سستی زمین یا مہنگی زندگی؟/تحریر/حفیظ چودھریاکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ لوگ دریاؤں کے قریب، سیلابی یا ندی نالوں کے کنارے ایسے علاقوں میں کیوں گھر بناتے ہیں، جہاں ہر دو چار سال بعد قدرتی آفات کی پیش گوئی گویا طے شدہ ہوتی ہے؟ کیا یہ مجبوری ہے یا فیصلہ سازی میں بے احتیاطی؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی خاندان ایک دریائی علاقے سے اٹھ کر دوسرے ایسے ہی خطرناک علاقے میں محض اس لیے شفٹ ہو جاتے ہیں کہ وہاں زمین “سستی” مل رہی ہے۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سستی زمین کی قیمت وہ اپنی زندگی، بچوں کے مستقبل اور ذہنی سکون سے چکاتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے جیسے کچھ لوگ وقتی سہولت یا کم خرچ کے نام پر اپنی نسلوں کو مستقل خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہر بار جب سیلاب آتا ہے، یہی لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، پکار اٹھتے ہیں، مدد مانگتے ہیں اور پھر چند سال بعد وہی چکر دہراتے ہیں۔
کیا یہ سچ میں سستا سودا ہے؟
کیا وہ زمین سستی ہے جس کے بدلے آپ ہر سال اپنی عزت، صحت، تعلیم، روزگار اور جان کو خطرے میں ڈال دیں؟
“سمجھدار فیصلہ سازی کی ضرورت ہے”
سمجھداری یہ ہے کہ گھر ایسی جگہ بنایا جائے جہاں:
– قریبی مسجد ہو تاکہ روحانی سکون میسر آئے
– اسکول ہو تاکہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو
– ہسپتال ہو تاکہ ایمرجنسی میں وقت ضائع نہ ہو
– بازار ہو تاکہ زندگی کی بنیادی ضروریات آسانی سے پوری کی جا سکیں
اور سب سے بڑھ کر، ایسا علاقہ ہو جہاں سیلاب یا قدرتی آفات کا مستقل خطرہ نہ ہو۔
آج کا دور شعور، معلومات اور فیصلے کا ہے۔ سستی زمین کی لالچ میں مہنگا نقصان مت خریدیں۔ آپ کا گھر صرف اینٹ پتھر کا ڈھانچہ نہیں، وہ آپ کے خواب، آپ کی نسل اور آپ کی حفاظت کا قلعہ ہونا چاہیے۔
پائیدار فیصلے کیجیے، وقتی سہولت پر دائمی تکلیف مت مول لیجیے۔