
تعلیم یا جدائی – بے درد داستان
“کیا ایسی تعلیم بابرکت ہے جو والدین اور اولاد کے درمیان دیوار کھڑی کر دے؟”
پاکستان کے پسماندہ اور دیہی علاقوں کے والدین کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے پڑھ لکھ جائیں۔ غربت اور محرومیوں کے باوجود وہ اپنی جمع پونجی، زیور یا زمین قربان کر کے بچوں کو شہر یا دور دراز اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ روشن مستقبل بنا سکیں۔
لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہی بچے اپنے علاقے واپس نہیں جانا چاہتے۔ ان کا رہن سہن، سوچ اور انداز بدل چکا ہوتا ہے۔ والدین جنہوں نے قربانیاں دے کر انہیں تعلیم دلوائی، وہی اپنے بچوں میں اجنبیت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یوں تعلیم والدین اور اولاد کے درمیان قربت کے بجائے فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔
بدلتے رہن سہن اور اجنبیت – شہر یا بیرونِ ملک پڑھنے والے بچے نئے ماحول میں ڈھل جاتے ہیں۔ بولنے کا انداز، لباس اور سوچ مختلف ہو جاتی ہے۔ جب وہ واپس اپنے علاقوں میں آتے بھی ہیں تو نہ وہ پرانا ماحول انہیں راس آتا ہے اور نہ والدین کو ان کا بدلا ہوا روپ۔ یہ المیہ صرف پسماندہ علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے شہروں کے وہ بچے بھی جو بیرونِ ملک جاتے ہیں، اکثر واپس آنا پسند نہیں کرتے۔ بہتر سہولیات اور روزگار کے مواقع انہیں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ پرکشش لگتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں سالانہ تقریباً 80 ہزار طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جاتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف ایک محدود حصہ ہی واپس آ کر اپنے والدین اور وطن کے ساتھ جڑتا ہے۔ اکثر وہ بیرونِ ملک ہی مستقل رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔
کیا یہ کامیابی ہے کہ تعلیم انسان کو اپنی جڑوں سے کاٹ دے؟
بچوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلیم والدین سے رشتہ توڑنے کا نہیں بلکہ مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی کو برداشت کریں اور کھلے دل سے قبول کریں۔ بیرونِ ملک یا بڑے شہروں میں رہنے والے بچے مختلف کمیونٹیز اور کلچرز کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، اس سے ان کی سوچ وسیع ہوتی ہے۔ اگر والدین محبت سے اس تبدیلی کو قبول کریں تو فاصلہ کم ہو سکتا ہے۔
ہزاروں گھروں کی مشترکہ کہانی – یہ صرف چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ بلوچستان، اندرونِ سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گاؤں گاؤں میں یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ والدین بڑی امید سے بچوں کو دور بھیجتے ہیں، لیکن جب بچے واپس نہیں آتے یا اجنبی لگنے لگتے ہیں تو وہی تعلیم والدین کے لیے دکھ بن جاتی ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان کی صرف 37 فیصد دیہی آبادی کو سیکنڈری تعلیم تک رسائی حاصل ہے، اور ان میں سے بھی ایک بڑی تعداد شہر جا کر ہی تعلیم مکمل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ واپس اپنے علاقے لوٹتے ہیں تو والدین اور اولاد کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جاتی ہے۔
تعلیم کا مقصد – اسلامی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ تعلیم عاجزی، خدمت اور والدین کی اطاعت کا درس دیتی ہے۔ قرآن بار بار والدین کے احترام پر زور دیتا ہے۔ اگر تعلیم والدین کی آنکھوں میں خوشی کے بجائے آنسو لے آئے، تو کیا یہ حقیقی کامیابی ہے؟
بچوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ تعلیم کا اصل مقصد والدین اور علاقے سے وفاداری ہے۔
حکومت کو پسماندہ علاقوں میں مواقع پیدا کرنے چاہئیں تاکہ تعلیم یافتہ نوجوان واپس آ کر روزگار حاصل کر سکیں۔ موجودہ وقت میں پاکستان میں ایک گریجویٹ کے لیے دیہی علاقوں میں اوسط ماہانہ آمدنی صرف 15 سے 25 ہزار روپے ہے، جو اکثر معمولی مزدور کی کمائی سے بھی کم ہوتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نوجوانوں کو اپنے علاقوں سے دور جانے پر مجبور کرتی ہے۔
والدین کو بھی اپنے بچوں کو اقدار اور رشتوں کی اہمیت سکھانی ہوگی اور ساتھ ہی ان کی نئی سوچ کو قبول کرنے کے لیے اپنے دل بڑے رکھنے ہوں گے۔
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا؟ اگر تعلیم آپ کو اپنے والدین سے دور کر دے تو کیا یہ ترقی ہے یا المیہ؟ اگر ایک بیٹا تعلیم کے بعد والدین کو وقت ہی نہ دے تو والدین کی قربانیوں کا صلہ کہاں گیا؟ اگر تعلیم یافتہ نسل اپنے ہی علاقے کو حقیر سمجھے تو اس علاقے کا مستقبل کیسا ہوگا؟ کیا ہماری تعلیم ہمیں والدین کی خدمت سکھا رہی ہے یا صرف دنیاوی کامیابی کی دوڑ؟ اور کیا والدین اپنے بچوں کی نئی شخصیت کو خوش دلی سے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟
تعلیم کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ والدین اور معاشرے کے لیے آسانی اور سکون کا سبب بنے۔ اگر تعلیم والدین کو تنہائی اور بچوں کو اجنبیت کا تحفہ دے تو یہ کامیابی نہیں بلکہ المیہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اولاد اور والدین دونوں اپنے اپنے رویوں میں توازن پیدا کریں تاکہ تعلیم روشنی کا ذریعہ بنے، جدائی کا نہیں۔