0

سوچ بدلو ، دنیا اور آخرت بدلو /تحریر/علی کاکڑ

سوچ بدلو، دنیا اور آخرت بدلو/ تحریر/ علی کاکڑ

سوچ کا زاویہ درست ہو تو عمل خود بخود سنور جاتا ہے

انسانی حیات کا دارومدار محض لفظوں کے حصار میں نہیں بلکہ کردار کے آئینے میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ کہاوت ہے کہ “Actions speak louder than words” — یعنی قول کی نسبت فعل کی صدا کہیں زیادہ بلیغ ہے۔ انسان جو کچھ کہتا ہے، وہ لمحہ بھر کی صدا ہے؛ مگر جو کچھ کر کے دکھاتا ہے، وہ آنے والے زمانوں تک اس کی پہچان بن جاتا ہے۔

اقبال نے فرمایا:
“عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی”
یعنی انسان کی تقدیر اس کے عمل سے متشکل ہوتی ہے۔ عمل ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ الفاظ اگرچہ دل میں ولولہ جگاتے ہیں، مگر عمل کے بغیر وہ سب محض سراب ہیں۔

مگر یہاں حضرت واصف علی واصفؒ ایک نکتہٴ عمیق عطا کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ عمل بذاتِ خود کسی خلاء میں پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی جڑ سوچ ہے۔ انسان جس نوع کی سوچ رکھتا ہے، ویسا ہی اس کا عمل ظاہر ہوتا ہے۔ مثبت سوچ تخلیق، ترقی اور رفعت کو جنم دیتی ہے، جبکہ منفی سوچ انسان کو زوال، حسد اور تعصب کی دلدل میں اتار دیتی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے: سوچ بیج ہے، عمل اس کا شجر، اور کردار اس شجر کا پھل۔


اگر بیج خالص ہو تو ثمر بھی شیریں ہوگا، اور اگر بیج زہریلا ہو تو درخت بھی کڑوا پھل لائے گا۔

نوجوانی اور مثبت سوچ کی مشکل

یہ حقیقت ہے کہ نوجوان عمر میں مثبت رویہ اختیار کرنا اور مستقل مزاجی سے مثبت سوچ کو قائم رکھنا نہایت دشوار ہوتا ہے۔ اس دور میں جذبات غالب آ جاتے ہیں، صبر و تحمل کم ہوتا ہے اور انا انسان کو اکثر اندھی راہوں پر لے جاتی ہے۔ انسان دوسروں کی باتوں سے زیادہ اپنے تجربات پر یقین رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر نوجوان بار بار ٹھوکر کھا کر سیکھتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسانی ذہنی و جذباتی پختگی عموماً چالیس برس کے بعد سامنے آتی ہے۔ اس وقت انسان کے تجربات اسے زیادہ محتاط، عاقل اور بردبار بنا دیتے ہیں۔ مگر دانش مند وہ ہے جو اپنی پختگی کے لیے عمر کے طویل انتظار میں نہ پڑے، بلکہ دوسروں کے تجربات سے سیکھ لے۔

حضرت علیؓ کا قول ہے: “عاقل وہ ہے جو دوسروں کے تجربے سے سبق حاصل کرے، اور جاہل وہ ہے جو خود پر ہی آزمائشیں دہراتا ہے۔” نوجوان نسل اگر یہ حکمت سمجھ لے تو ان کے لیے راستہ بہت آسان ہو جائے۔

تعلیم اور سوچ کی تربیت

اعلیٰ تعلیم کا مقصد محض ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ سوچ کو جلا دینا ہے۔ اگر تعلیم کے دوران طالب علم اپنی سوچ کو وسعت دیں، دوسروں کے تجربات سے سبق لیں، اور اپنی کمزوریوں کو اعتراف کے ساتھ درست کریں تو وہ اپنی عمر سے کہیں پہلے بالغ نظر بن سکتے ہیں۔

یہی وہ فرق ہے جو ایک عام ذہن اور ایک دانش مند ذہن میں ہوتا ہے۔ عام ذہن وقت اور تجربات سے سیکھتا ہے، جبکہ دانش مند ذہن دوسروں کی غلطیوں اور کامیابیوں سے سبق اخذ کرتا ہے۔

نوجوانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ:
مثبت سوچ اختیار کرنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

اپنے رویے کو درست رکھنے کے لیے انہیں مستقل محاسبہ اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔

استاد کا کردار یہاں چراغِ راہ ہے، اور والدین کی دعائیں محافظ ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ تعلیم کے ہر مرحلے پر انہیں اپنے کردار کو الفاظ سے زیادہ مضبوط اعمال سے سنوارنا ہے۔


سوچ بدلے گی تو دنیا بدلے گی، اور اگر دنیا سنور گئی تو آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہو جائے گی۔

“نوجوانی کی اصل دانش یہ ہے کہ دوسروں کی ٹھوکروں سے سبق لے کر اپنی راہ کو محفوظ بنایا جائے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں