0

حالیہ سیلاب اور دینی مدارس/ تحریر/محمد عدنان

حالیہ سیلاب اور دینی مدارس

ازقلم: محمد عدنان۔
امید سحر

پاکستان میں دینی مدارس محض تعلیم و تدریس کے مراکز نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ ادارے قرآن و سنت کی تعلیم کے چراغ روشن کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف یہ مختلف مواقع پر فلاحی خدمات اور رفاہی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلاب نے خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس سے ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، درجنوں بستیاں اجڑ گئیں اور عوام شدید مشکلات میں مبتلا ہوگئے۔ اس ہنگامی صورتحال میں جہاں حکومتی ادارے، فوج اور ریسکیو تنظیمیں سرگرم رہیں، وہیں دینی مدارس نے بھی ایک غیر رسمی اور خود رو فلاحی نیٹ ورک کے طور پر متاثرین کی غیر معمولی امداد کی۔

مدارس کا کردار اور خدمات:
سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران پاکستان کے مدارس نے یہ واضح پیغام دیا کہ وہ صرف تعلیمی مراکز نہیں بلکہ سماج کی عملی ضرورتوں کو پورا کرنے والے ادارے بھی ہیں۔

طلباء کی عملی شرکت:
بونیر اور دیگر متاثرہ علاقوں میں جب سیلاب کی تباہ کاریاں اپنے پیچھے ویرانیوں کے انبار چھوڑ گئیں تو ایسے وقت میں تین ہزار سے زائد مدارس کے طلباء نے خدمتِ خلق کا عظیم باب رقم کیا۔ یہ نوجوان دین کے علم بردار اپنے کندھوں پر صرف کتب ہی نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر مکانوں اور دکانوں سے ملبہ ہٹاتے رہے تاکہ متاثرین ایک بار پھر اپنی زندگی کو سنوار سکیں اور امید کی کرن پا سکیں۔
اس مشکل گھڑی میں جہاں تھکن، بھوک اور پیاس ان کے حوصلے آزما رہے تھے، وہیں ان کے کردار کی بلندی نے سب کے دل جیت لیے۔ ملبہ ہٹانے کے دوران ایک مقام پر تقریباً پندرہ سے بیس تولہ سونا برآمد ہوا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں انسان کی نیت کا امتحان ہوتا ہے۔ مگر ان معصوم طلباء نے اپنی تربیت اور ایمانی بصیرت سے یہ ثابت کیا کہ دیانت داری ہی اصل دولت ہے۔ انہوں نے وہ قیمتی سونا فوراً اس کے اصل مالک تک پہنچایا، جس پر مالک شکر گزار ہوا اور خوشی کے اظہار کے طور پر ایک طالب علم کو دس ہزار روپے انعام میں دیے۔
لیکن ایمان و اخلاص کے پیکر اس طالب علم نے وہ رقم بھی اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے متاثرین کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے نہ صرف ایمان افروز تھا بلکہ معاشرے کو یہ پیغام دے گیا کہ مدارس کے یہ چراغ صرف علم کے نہیں بلکہ کردار کے بھی امین ہیں۔ ان کی ایمانداری نے یہ باور کرا دیا کہ اصل خدمت وہی ہے جس میں ذاتی مفاد شامل نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی رضا اور مخلوق کی بھلائی مقصود ہو۔

یوں بونیر اور دیگر علاقوں میں مدارس کے طلباء نے اپنی عملی کوششوں اور بے مثال ایمانداری کے ذریعے نہ صرف گھروں اور دکانوں کا ملبہ صاف کیا بلکہ دلوں سے غفلت کا ملبہ بھی ہٹایا اور یہ پیغام دیا کہ ایمان، اخلاص اور خدمت ہی ایک روشن معاشرے کی بنیاد ہیں۔
اسی طرح جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں اساتذہ نے اپنی تدریسی مصروفیات اور سہ ماہی امتحانات کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال دیا، کیونکہ ان کے نزدیک انسانیت کی خدمت سب سے بڑی ترجیح تھی۔ امتحان کا کمرہ خالی رہا مگر سیلاب زدہ بستیوں کے گلی کوچے ان کے قدموں سے آباد ہوگئے۔ جہاں کبھی کتابیں اور کاپیاں بکھری ہوتیں، وہاں آج سیلاب زدگان کے لیے دوائیں، راشن اور کپڑے جمع ہورہے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قلم نے خدمت کا روپ دھار لیا اور نصابِ تعلیم نے نصابِ عمل کی شکل اختیار کرلی۔ مدارس کے طلبہ اور اساتذہ نے اپنی محنت اور وقت غم زدہ خاندانوں کے نام کردیا۔ امتحانات موخر ہوئے مگر خدمتِ خلق کے یہ اوراق تاریخ میں ہمیشہ روشن رہیں گے۔

امدادی سامان کی فراہمی:
خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب کے مختلف مدارس نے حالیہ سیلابی آفات کے بعد جس سرعت اور خلوص کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا رخ کیا، وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ ان مدارس نے محض ہمدردی کے نعرے نہیں لگائے بلکہ عملی میدان میں اتر کر انسانیت کی خدمت کی ایک زندہ تصویر پیش کی۔ جہاں کہیں بھوک نے خیمہ زن کیا، وہاں یہ طلباء اور اساتذہ راشن کے تھیلے لیے پہنچے۔ جہاں بیماری نے ڈیرے ڈالے، وہاں یہ قافلے ادویات کے ڈبے تھامے نظر آئے۔ اور جہاں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے بے بسی کے ساتھ بیٹھے تھے، وہاں مدارس نے خیمے اور صاف پانی کی صورت میں زندگی کی نئی سانسیں فراہم کیں۔

یہ امداد صرف وقتی ریلیف تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے اثرات نے متاثرہ افراد کو دوبارہ زندگی کے بنیادی وسائل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیاسے ہونٹوں کو پانی میسر آیا، بیمار جسموں کو شفا کی امید ملی، بھوکے پیٹوں میں رزق پہنچا، اور بے گھر خاندانوں کو سر چھپانے کا سہارا ملا۔ یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ مدارس اپنی درسگاہوں سے نکل کر معاشرے کے دکھ درد میں شریک ہیں، اور ان کا کردار محض مذہبی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ انسانی خدمت کی لازوال روایات سے جڑا ہوا ہے۔

خاموش خدمات:
ایسے مدارس بھی موجود ہیں جن کی خدمات سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر زیادہ نمایاں نہیں ہوئیں، لیکن وہ خاموش انداز میں غیر معمولی فائدہ پہنچا چکے ہیں اور اب بھی سرگرم عمل ہیں۔ ان کا یہ غیر نمائشی کردار ان کے اخلاص اور خدمت کے جذبے کی دلیل ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مدارس کی خدمات کو بیان کرنے کا مقصد کسی دوسرے ادارے یا فرد کی خدمات کو فراموش کرنا ہرگز نہیں۔ اس موقع پر حکومت، فوج، ریسکیو اداروں اور مختلف سماجی شخصیات نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر مفتی فضل غفور صاحب اور ان کے رفقاء کی جدوجہد نمایاں رہی، جنہوں نے متاثرین کی عملی مدد کی اور لوگوں کو حوصلہ دیا۔ اسی طرح مختلف سوشل میڈیا کارکنان اور نمایاں شخصیات نے بھی نہ صرف توجہ دلائی بلکہ براہِ راست متاثرہ علاقوں میں جا کر خدمت کی۔ یہ سب خدمات اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ مصیبت کی گھڑی میں پوری قوم ایک ہے۔

مدارس کا مستقبل کا کردار

اس حالیہ تجربے نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ اگر دینی مدارس کی رفاہی خدمات کو ادارہ جاتی سطح پر منظم کیا جائے تو یہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے سب سے بڑا اور مؤثر فلاحی نیٹ ورک بن سکتے ہیں۔ مدارس کے پاس ملک گیر سطح پر طلباء اور اساتذہ کی ایسی افرادی قوت موجود ہے جو بوقتِ ضرورت تیزی سے متحرک ہو سکتی ہے۔ اگر اس قوت کو تربیت، وسائل اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے ساتھ منسلک کیا جائے تو مستقبل میں یہ نیٹ ورک قدرتی آفات، ہنگامی حالات اور انسانی مسائل سے نمٹنے کے لئے مثالی کردار ادا کر سکتا ہے۔
نتیجہ:
پاکستان کے مدارس نے حالیہ سیلابی آفت میں اپنی بے مثال خدمات کے ذریعے یہ حقیقت ایک بار پھر روشن کر دی ہے کہ وہ صرف دینی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لئے ایک مضبوط سہارا بھی ہیں۔ جب پانی کے بے رحم ریلا گاؤں اجاڑ گئے، مکانوں کو زمین بوس کر گئے اور زندگیاں مایوسی کی دھند میں لپٹ گئیں، تو ایسے میں یہی مدارس تھے جن کے طلباء و اساتذہ امید کی شمع بن کر متاثرین کے درمیان پہنچے۔
ان کے وجود نے ثابت کیا کہ مدارس کی دیواروں میں محض درس و تدریس کی بازگشت نہیں گونجتی، بلکہ وہاں سے اخلاص، قربانی اور ایثار کے چراغ بھی روشن ہوتے ہیں۔ انہوں نے صرف کتابوں کے اوراق سے سبق نہیں پڑھا بلکہ عملی زندگی میں اپنے کردار سے انسانیت کا سبق بھی دیا۔ لاکھوں متاثرہ افراد، جو اپنے مستقبل کو اندھیروں میں ڈوبا ہوا دیکھ رہے تھے، انہی مدارس کے طلباء کی کاوشوں سے نئی توانائی اور حوصلے سے ہمکنار ہوئے۔

یہ خدمات صرف جسمانی مدد تک محدود نہ رہیں، بلکہ دلوں کو یہ یقین بھی دلایا کہ معاشرے کے سب سے پسماندہ اور کمزور طبقات کی مدد کے لئے سب سے آگے یہی دینی ادارے کھڑے ہیں۔ یوں مدارس نے اپنی کاوشوں کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ وہ صرف مذہبی علم کے امین نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح، خدمت اور فلاح کے حقیقی ادارے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں