
کامیابی کا نیا رخ – نئی نسل، نئی دنیا، نئے مضامین
(تحریر – ڈاکٹر عائشہ اسد)
“تعلیم کا اصل کمال نمبروں میں نہیں، بلکہ سمجھ بوجھ اور مستقبل کی تیاری میں ہے۔ والدین اور طلبہ کو چاہیے، کہ وہ محدود راستوں سے نکل کر بدلتی دنیا کے نئے مواقع کو پہچانیں۔”
ہر سال امتحانی نتائج کے موقع پر ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ والدین کی گھبراہٹ، طلبہ کی بے چینی، لگاتار تقابلی باتیں، اور نمبروں کی دوڑ۔ نمبروں کا مقصد سیکھنے کو پرکھنا ہے، لیکن عملاً یہ بچوں کی پوری شخصیت اور مستقبل کا واحد پیمانہ بن چکا ہے۔ یہی سوچ طلبہ اور والدین پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے، اور تعلیم کے اصل مقصد علم، نشوونما اور زندگی کی تیاری کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔
مگر مسئلہ صرف نمبروں کی دوڑ تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور سخت سوچ بھی جمی ہوئی ہے۔ یہ یقین کہ کامیابی صرف تین شعبوں میں ہے ; ایم بی بی ایس، انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن۔ والدین سمجھتے ہیں، کہ یہی راستے خوشحال مستقبل کی ضمانت ہیں۔ دوسری جانب وہ شعبے جو آج کی دنیا میں زیادہ مانگ اور وسعت رکھتے ہیں۔ مثلاً کمپیوٹر سائنس، سائبر سکیورٹی، قانون، زراعت، ڈیٹا اینالیٹکس، قابلِ تجدید توانائی اور نفسیات اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ یوں طلبہ دوہرے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک طرف نمبروں کا بوجھ اور دوسری طرف محدود راستوں کا جبر۔
نمبروں کا جبر
ابتدائی عمر سے ہی بچوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے، کہ زیادہ نمبر ہی روشن مستقبل ہیں۔ نتیجتاً تعلیم ایک دوڑ بن جاتی ہے، جس میں اسکور بورڈ اصل مقصد پر غالب آجاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے نمبروں کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں۔ اسکول میرٹ لسٹ جاری کر کے بچوں کو صرف رینک میں تبدیل کر دیتے ہیں، اور اکیڈمیاں چند اضافی نمبر دلوانے کے دعوے پر کاروبار چمکاتی ہیں۔
اس کے اثرات خطرناک ہیں؛ نیند کی کمی، بے چینی، گھر میں تناؤ، اور اکثر ذہنی تھکن۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے، کہ سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ طلبہ سوالات کرنے اور مسائل حل کرنے کے بجائے رٹے بازی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ نمبر تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن تجسس، تخلیقی سوچ اور اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔
ایم بی بی ایس، انجینئرنگ اور بی بی اے کا محدود دائرہ
دہائیوں سے تین شعبے والدین اور طلبہ کے خوابوں پر حاوی ہیں: طب، انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن۔ ان شعبوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر صرف انہی تک نوجوانوں کو محدود کرنے سے تین بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں:
1. رش اور مایوسی: ہزاروں طلبہ چند نشستوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، اور ڈگری کے بعد بھی بے روزگاری یا کم تنخواہوں کا سامنا کرتے ہیں۔
2. دلچسپی اور صلاحیت کا تضاد : بہت سے طلبہ جنہیں اصل قابلیت آرٹس، قانون، کمپیوٹر یا سماجی علوم میں ہوتی ہے، ان کو ناپسندیدہ راستوں پر دھکیل دیا جاتا ہے۔
3. مواقع کا ضیاع : جدید شعبوں کو نظر انداز کرنے سے نوجوان عالمی مارکیٹ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
یہ تنگ نظری تعلیمی نظام سے بھی جڑی ہے۔ سرکاری اداروں میں اعلیٰ ثانوی سطح پر طلبہ کو عام طور پر صرف تین آپشنز ملتے ہیں: حیاتیات، ریاضی یا کمپیوٹر سائنس۔ قانون، زراعت، نفسیات، میڈیا یا ماحولیاتی علوم جیسے شعبوں کا ابتدائی تعارف نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً طلبہ ناآشنا رہتے ہیں، اور فیصلہ کرنے کے وقت پرانے راستے ہی اپناتے ہیں۔
دنیا بدل چکی ہے
عالمی جاب مارکیٹ ہماری روایتی سوچ سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں:
انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمپیوٹر سائنس: مصنوعی ذہانت سے کلاؤڈ کمپیوٹنگ تک، آئی ٹی عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات پہلے ہی 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
سائبر سکیورٹی: سائبر جرائم کے بڑھنے کے ساتھ ماہرین کی مانگ بے حد بڑھ گئی ہے۔
قانون: کارپوریٹ، ڈیجیٹل اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی آج کے دور میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔
زراعت و فوڈ سائنسز: پاکستان کی معیشت میں زراعت کا مرکزی کردار ہے۔ ایگریکلچر بزنس اور فوڈ ٹیکنالوجی ترقی کی بڑی کنجیاں ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی و ماحولیاتی علوم: موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری کے مسائل نے اس شعبے کو ناگزیر بنا دیا ہے۔
سماجی علوم و نفسیات: ڈپلومیسی سے لے کر میڈیا اور ذہنی صحت تک، ان کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ والدین پرانے شعبوں کے پیچھے بھاگتے ہیں جن کے مواقع سکڑ رہے ہیں، جبکہ وہ شعبے جنہیں وہ نظر انداز کرتے ہیں۔ وہی عالمی سطح پر زیادہ مستحکم اور منافع بخش ہیں۔
بلوچستان میں مسئلہ اور شدید ہے:
یہ مسئلہ پورے ملک میں پایا جاتا ہے، لیکن بلوچستان میں یہ اور زیادہ نمایاں ہے۔ یہاں کیریئر کونسلنگ کا فقدان ہے، نئے شعبوں سے تعارف نہ ہونے کے برابر ہے، اور تعلیمی ڈھانچہ کمزور ہے۔ اکثر طلبہ کو جدید مضامین کے بارے میں تب تک علم نہیں ہوتا جب تک وہ اعلیٰ تعلیم میں نہ پہنچ جائیں۔ تب تک ان کے پاس پرانے تین ہی راستے بچتے ہیں۔ یہی لاعلمی والدین کو نمبروں پر زیادہ زور دینے پر مجبور کرتی ہے، اور طلبہ کے پاس مواقع مزید سکڑ جاتے ہیں۔
والدین کو سوچ بدلنی ہوگی
والدین اپنے بچوں کے تعلیمی سفر میں پہلی رہنمائی کرتے ہیں۔ نیت اچھی ہوتی ہے، لیکن پرانی سوچ نقصان دہ بن جاتی ہے۔ چند مثبت تبدیلیاں یہ ہیں:
رٹنے کے بجائے تصورات پر زور دیں۔
بچوں کو اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق شعبہ تلاش کرنے دیں۔
کامیابی کی تعریف بدلیں۔ ڈاکٹر یا انجینئر ہونا ہی سب کچھ نہیں۔
جدید دنیا کو سمجھیں۔ نئے شعبوں اور عالمی جاب مارکیٹ سے آگاہ رہیں۔
صرف نمبروں پر نہیں بلکہ محنت، تخلیق اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پر بچوں کو سراہیں۔
حکومت اور اداروں کی ذمہ داری:
یہ بوجھ صرف والدین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ سرکاری تعلیمی نظام کو لازماً حیاتیات، ریاضی اور کمپیوٹر سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ثانوی سطح پر قانون، زراعت، میڈیا اسٹڈیز، نفسیات، ڈیٹا سائنس اور قابلِ تجدید توانائی جیسے مضامین کا تعارف کرایا جانا چاہیے۔ اسی طرح کیریئر کونسلنگ یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ طلبہ اور والدین کو بروقت رہنمائی مل سکے، خاص طور پر بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں میں۔
مستقبل کی تعلیم:
نمبروں کی دوڑ اور محدود راستوں کا جبر ہمارے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ طلبہ خوشی کھو رہے ہیں، والدین غیر حقیقی توقعات میں الجھ رہے ہیں، اور معاشرہ متنوع صلاحیتوں سے محروم ہو رہا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں، کہ نئی نسل بدلتے دور کے تقاضوں کے لیے تیار ہو، تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈاکٹر یا انجینئر پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسے سوچنے والے اور مسئلہ حل کرنے والے نوجوان تیار کرنا ہے، جو نئی دنیا کے چیلنجز قبول کر سکیں۔
مستقبل ان کا ہے، جو رٹے سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ جو مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں؛ اور نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو نمبروں کے جبر اور پرانے راستوں کی قید سے آزاد کرنا ہوگا۔ یہی اصل کامیابی اور قوم کی ترقی کا راستہ ہے۔