اعتبار سے بھی یہاں کےلوگوں کے لیے مفید ہے۔
پردہ کا حکم
پورپ اور دور جدید کی مادی تہذیب نے عورت کے ساتھ ایک شرم ناک کھیل کھیلا اسے آزادی کے نام پر ایک ایسی غلامی پر رضا مند کیا ہے جس میں ان کی حیثیث مردوں کے ہاتھوں رنگین اور جاذب نظر کھلونوں کی طرح بن کر رہ گئی۔ مفتی صاحب نے ان خرابیوں کی روک تھام کے لیے اور مرد و زن کے کھلے اختلاط اور عورتوں کی بےحجابی پر پابندی لگا کراپنے صوبے میں پردہ کو لازم قرار دیا۔
تعلیمی اصلاحات
صوبے کے محدود اختیار ہونے کے باوجود مفتی صاحب نے اخلاقی اور مادی اعتبار سے گِری ہوئی قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا ذمہ لیا ، محدود اختیار کو بروئے کار لاکر صوبہ میں یونیوسٹیوں، کالجوں میں داخلہ کے لیے قرآن کریم ناظرہ پڑھا ہوا ہونا اور نماز کا باترجمہ یاد ہونا ضروری قرار دیا، نسل نو کو قرآنی تعلیم سے آشنا کرنے کے لیے صوبہ بھر کے 90 سے زائد اسکولوں میں علوم دینیہ کے ماہر قراء اور فاضل علماء کرام کا تقرر کرنے کا فیصلہ کیا ۔
اسلامی قوانین
مفتی صاحب نافذ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق نا صرف اپنے صوبے کےلیے بلکہ ملک بھر میں اسلامی قوانین کے خواہش مند تھے۔پاکستان اسلام اور اسلامی معاشرہ کی سربلندی کے لیے وجود میں آیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کا ہر شہری اللہ تعالی پر پختہ ایمان رکھتا ہو، آخرت ، جزا سزا پر کامل یقین والا ہو، عبادات میں انہماک رکھنے والا ہو، علم و تقوی اور کردار کی پختگی میں ایک دوسرے سے بلند ہو، امانت و صداقت کی صفت سے متصف ہو۔
مفتی صاحب نے اپنے دور اقتدار میں احترام رمضان آرڈی ننس نافذ کرکے پاکستان کی تاریخ مں ایک نئے اور روشن باب کا اضافہ کیا۔ جسے ملک بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔رمضان میں تمام ہوٹلوں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا خلاف ورزی پر ایک ہزار جرمانہ اور دو ماہ کی قید یا دونوں سزائیں ایک ہی وقت میں جاری کرنے کا اعلان کیا ۔
سود کا خاتمہ
مفتی صاحب نے ملکی معیشت کو اسلامی خطوط پر استوارکرنےکےلیے صوبے میں تقاوی قرضوں پر سود کی بندش کردی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنکاری کے موجودہ نظام میں سود کی وجہ سے پوری دنیا کا معاشی نظام مختل ہوچکا ہے۔ ہر دور اور ہر معاشرہ میں سود خور کو معاشی مجرم سمجھا گیا ہے۔ مفتی صاحب کا تقاوی قرضوں پر سود معافی کا اعلان بین الاقوامی اثرات کا حامل تھا صوبے کے زمین داروں نے سکھ کا سانس لیا کیوں کہ دوگنے قرضوں نے ان کی کمر توڑ رکھی تھی۔
آزاد صحافت
کسی بھی قوم کے طرز فکر کا اندازہ اس قوم کے اخبارات سے لگایاجاتا ہے۔ اور دیکھا جاتا ہے کہ پریس اہم مسائل کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے۔ ماضی میں حکمرانوں کی طرف سے اخبارات پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد تھیں۔مفتی صاحب کی حکومت نے آزاداخبارات پر لگائی گئی پابندی اور صحافیوں کی گرفتاری کی برملا مذمت کی اور ان کار روائیوں کو جمہوری طور طریقے کے خلاف قرار دیا ۔اور ان تمام اخبارات و رسائل کو ڈیکلریشن دینے کا اعلان کیا جن پر جبری پابندی تھی۔
مفتی صاحب نے پاکستان میں سرمایادارانہ نظام اور سوشلزم دونوں کی نفی کی اور انسان کے بنائے ہوئے ان دونوں نظاموں کی مخالفت کی ہے۔ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی کے دیے ہوئے نظام کا مکمل خاکہ قوم کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ نہ صرف سیاست دان تھے بلکہ بہترین مفتی ، محدث ، مفسر، شریعت و طریقت کے جامع اور عظیم راہنماء تھے۔ آپ علمی اور سیاسی لحاظ سے مجددالف ثانیؒ ، شاہ ولی اللہؒ ، سید احمد شہیدؒ ، مولانا قاسم نانوتویؒ اور شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ سے متاثر تھے۔
مفتی صاحب نے 15 فروری 1973 تک ساڈھے نو ماہ وزارت علیا پر فائز رہنے کے بعد بھٹو صاحب کی طرف سے بلوچستان کی جمہوری حکومت کو بلاجہ برطرف کرنے اور سرحد و بلوچستان کے گورنروں کی جبری برطرفی کے جمہوریت کش اقدمات کے خلاف احتجاجًا وزیر اعلی سرحد سے استعفی دے دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب ایک ہفتہ کی طویل لاحاصل کوشش کی کہ مفتی صاحب دوبارہ وزارت سازی پر امادہ ہوجائیں۔ لیکن مفتی صاحب اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔
14 اکتوبر 1980 میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں علماء کرام و مفتیان عظام کے اجتماع سے خطاب کے دوران جان جاں آفریں کے سپرد کردی اور یوں اللہ کے گھرکی حاضری دینے کے بجائے خود اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو ۔