0

بیٹی کا جہان / تحریر / محمد فضیل انصاری

بیٹی کا جہان / تحریر / محمد فضیل انصاری

بیٹی کا جہان محبت، معصومیت اور روشنی سے بنا ہوا ہے۔ یہ جہان صرف ایک فرد کی زندگی نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کی بنیاد ہے۔ بیٹی کو عموماً نازک پھول کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیٹی کا وجود ایک مضبوط رشتے اور محبت کی جڑوں میں پرویا ہوا ہے۔ اس کی مسکراہٹ گھر کے ہر کونے کو زندگی بخش دیتی ہے اور اس کی معصومیت خاندان کے دلوں میں سکون پیدا کرتی ہے۔

بیٹی کی پیدائش کا لمحہ صدیوں سے انسانی رویوں کا آئینہ رہا ہے۔ کچھ معاشروں میں اسے بوجھ سمجھا گیا، جب کہ کچھ نے اسے رحمت مانا۔ مگر وہ گھر جہاں بیٹی کو خوشی سے قبول کیا جاتا ہے، وہاں محبت اور سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔ بیٹی کی پیدائش والدین کے لیے ایک نئی ذمہ داری اور خوشی لے کر آتی ہے۔ وہ اپنے بچپن میں والدین کے دل کی ٹھنڈک ہوتی ہے، اپنے معصوم سوالات سے زندگی میں نیا ذوق پیدا کرتی ہے اور اپنی ہنسی سے گھر کے ماحول کو جنت بناتی ہے۔

بچپن کا جہان بیٹی کے لیے کھیل اور معصومیت کا جہان ہے۔ وہ گڑیوں سے کھیلتے ہوئے اپنے اندر ماں بننے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ وہ کھیل ہی کھیل میں محبت، ہمدردی اور ذمہ داری کا سبق سیکھتی ہے۔ اس کے ننھے قدم والدین کے خوابوں کو نئی راہ دیتے ہیں۔ اس کے بولنے کا انداز، اس کی ہنسی اور اس کی شرارتیں والدین کی زندگی کو رنگین بنا دیتی ہیں۔

جب بیٹی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اس کا جہان مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ اس کے خواب بڑے ہو جاتے ہیں، اس کی خواہشات نئے رنگ اختیار کر لیتی ہیں اور اس کی شخصیت زیادہ شعور مند ہو جاتی ہے۔ والدین کے لیے یہ وقت فکر کا بھی ہوتا ہے اور فخر کا بھی۔ بیٹی کی تعلیم، اس کی تربیت اور اس کے مستقبل کی فکر انہیں اپنی زندگی کا مقصد لگنے لگتی ہے۔ بیٹی کو علم دینا دراصل پورے خاندان کو علم دینا ہے کیونکہ تعلیم یافتہ بیٹی آنے والی نسل کی معلمہ ہوتی ہے۔

بیٹی کا جہان صرف والدین تک محدود نہیں رہتا بلکہ بھائی بہن کے رشتوں کو بھی محبت سے جوڑتا ہے۔ بہن بھائی کی شکل میں بیٹی ایک ایسا رشتہ قائم کرتی ہے جو زندگی بھر قائم رہتا ہے۔ وہ بھائی کے لیے ہمدرد، رازدار اور سہارا بنتی ہے۔ اس کی دعائیں بھائی کے لیے ڈھال اور اس کی موجودگی گھر کے سکون کا باعث بنتی ہے۔

بیٹی جب شادی کے بعد دوسرے گھر میں جاتی ہے تو اس کا جہان ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اپنی معصومیت اور تربیت کو ساتھ لے کر ایک نئے خاندان کو آباد کرتی ہے۔ وہ ماں، بہن اور بیوی کے نئے کردار ادا کرتی ہے مگر بیٹی ہونے کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے والدین کے لیے ہمیشہ بیٹی ہی رہتی ہے۔ اس کی محبت اور عقیدت کبھی کم نہیں ہوتی۔

تاریخ میں بیٹی کے جہان کی عظمت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ حضرت فاطمہؓ کا کردار بیٹی کی حیثیت سے بے مثال ہے۔ انہوں نے اپنے والد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وفا، محبت اور خدمت کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ان کی ذات نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ بیٹی کا جہان محض جذباتی نہیں بلکہ روحانی عظمت کا حامل بھی ہے۔

بیٹی کے جہان میں دکھ اور چیلنجز بھی شامل ہیں۔ معاشرتی رویے، جہیز کے مسائل، تعلیم کی کمی اور صنفی امتیاز بیٹی کے سفر کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ مگر جو خاندان اور معاشرے بیٹی کو رحمت سمجھتے ہیں، وہاں ترقی، محبت اور خوشحالی جنم لیتی ہے۔ بیٹی دراصل وہ چراغ ہے جو اپنے وجود سے نہ صرف والدین کا گھر روشن کرتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا ذریعہ بنتی ہے۔

یوں بیٹی کا جہان محبت، قربانی، وفا اور روشنی سے بھرا ہوا ہے۔ اس جہان کو سمجھے بغیر معاشرتی زندگی کی کوئی بھی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔

✍️ مصنف / محمد فضیل انصاری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں