0

دنیا کا امن تباہ کررکھا ہے / تحریر / عدنان ڈیروی

دنیا کا امن تباہ کررکھا ہے۔
اس تحریر میں آپ پڑھیں گے امن کے حقیقی علمبردار کون ہیں۔

تحریر: عدنان ڈیروی

21 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی امن کے طور پر منایا جاتا ہے۔عالمی امن پہلی مرتبہ 2002 ء میں منایا گیا تب سے اب تک عدم تشدد اور جنگ بندی کے طور پر منایا جاتا ہے۔نوجوانوں کو اس دن امن کی اہمیت سے اگاہ کیا جاتا ہے۔ تاکہ لوگوں میں امن کی اہمیت اور امن کی ضرورت اجاگر ہو۔

امن سماج اور معاشرہ کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں تمام معاملات معمول کے مطابق بغیر کسی پر تشدد کے چل رہے ہوں۔ امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر مثبت بین الاقوامی تعلقات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
امن عالم دنیا کے اہم ترین مسائل میں ایک ہے۔ جو نسل انسانیت کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ قیام امن کے اصولوں کی پابندی پر انسانیت کے مستقبل کا دار و مدار ہے۔ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل نسل انسانیت اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ظلم و سربریت کا دور دورہ تھا۔ تہذیب نام کی کوئی چیز باقی نہ تھی بدامنی کا یہ عالم تھا کہ کمزور لوگوں کو غلام بنا کر بکریوں کی طرح منڈیوں میں بیچ دیا جاتا تھا۔انسانیت اخلاقی اور معاشرتی برائیوں کا شکار تھی دنیا پر جہالت و کفر کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اس عالمگیر گمراہی کے ختم ہونے کا جب وقت آیا اور اسلام کا سورج طلوع ہونے لگا سچے دین کے سچے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو امن کا پیغام دیا کہ اسلام امن وسلامتی کا علمبردار مذہب ہے۔ اس میں ظلم وستم اور دہشت گردی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام خود بھی امن اور دوسروں کو بھی امن وسلامتی کی تلقین کرتا ہے۔ امن وامان انسانی ضرورت ہے۔امن ہی ہے جس کے ہوتے ہوئے لوگ جان، مال ،عزت وآبرو کے بارے میں اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔امن معاشرہ کے تمام افراد کے لیے یکساں مفید ہوتا ہے۔مسلمانوں کے اتحاد کا واحد ذریعہ امن ہی ہے۔امن کا آرزو مند ہونا انسانی فطرت میں شامل ہے۔ امن کے حصول کے لیے اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔تاکہ ہرشخص کو اگاہی ہو اور وہ امن قائم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن کا مظاہرہ کیا جب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک کثیر تعداد کو لے کر مکہ مکرمہ میں فتح کی غرض سے تشریف لے گئے۔ تو ان لوگوں کے لیے امن کا اعلان کردیا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔حضرت عباسؓ نے فرمایا : اے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیانؓ ایمان لا چکا ہے۔ اور وہ سردار بھی ہے۔ فخر کو پسند کرتا ہے۔ آپ ان کے لیے کوئی ایسا کام کردیں جو ان کے لیے باعث عزت وشرف ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اعلان کردو کہ جو ابوسفیان کے گھر داخل ہوگیا وہ مامون ہے۔ ابوسفیان نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں سب لوگ کیسے آسکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسجد حرام میں داخل ہو جائے وہ بھی ماموں ہے۔ ابو سفیان نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بھی کافی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون ہے۔ ابو سفیان نے کہا ہاں اس میں وسعت اور گنجائش ہے۔ دنیا آج عالمی یوم امن منا رہی ہے۔عالمی پیغمبر نے عالمی امن کا عالمی فتح کے موقع پر اعلان کردیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اعلان امن کیوں نہ کرتے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں امن کا پیغام ہی لے کر آئے ہیں۔

سماج، معاشرہ اور ملک امن کے بغیر خوشحال نہیں ہو سکتا۔آج سانئس اور ٹیکنالوجی کی اتنی ترقی کے باوجود ہر زبان، ہر مذہب و قوم، ہر ملک اور ہر باشعور قلب و ذہن امن کا متلاشی ہے۔ امن کی تلاش کے لیے لاتعداد تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں۔ نت نئے قوانین بن رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ان سب کچھ ہونے کے باوجود امن کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا ہر طرف خون ریزی، بدامنی، خوف وہراس اور انتشار و افتراق کا بازار گرم ہے۔ہر طرف شر اور فتنہ برپا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ جس شخص کے شر سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو وہ مسلمان نہیں خواہ پڑوسی مسلم یا غیر مسلم۔کسی مذہب میں کسی قانون میں کسی آئین و دستور میں اتنے حقوق کسی کے نہیں ہیں جو اسلام میں ہیں تو پھر اسلام ہی ہے جو امن کا پرچم بلند کرتا ہے۔

آج اگر ہم سماج اور معاشرہ کو دیکھیں تو ہر طرف بدامنی ہی بدامنی ہے۔ اس کی اصل وجوہات یہ ہیں کہ ہمارا سسٹم ہی خراب ہوچکا ہے۔ ہم زبانی دعوؤں پر رہ گئے ہیں۔ آئے روز کسی نا کسی کا قتل کیا جاتا ہے۔حکومت مجرم کو سزا دے پھر دیکھے کیا امن قائم ہوسکتا ہے کہ نہیں آج اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ سزا تصور کیا جاتا ہے۔جس معاشرہ میں ہم جی رہے ہیں ہمارے سامنے کچھ ایسے عوامل ہیں جو عالمی امن کے لیے خلل انداز ہیں اور اسلامی ممالک میں امن و سلامتی کے داخلی امن کے لیے خطرہ ثابت ہورہے ہیں۔ عالم مغرب کا خیال ہے کہ وہ عالم اسلام کے متعلقہ حکام کو قائل کررہے ہیں۔ تاکہ عالمی فوجی اور اقتصادی قوتوں کے درمیان توازن ہی عالمی امن کا ضامن ہو۔ جب عالمی نظام خلل پذیر ہوگا تو عالمی توازن میں بھی خلل پیدا ہوگا۔ یادرہے کہ جب مغرب عسکری اور عالمی قوتوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان سے ان کی مراد وہ بڑے مغربی ممالک ہوتے ہیں جو اپنے فنی اور ٹیکنالوجی کے تفوق ، مادی پیش رفت اور فوجی قوت کے ذریعے دنیا کے وسائل اور دولت پر چھائے ہوئے ہیں۔ اور ان کے مشرقی متبعین اقتصادی بگاڑ کو عالمی امن کے فساد کا سبب گردانتے ہیں۔

امن کی علمبردار اقوام متحدہ سے امن کی امید اور توقع بیکار و رائیگاں ہے۔ کیوں کہ وہاں صرف قوانین بنتے ہیں ان قوانین پر عملی پہرہ نہیں دیا جاتا کشمیر و فسلطین پر کیے گئے مظام اور تشدد انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر اقوام متحدہ کا آواز نہ اٹھانے اور امن کے لیے اقدامات نہ کرنے پر سوالیہ نشان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی اور بد امنی کا لیبل اسلام اور اسلام پسندوں کے ساتھ چسپاں کرنے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ جس کی تدبیر میں عالمی صہیونیت اور اسلام دشمن عناصر کا پورا پورا ہاتھ ہے۔اسلام ظلم کو کسی حالت اور کسی نام سے بھی برداشت نہیں کرتا اسلام اپنے ماننے والوں کی جان، مال، مذہب، عقیدہ اور مذہبی مقدسات تک کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔امن کی خاطر اسلامی سزاؤں کے نفاذ میں رکاوٹ یہی اسلام دشمن عناصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کی جان و مال محفوظ نہیں بلکہ عزت تک محفوظ نہیں کیوں کہ اسلامی حدود کا نفاذ نہیں۔

آج بھی رنگ و نسل، ذات پات اور وطنیت کا بھوت ذہن میں بیٹھا کر ہر شخص اپنی جان، مال اور عزت کا تحفظ چاہتا ہے۔ اور مذہبی فکری آزادی کے ساتھ ساتھ امن کا بھی خواہشمند ہے۔مغرب و مشرق آپس کے حالات سے متاثر ہورہے ہیں۔ آج کی دنیا میں ایسا کوئی چھوٹا بڑا شہر نہیں ہے جہاں مختلف رنگ و نسل، زبان اور مذہب و تہذیب کے لوگ نہ رہتے ہوں۔ اور یہ ممکن بھی نہیں رہا کہ اقوام عالم ایک دوسرے سے الگ رہیں۔ لہذا ایک دوسرے کے لسانی، فطری اور مذہبی اختلافات کو سمجھ کر برداشت کرکے۔فساد و بگاڑ کے اسباب کا خاتمہ کرنے کے بعد پر امن فضا پیدا کرنی ہوگی۔اللہ تعالی ہمارے ملک عزیز کو امن کا گہوارہ بنائے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں