
ادبی تحریروں میں اے آئی کا بڑھتا ہوا رجحان
دانیال حسن چغتائی
دنیا برق رفتاری سے بدل رہی ہے۔ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے کا جملہ تو بہت پرانا ہو چکا۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور دنیا مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کا مثبت کے بجائے منفی استعمال کرنے میں زیادہ ماہر ہیں اور حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ ادبی مقابلوں، کتابوں کے تبصروں اور دیگر ادبی سرگرمیوں میں اے آئی کا استعمال بہت زیادہ کیا جا رہا ہے۔ کتاب پڑھے بغیر اس کو چند ہدایات دے کر تبصرے لکھوا لینا، اسی طرح افسانے اور دیگر چیزیں اے آئی سے لکھوا کر پرنٹ کروائی جا رہی ہیں اور اس میں نئے لوگوں کے ساتھ پرانے لکھنے والے بھی برابر شامل ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر حال ہی میں شائع ہونے والے کرن کرن روشنی کے جاسوسی نمبر کے اداریے میں مدیر نے بہت باریک بینی سے روشنی ڈالی ہے۔
ادب احساس کا رزق ہے۔ حال ہی میں ایک بڑے میگزین کے ایڈیٹر کا تبصرہ پڑھنے کا اتفاق ہوا جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے لکھا گیا تھا اور وہ کتاب میں شامل بھی ہوا۔ جب کسی کتاب کے چھپنے سے پہلے ہی اس پر تبصرہ، تجزیہ یا تاثرات مصنوعی ذہانت سے لکھے جا رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تحریروں کا مقام کیا ہے ؟ اگر لوگ ابھی بات نہ بھی کر رہے ہوں تو آنے والے دور میں مورخ ان کو کوڑے دان میں ڈال دے گا اور پھر ان کے لیے وہ کچھ کہا جائے گا جو آج سے پہلے والے لوگوں کے لیے کہا جاتا ہے۔ 90 کی دہائی میں لوگ جو کچھ کرتے رہے اس پر آج ببانگ دہل جو کچھ کہا جاتا ہے ان لوگوں کے لیے بھی مستقبل میں پھر یہی کچھ ہی سامنے آئے گا۔
کیا یہ تحریریں احساس رکھتی ہیں؟ کیا ان میں وہ صداقت ہے جو مطالعے سے جنم لیتی ہے؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کتاب پڑھے بغیر، محض چند جملے یا خاکہ دے کر اے آئی سے تبصرہ لکھوا لیا جاتا ہے اور یوں مطالعے کی روایت، جو ادب کی بنیاد تھی، رفتہ رفتہ کمزور پڑ رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ اے آئی نے لکھنے والوں کے لیے سہولت پیدا کی ہے، وقت بچایا ہے، زبان و بیان کو سنوارا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی وجہ سے ہی ادبی سچائی اور تحقیقی دیانت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ماضی کے تبصرے گھنٹوں کے مطالعے، غور و فکر اور ذاتی تاثر سے مرتب ہوتے تھے، اب منٹوں میں مشین کی مدد سے لکھے جا رہے ہیں۔ یہ تو گنے کے جوس والا حال معلوم ہو رہا ہے کہ ایک طرف سے پرامپٹ دو اور دوسری طرف سے جوس یعنی تحریر نکالو اور سوشل میڈیا پر ڈال دو ، جس کے بعد خوب داد بھی سمیٹنے کو ملتی ہے۔ یوں ادب کا وہ رنگ جس میں جذبات، احساسات اور تجربات یکساں طور پر گھلے ہوتے تھے، اب رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگا ہے۔
کرن کرن روشنی کے اداریے میں بجا فرمایا گیا کہ قلمکار کے احساسات سے جو تحریر جنم لیتی ہے وہ مشین کبھی نہیں سمجھ سکتی۔ اے آئی الفاظ جوڑ سکتی ہے مگر احساس نہیں بُن سکتی۔ وہ جملے تراش سکتی ہے مگر تاثر پیدا نہیں کر سکتی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس نئی ٹیکنالوجی کو دشمن نہ سمجھیں بلکہ اس کے استعمال میں توازن پیدا کریں۔ اے آئی کو بطور مددگار استعمال کیا جائے مگر مطالعہ اور مشاہدہ کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ جو لکھنے والا خود نہیں پڑھتا، وہ چاہے کتنی ہی مشینوں سے مدد لے، اس کے الفاظ میں وہ رُوح پیدا نہیں ہو سکتی جو مطالعے کے بعد لکھنے سے ہوتی ہے۔
مستقبل کا ادب ان قلم کاروں کا ہی ہوگا جو ہے ساتھ ساتھ کے ذریعے اور اپنی محنت کے ذریعے کام کریں گے۔ مطالعہ ہی وہ واحد کلید ہے کہ جس کے ذریعے نت نئے شاہکار سامنے آتے ہیں اور انہی میں سے ہی پھر بہت سارے تاریخ میں زندہ رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی کرن کرن روشنی نے اپنی تازہ اشاعت میں ہمیں یاد دہانی کرائی ہے۔ ہم نے تو حال دل کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔ اب جو مزاج ہے یار میں آئے۔ ہر دور میں حق پرستوں کے قبیل میں کم لوگ رہے ہیں اور اب بھی معاملہ وہی ہے۔
جو دوست اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں ان کو اس سے بچنا چاہیے کہ یہ ان کی تخلیقی صلاحیت کے لیے سم قاتل ثابت ہوگا۔