روزنامہ اسلام نے 24برس کا سفر طے کیا/تحریر/علی ہلال کراچیروزنامہ اسلام نے 24 برس کا سفر طے کیا۔ صحافت کے بے لق وق صحراء پر اس وقت جو خزان زدہ فضاؤں کا راج ہے۔اس میں بھی روزنامہ اسلام نے دستارکو سنبھالا ہوا ہے ۔
کبھی ہم بچے تھے اور مدارس میں اخبار پڑھنا گناہ تھا۔ بے ہودہ اشتہارات اور گلیمرز سے آلودہ ہوئے بغیر اخبار کا نکلناناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ ایسے میں پہلے ضرب مومن اور پھر روزنامہ اسلام نے منفرد انداز میں نکل کر ہمارا رابطہ خبروں کی دنیا سے قائم کیا۔ یہ ایک فیڈ ورک تھا۔دماغ میں صحافتی نظریات اور تصور بٹھانے کی کوشش تھی۔
24 برس ہوگئے ۔
ادارے کا ہی حوصلہ ہے کہ گلیمر کی رنگینیوں سے متاثر ہوئے بغیر جریدے کو جاری رکھتے ہوئے اپنے قارئین کے ساتھ آج تک جڑا ہواہے۔ روزنامہ اسلام نہ تھکا نہ ہارا نہ مایوس ہوا۔ اللہ کرے یہ سفر نئی ترقیوں کے ساتھ یوں ہی وابستگان کے ساتھ وفاء اور پروفیشنل ازم کے ساتھ جاری رہے۔
میرے لئے یہ اعزاز ہے کہ گزشتہ 12 برس سے میں روزنامہ اسلام سے وابستہ ہوں ۔
میں تہہ دل سے ادارے کے منتظمین ،کارکنان اور تمام وابستگان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔