0

مولانا عبیداللہ سندھی پر الزامات_کچھ گذارشات / تحریر /ایمل صابر شاہ

Aymal sabir
تحریر / ایمل صابر شاہ

مولانا عبیداللہ سندھی پر الزامات____کچھ گذارشات
✍️ ایمل صابر شاہ

کسی استاد کے تلامذہ کو دو درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے،
ایک درجہ تلامذہ کا وہ ہے جو کہ علمی صلاحیتوں سے مالا مال ہو اور دورانِ درس استاد کی ایک ایک بات خوب سمجھنے کے بعد اسی وقت لکھ کر من وعن آگے نقل کرتے ہیں،
دوسرا درجہ تلامذہ کا وہ ہے جو کہ دورانِ درس استاد کے درس کو سنے اور پھر درس کے بعد استاد کے فرامودات کو تنہائی میں بیٹھ کر اپنے الفاظ میں قرطاس پر نقل کر دے۔
یقیناً یہ بات ہر ذی عقل و شعور تسلیم کرتا ہے کہ استاد کی صحیح اور اصل تعلیمات، افکار و نظریات وہی ہوگی جو کہ تلامذہ کے پہلے طبقہ نے نقل کی ہیں کیونکہ وہی اصل اور بعینہ استاد کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ و تعبیرات ہے جو کہ اسی وقت، اسی تعبیر کیساتھ لکھ دئیے گئے ہیں۔
امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کے ساتھ بھی یہ ظلمِ عظیم ہوا کہ حضرت سندھی کو اُن نظریات کے بنیاد پر “معتوب” ٹھہرایا گیا جو کہ سرے سے حضرت سندھی کے تھے ہی نہیں بلکہ “شعوری یا لاشعوری” طور پر وہ نظریات سندھی کے شخصیت کیساتھ جوڑے گئے جسکی وجہ سے حضرتِ سندھی کی شخصیت تختہ مشق بنی ہوئی ہے۔
ہم حضرت مولانا عبید اللہ سندھی صاحب کے تلامذہ کو تین درجات میں تقسیم کر سکتے ہیں،
درجہ اول کے تلامذہ میں مفسر قران مولانا احمد علی لاہوری، مولانا سلطان محمود محدث پوری، مولانا طاہر یوسف زئی، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی، مولانا اسماعیل کراچوی، مولانا خواجہ عبدالحی فاروقی اور ڈاکٹر ذاکر حسین وغیرہ شامل ہے
درجہ دوم کے تلامذہ میں موسی جار اللہ روسی جیسے آزاد خیال لوگ شامل ہیں
اور درجہ سوئم کے تلامذہ میں وہ لوگ شامل ہیں جو کہ کلامِ سندھی کے فہم کا استعداد نہیں رکھتے تھے بلکہ صرف علوم جدیدہ کے ماہر تھے جیسے پروفیسر سرور صاحب وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔

تلامذہ کی طرح مولانا عبید اللہ سندھی کے تحریرات کے بھی چار درجات ہو سکتے ہیں،
درج اول کی تحریرات وہ کتابیں ہیں جو کہ حضرت سندھی کی خود لکھی ہوئی ہے اور ان کی کتابوں کی نسبت حضرت سندھی صاحب کی طرف 1944 تک صحیح ہوگی۔
درج دوم کی کتابیں وہ ہے جو درجہ اول کے تلامذہ سے ثابت ہے۔
درجہ سوئم کی کتابیں وہ ہے جو کہ درجہ دوم کے تلامذہ کے ہے
اور درجے چہارم کی کتابیں اور تحریرات وہ ہے جو کہ درجہ سوم کے تلامذہ کے ہے۔
ان تحریرات میں حضرت سندھی صاحب صرف اور صرف درجہ اول اور درجہ دوم کے کتابوں کا ذمہ دار ہے، ان کتابوں اور تحریرات میں موجود تعلیمات، افکار و نظریات ہی حضرت سندھی کے 100 فیصد صحیح اور اصل نظریات ہے، باقی دو درجات درجہ سوئم اور درجہ چہارم کے کتب اور تحریرات میں اگرچہ حضرت سندھی کے افکار اور شخصیت کے حوالے سے بہت سے باتیں ہیں لیکن ان کتابوں کے ہر ہر جملہ کا ذمہ دار حضرت سندھی صاحب کو بنانا بعید از عقل ہے۔
اسی تناظر میں فلسفہ شاہ ولی اللہ کے ماہر مولانا صوفی عبدالحمید سواتی صاحب لکھتے ہیں کہ “مولانا سندھی کی طرف منسوب تحاریر اکثر وہ ہے جو املائی شکل میں ان کے تلامذہ نے جمع کی ہے، مولانا کے قلم سے لکھی ہوئی تحریرات اور بعض کتب بہت دقیق، عمیق اور فکر انگیز ہے اور وہ مستند بھی ہے لیکن املائی تحریروں پر پورا اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور بعض باتیں ان میں غلط بھی ہے جن کو ہم املاء کرنے والوں کی غلطی پر محمول کرتے ہیں مولانا کی طرف ان کی نسبت درست نہ ہوگی”۔(علوم و افکار صفحہ 68)
سواتی صاحب مزید آگے لکھتے ہے کہ
“مولانا عبید اللہ سندھی ایک خدا پرست عالم دین تھے ان کے بارے میں اشتراکیت یا مارکسیت کا الزام اور یورپ کے ملحدانہ نظام کی نسبت خلافِ واقع ہے مولانا کا اعتماد و عمل اور دعوت اول وآخر صرف اور صرف اسلام کے اس نظام کی طرف تھی جس کو اللہ کی کتاب قران میں پیش کیا گیا ہے اور جس کی شرح سنت اور خلفائے راشدین نے کی ہے اس سلسلے میں بعض باتیں مولانا کی طرف غلط منسوب کی گئی ہے اور خود انہوں نے اپنے قلم سے نہیں لکھی کچھ ان کے تلامذہ اور کچھ دوسرے حضرات نے جمع کیے ہیں لہذا ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور ان باتوں کی وجہ سے مولانا سندھی پر طعن کرنا حق کے خلاف ہوگا”۔(علوم و افکار 103)
شیخ القران والحدیث حضرت مولانا محمد طاہر یوسفزئی رحمۃ اللہ علیہ مولانا سندھی کے معتمد شاگردوں میں سے ہے اسی وجہ سے اس کا قول حجت تامہ کی حیثیت رکھتا ہے لہذا شیخ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنی ڈائری بنام “بقیۃ الاثار من حیات المستعار” میں صفحہ 66 اور 67 پر لکھتے ہیں کہ “آپ کی (مولانا سندھی) املائی تفسیر آپ کے مختلف تلامذہ نے قلم بند کی ہے بعض تلامذہ نے املاء میں آپ سے منسوب کرتے ہوئے اپنی طرف سے بھی بعض اشیاء داخل کر دی جو نہایت ظلم اور ناانصافی ہے، کئی سورتوں کی تفسیر آپ کی خود نوشت ہے یہ تفسیری رسائل طبع ہو چکے ہیں”۔
اس بات کے ثبوت کے لیے کہ حضرت سندھی کے تلامذہ میں سے طبقہ دوم اور طبقہ سوئم کے تلامذہ نے حضرت سندھی کے افکار اور نظریات کو اپنے الفاظ میں پیش کر کے حضرت سندھی کی طرف غلط افکار و نظریات کی نسبت کی ہے، آپ ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کی یہ خط ملاحظہ کیجئے جو ماہنامہ خدام الدین شیرانوالہ گیٹ لاہور سے “احمد علی لاہوری نمبر” میں ڈاکٹر خالد محمود (ایم اے، پی ایچ ڈی، برمنگھم) نے ایک مضمون بنام “عصرِ حاضر کے زعیم اسلام” لکھا تھا اس میں ڈاکٹر خالد صاحب لکھتے ہیں کہ
“حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو اللہ تعالیٰ نے علم اور فضل کے ساتھ تقوی اور تواضع سے بھی خوب مالامال کیا تھا حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے نظریات اور خیالات میں اپ نے اپنی کوئی آمیزش نہ کی، جو ان کی بات تھی ان کے نام پر کہی اور جو اپنی بات تھی وہ اپنی ذمہ داری پر کہی اور اپنے خیالات میں بھی اپنے اپ کو آزاد رکھا بلکہ ہر موضوع پر اکابر علماء امت کے ساتھ رہنے کی کوشش کی”۔
یقیناً اس بات کا احساس اُس وقت کے ذمہ دار اکابر علماء کو بھی تھا، وہ حضرات بھی یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ جو نظریات اور افکار آج کل مختلف علمی طبقوں میں حضرت سندھی کے حوالے سے زیر بحث ہے، وہ نظریات اور افکار اصلاً حضرت سندھی کے نہیں تھے بلکہ ان کے بعض تلامذہ نے اپنے طور پر آمیزش کر کے حضرت سندھی کے نام سے پیش کئے ہے اسی لئے تو مولانا فیاض احمد سواتی صاحب “علوم و افکار” طبع دوم کے پیش لفظ میں نقل کرتے ہیں کہ
“سن 1986 کی بات ہے کہ مولانا سعید احمد اکبر آبادی اور مولانا معراج الحق صاحب سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند مشکوٰۃ شریف کے اختتام پر منعقدہ ایک تقریب میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانولہ تشریف لائے، پروفیسر محمد اسلم مرحوم بھی ان کے ہمراہ تھے، تینوں حضرات نے مشکوٰۃ شریف کے آخری سبق کے اختتام پر تقریریں فرمائی اور رات قیام بھی مدرسہ نصرۃ العلوم میں ہی فرمایا، اگلے دن صبح ان حضرات نے حضرت والد محترم کی طرف سے دعوتِ ناشتہ کے موقع پر ہمارے گھر دسترخوان پر مولانا سندھی کو گفتگو کا موضوع بنایا، میں بھی اس دعوت میں مہمانوں کے خادم کی حیثیت سے شریک تھا، اس دوران اکبر آبادی صاحب نے انکشاف فرمایا کہ “ایک موقع پر جب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی پر طعن اور تشنیع شروع ہو چکی تھی حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاری صاحب سابق ناظم اعلی جمیعت علماء ہند نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ “مولانا عبید اللہ سندھی کے متعلق مجھے یا تجھے کام کرنا چاہیے تھا، ان کے شاگردوں نے ان کی صحیح ترجمانی نہیں کی، ہم ان کے حالات سے باخبر تھے اور ہم ہی ان کی صحیح ترجمانی کر سکتے تھے”، چنانچہ مولانا حفظ الرحمن سیوہاری صاحب تو وقت کی کمی اور گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے تاحیات یہ کام انجام نہ دے سکے البتہ مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے مولانا سندھی پر اعتراضات کا کچھ جائزہ لیا ہے اور “عبید اللہ سندھی اور ان کے ناقدین” نامی کتاب لکھی ہے”۔
فیاض سواتی صاحب آگے لکھتے ہیں کہ
“لہذا یہ کہنا اور لکھنا بجا ہے کہ مولانا سندھی پر اکثر اعتراضات کے پس منظر میں ان کے شاگرد یا وہ ناقلین اور مرتبین ہیں جنہوں نے حضرت سندھی کی صحیح ترجمانی نہیں کی، ایسے لوگوں نے اپنے افکار اور نظریات کو گڈمڈ کر کے مولانا سندھی کی طرف منسوب کر کے شائع کر دئے ہے، جس سے مولانا سندھی جیسے با جبروت شخصیت پر ہر ایرے غیرے کو دشنام طرازی کا موقع ملا”۔ (علوم و افکار صفحہ 6).
حقیقتِ حال یہی ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کے ابتدائی زندگی کے سفر و حضر کے ساتھی اور شاگرد رشید، مفسر قران حضرت مولانا احمد علی لاہوری صاحب اور پھر حضرت سندھی کے زندگی کے آخری ایام کے خادم خاص، شاگرد رشید اور سفر و حضر کے ساتھی حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب کو تو حضرت سندھی کے نظریات اور افکار میں اجماعِ امت سے ہٹ کر کسی قسم کا سقم دکھائی نہیں دیا مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ حضرات جنہوں نے نہ حضرت سندھی کو قریب سے دیکھا، نہ سنا اور نہ حضرت سندھی سے باقاعدہ شرف تلمذ حاصل کیا یہ حضرات دوسرے لوگوں کی نقل کردہ تعلیمات اور افکار و نظریات کو بنیاد بنا کر امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللّہ سندھی صاحب کو تختہ مشق بنائے رکھے ہیں، فیا للعجب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں