جون ایلیاء کی برسیتحریر: عبدالجبار سلہری
برسی کے دن ایک خاموش سناٹا دل کی گہرائیوں میں اترتا ہے۔ وہ سناٹا جو لفظوں میں نہیں ڈھلتا، مگر احساسات کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ جون ایلیاء کی یاد صرف ایک شاعر کی یاد نہیں، بلکہ ایک ایسا ادبی جہان ہے جو بظاہر بند ہوا، لیکن اپنی گونج کے ساتھ اب بھی زندہ ہے۔
ہر برسی ایک سوال چھوڑ جاتی ہے: کیا ہم نے اس شخصیت کو پہچانا بھی تھا یا نہیں؟ جون ایلیاء کے حوالے سے یہ سوال اور بھی دقیق بن جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنی ذات کو پہچاننے اور پہچنوانے کے حزن و ملال میں مبتلا شاعر تھے۔ ان کی برسی پر یاد کرنا محض ایک رسمی ادبی عمل نہیں، بلکہ اردو تہذیب اور فکری ورثے کے ایک بڑے باب کا دوبارہ حصول بھی ہے۔
جون ایلیاء، جن کا اصلی نام سید حسین سبط اصغر نقوی تھا، 14 دسمبر 1931ء کو امروہہ (اترپردیش، برصغیر) میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ ادبی اور علمی مزاج کا حامل تھا۔ والد شفیق حسن ایلیاء ایک عالم اور شاعر تھے، اور بڑے بھائی رئیس امروہوی خود ادیب و صحافی تھے۔
جون ایلیا کمیونسٹ خیالات رکھتے تھے اور ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے، مگر بعد میں انہیں ایک سمجھوتے کے طور پر قبول کرنا پڑا۔ تقسیم ہند کے بعد بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات میں جون ایلیاء نے 1957ء میں پاکستان کا رخ کیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ یہ ہجرت محض جغرافیائی انتقال نہ تھی بلکہ فکری و وجودی تجربات کا ایک نیا سفر تھا۔ وہ خود اس کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
”اب نہیں کوئی بات خطرے کی،
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے“
یہ شعر ان کی اس ذہنی کیفیت کا نمائندہ ہے، جس میں وہ ایک غیر یقینی دنیا کو دیکھتے تھے اور اس کے تضادات کو اپنی شاعری کا حصہ بناتے تھے۔
ایک قابل ذکر مگر اہم پہلو ان کے مذہبی عقائد ہیں۔ جون ایلیا شیعہ تھے اور اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا استعمال کرتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ان کی خاص عقیدت تھی اور وہ اپنی سیادت پر فخر کرتے تھے۔ ان کے قریبی دوست سید ممتاز سعید بتاتے ہیں کہ جون نے امروہہ کے سید المدارس میں تعلیم حاصل کی، جو اہل تشیع کا معتبر مذہبی مرکز تھا۔ اس علمی و مذہبی تربیت نے ان کے فکر و شاعری کی گہرائی میں اضافہ کیا۔
شاعری کی طرف ان کا رجحان ابتدا ہی سے تھا، مگر پہلا مجموعہ ”شاید“ ساٹھ برس کی عمر میں شائع ہوا۔ اس تاخیر کے باوجود ان کی حیثیت کم نہ ہوئی، بلکہ اس سے ایک مستحکم مقام عطا ہوا۔
ان کی شاعری میں داخلی کشمکش، فلسفیانہ تلمیحات اور روایت کے اندر بغاوت ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ وہ کلاسیکی غزل کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اس میں نئے تناؤ اور وسعت پیدا کرتے ہیں۔ خود اپنی ذات کو بھی وہ سوالیہ نشان بناتے ہیں:
”میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس،
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں“
یہی وہ لہجہ ہے جو ان کی شاعری کو دوسروں منفرد بناتا ہے،کبھی طنز، کبھی خود کلامی، کبھی وجودی اضطراب۔
ان کے یہاں عشق کا بیان بھی منفرد ہے۔ وہ محبوب سے شکوہ بھی کرتے ہیں اور محبت کی بے ثباتی کو آشکار بھی کرتے ہیں:
“کون ہوں میں جو رائیگاں ہی گیا،
کون تھا جو کبھی ملا ہی نہیں”
یہی انداز ان کی شاعری کو زندہ، تازہ اور قاری کے دل کے قریب کرتا ہے۔
ادبی ناقدین کے مطابق، جون کی شاعری کی اصل قوت یہ ہے کہ وہ قاری کو آسان میدان فہم مہیا نہیں کرتے بلکہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کچھ اردو ناقدین لکھتے ہیں کہ:
”جون ایلیاء کی شاعری میں روایت اور جدت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اردو غزل کے مزاج کو نئی سمت عطا کرتا ہے۔“
شاعری کے ساتھ ساتھ جون ایلیاء نے تراجم اور نثر میں بھی بڑا کام کیا۔ انہوں نے فلسفیانہ اور ادبی متون کو اردو میں منتقل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محض شاعر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت دانشور بھی تھے۔ بدقسمتی سے ان کا نثری سرمایہ کہیں دستیاب نہیں ہے۔
جون ایلیاء کی شخصیت میں ایک باغیانہ لہجہ بھی تھا۔ وہ مذہب، معاشرت اور سیاست پر کھل کر اظہارِ رائے کرتے۔ ان کے الفاظ آج بھی سماجی تضاد پر بجلی بن کر گرتے ہیں:
“یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا؟”
یہ شعر ان کے اسی اضطراب کا عکس ہے جو ان کے پورے تخلیقی جہان پر محیط تھا۔
جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے اور سخی حسن قبرستان میں مدفون ہوئے۔ ان کے جانے کے بعد اردو ادب نے صرف ایک شاعر نہیں کھویا، بلکہ ایک ایسا فکری جہان بھی رخصت ہوا جو نئی نسل کو سوال کرنے کا حوصلہ دیتا رہا۔
ان کی شاعری و ادب محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک عہد کی تصویر ہے۔ جون نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا:
”کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا بتاؤں میں،
عالم دھواں دھواں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا“
اور کبھی اپنی بے سمتی اور اضطراب کو یوں ظاہر کیا:
”اب مری کوئی زندگی ہی نہیں،
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا“
ہر برسی ایک لمحۂ توقف ہے، ماضی کو تازہ کرنے کا، نئے سوال کرنے کا، اور آگے بڑھنے کا۔ جون ایلیاء کی برسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم نے اپنی زبان کے ان فنکاروں کی قدر کی، جو اپنی جان کھپا کر ادب کو زندہ رکھتے ہیں؟
یہ برسی محض ایک رسمی یادگار نہیں، بلکہ ادب کا جشن اور فکر کا محاسبہ ہے۔ جون ایلیاء نے جو زبان بولی، جو سچ کہا اور جو بغاوت رقم کی، وہ آج بھی زندہ ہے۔ اگر اس دن ہم خاموشی اختیار کریں، تو اسی خاموشی میں ان کی شاعری ہماری زبان بنے، ان کی فکر ہماری روشنی بنے۔ یہی برسی کا حقیقی مقصد ہے، یاد کی ادائیگی نہیں، بلکہ حرکتِ فکر اور بازپرسِ وجدان۔
شاعر صرف شعر نہیں کہتا، وہ وقت کے سینے پر اپنے زخم اور اپنے سوال کندہ کرتا ہے۔ جون نے اردو زبان کو صرف الفاظ نہیں دیے، بلکہ ایک ایسی آواز دی جو تنہائی میں بھی سنائی دیتی ہے، اور خاموشی میں بھی بولتی ہے۔
ان کی زندگی سوال تھی، شاعری احتجاج تھی، اور فکر بغاوت۔ وہ خود فنا ہو گئے، مگر اپنے اندر کا اضطراب اور اپنی ذات کی گونج ہمارے حصے میں چھوڑ گئے۔ ادب کا مقصد صرف دل بہلانا نہیں، بلکہ سوچ جگانا، روح کو ہلانا اور سچائی کی تلخی کو لفظوں میں ڈھالنا ہے۔
لہٰذا جون ایلیاء کی برسی محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے، جس میں ہم خود کو دیکھ سکتے ہیں، اور یہ جان سکتے ہیں کہ ہم نے اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے فنکاروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔