
بلوچستان: پاکستان کا اُبھرتا ہوا زیتون کا مرکز
بلوچستان کے زیتون عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں — نیویارک میں سلور میڈل جیتنا صرف ایک آغاز ہے، اصل تبدیلی ڈِرِپ ایریگیشن، سولر انرجی اور کسانوں کی محنت سے ممکن ہو رہی ہے۔
پاکستان اپنے قیام سے ہی ایک زرعی ملک کے طور پر پہچانا جاتا ہے، مگر افسوس کہ زراعت پر مبنی معیشت کی اصل صلاحیت آج تک پوری طرح اجاگر نہیں ہو سکی۔ ہر دورِ حکومت میں زیادہ تر توجہ پنجاب کے زرخیز میدانوں پر مرکوز رہی، جب کہ بلوچستان کو اکثر نظر انداز کیا گیا۔ عمومی تاثر یہ رہا کہ خشک سالی کا شکار بلوچستان ملکی معیشت میں خاطر خواہ زرعی کردار ادا نہیں کر سکتا۔
تاہم، جدید مطالعات اور عملی تجربات نے اس پرانی سوچ کو غلط ثابت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی موسمی اور ماحولیاتی خصوصیات — نیم خشک آب و ہوا، وافر دھوپ اور معدنیات سے بھرپور مٹی — زیتون اور انگور جیسی فصلوں کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ آج بلوچستان پاکستان میں انگور کی سب سے بڑی پیداوار فراہم کر رہا ہے، جب کہ زیتون ایک نئے معاشی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی کامیابی اس حقیقت کی واضح دلیل بنی: لورالائی زیتون نے 2025 میں منعقدہ نیو یارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپٹیشن میں سلور ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ مقابلہ دنیا کے سب سے بڑے اور معتبر مقابلوں میں سے ہے، جہاں 1,200 سے زائد بین الاقوامی برانڈز شریک تھے۔ یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں پیدا ہونے والا زیتون عالمی معیار کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
زیتون کیوں؟
زیتون دنیا بھر میں کم پانی لینے والی، مگر زیادہ منافع دینے والی فصل کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ نیم بنجر اور خشک علاقوں میں بھی یہ کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے، جہاں دیگر فصلیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ ایک پختہ زیتون کا درخت سالانہ 15 سے 25 کلو پھل دیتا ہے، جس سے 2 سے 3 لیٹر خالص زیتون کا تیل حاصل ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ زیتون کے باغات دہائیوں تک پیداوار دیتے رہتے ہیں اور کسانوں کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
جدید طریقے: ڈرِپ ایریگیشن اور سولر انرجی
بلوچستان میں ہمیشہ پانی کی کمی زراعت کی سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ روایتی نہری یا بہاؤ پر مبنی آبپاشی میں آدھے سے زیادہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ڈرِپ ایریگیشن سے پانی کی بچت 30 سے 60 فیصد تک ممکن ہے اور پیداوار کے معیار میں بھی واضح بہتری آتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ڈرِپ سسٹم کے تحت انگور اور زیتون زیادہ منافع دیتے ہیں۔
جب اس نظام کو سولر ٹیوب ویل کے ساتھ ملا دیا جائے تو کسان بجلی اور ڈیزل کے مسائل سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ یعنی قابلِ تجدید توانائی اور جدید آبپاشی کے امتزاج سے زیتون کی کاشت بلوچستان میں نہ صرف ممکن بلکہ پائیدار ہو جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک بار کی سرمایہ کاری ہے جس کے فوائد دہائیوں تک حاصل ہوتے ہیں۔
معاشی و سماجی اثرات
کم لاگت، زیادہ منافع: زیتون کے باغات ایک بار لگنے کے بعد معمولی دیکھ بھال سے مسلسل پیداوار دیتے ہیں۔
روزگار کے مواقع: مقامی سطح پر چھوٹے کارخانے اور کمیونٹی باغات کسانوں کو پائیدار آمدنی دیتے ہیں۔
برآمدی امکانات: پاکستان میں زیتون کا شعبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر بلوچستان کی صلاحیت اسے خوردنی تیل کی درآمد کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کے قابل بنا سکتی ہے۔
ماحولیاتی موافقت: زیتون خشک سالی برداشت کر لیتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
آئندہ کے اقدامات
بلوچستان کی اس صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے حکومت اور مقامی برادریوں کو مل کر منظم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
1. معیاری زیتون کی نرسریوں کا قیام تاکہ صحت مند پودے دستیاب ہوں۔
2. چھوٹے کسانوں کے لیے ڈرِپ ایریگیشن پر سبسڈی دینا۔
3. سولر ٹیوب ویل سسٹمز کا فروغ تاکہ توانائی کے مسائل ختم ہوں۔
4. ضلع زیارت، لورالائی اور قلعہ سیف اللہ جیسے علاقوں میں چھوٹے آئل پروسیسنگ یونٹس قائم کرنا۔
5. کسانوں کو باغبانی، کٹائی، کھاد اور کیڑوں سے بچاؤ کی جدید تربیت دینا۔
بلوچستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ پاکستان کا زیتون کا مرکز بن کر ملکی معیشت کا رخ بدل دے۔ اگر جدید آبپاشی اور سولر توانائی کے ساتھ زیتون کی کاشت کو فروغ دیا جائے تو یہ کسانوں کے لیے ایک پائیدار ذریعہ معاش اور ملک کے لیے اسٹریٹیجک زرعی شعبہ بن سکتا ہے۔
لورالائی زیتون کا عالمی سطح پر سلور ایوارڈ جیتنا محض ایک کامیابی نہیں بلکہ ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ بلوچستان اب روایتی زیتون پیدا کرنے والے خطوں کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور مقامی برادری مل کر اس سفر کو آگے بڑھائیں اور زیتون کو بلوچستان کے لیے ترقی اور خوشحالی کی علامت بنائیں۔
By Dr Ayesha Asad