0

جنرل ضیاء الحق نفاذِ اسلام کے داعی اور پاک فوج کا فخر/تحریر/ حکیم محمد زکریا نقشبندی

*جنرل ضیاء الحق نفاذ اسلام کے داعی اور پاک فوج کا فخر*
تحریر صاحبزادہ حکیم محمد زکریا نقشبندی

جنرل محمد ضیاء الحق پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ کا ایک ایسا نام ہے جو ہمیشہ اسلامی فکر، شریعت کے نفاذ اور پاک فوج کی عظمت کے ساتھ جڑا رہے گا۔ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر ہوا تھا لیکن عملی سطح پر ملک کو اسلامی نظریے کے مطابق ڈھالنے کے لیے کئی دہائیوں تک بھرپور اور سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ ایسے حالات میں جنرل ضیاء الحق سامنے آئے اور انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے مقصد کے طور پر اسلام کے نفاذ کو اختیار کیا۔ وہ نہ صرف ایک پیشہ ور جرنیل تھے بلکہ ایک ایسے مخلص رہنما بھی تھے جو ذاتی طور پر دین دار اور سادہ مزاج انسان تھے۔ ان کی زندگی کے کئی پہلو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ محض اقتدار کے حصول کے خواہاں نہ تھے بلکہ اسلام کو ریاستی اور سماجی سطح پر رائج کرنے کے لیے مخلصانہ جذبہ رکھتے تھے۔

پاک فوج سے ان کی وابستگی اور سفر بھی انتہائی شاندار تھا۔ انہوں نے 1947ء کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی اور اپنی دیانت، محنت اور عسکری صلاحیتوں کے باعث اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے گئے۔ 1976ء میں انہیں پاک فوج کا سربراہ بنایا گیا۔ ضیاء الحق کا فوجی کیریئر نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کا عکاس تھا بلکہ ان کے اندر یہ سوچ بھی راسخ تھی کہ فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کی بھی محافظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی قیادت کے دوران فوج کے اندر اسلامی اقدار کو فروغ دیا اور فوجی جوانوں میں جہاد اور قربانی کے جذبات کو ابھارا۔ ان کی زیر قیادت پاک فوج نے نہ صرف اپنے نظم و ضبط کو بہتر بنایا بلکہ دنیا کے سامنے ایک مضبوط اور نظریاتی فوج کی حیثیت اختیار کی۔

جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کا سب سے نمایاں پہلو ان کا نفاذِ شریعت کا ایجنڈا تھا۔ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام کے عملی نفاذ کے لیے کئی انقلابی اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں حدود آرڈیننس کا نفاذ، زکوٰۃ و عشر کا نظام، عدالتی فیصلوں کو قرآن و سنت کے مطابق مشروط کرنا اور تعلیمی نصاب میں اسلامی مضامین کو لازمی قرار دینا شامل ہیں۔ ان کے دور میں پہلی بار یہ احساس عام ہوا کہ پاکستان صرف نام کا اسلامی جمہوریہ نہیں بلکہ یہاں اسلام کو بطور ضابطہ حیات رائج کرنے کی حقیقی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعے اسلامی اقدار کو فروغ دیا، جمعے کی چھٹی کا اعلان کیا اور ٹی وی و ریڈیو پر قرآن و حدیث کی تعلیم کو عام کیا۔ ان کی یہ کوششیں اس خواب کی تعبیر کی طرف ایک عملی قدم تھیں جس کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا تھا۔

افغان جہاد ان کے دور کی ایک بڑی اور فیصلہ کن جدوجہد تھی۔ سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تو پاکستان، بالخصوص جنرل ضیاء الحق نے افغان عوام کی آزادی اور اسلامی مزاحمت کی حمایت کی۔ اس موقع پر پاک فوج نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ضیاء الحق نے افغان عوام کی عملی مدد کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ ایمان، جہاد اور قربانی کے ذریعے بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دی جا سکتی ہے۔ افغان جہاد کے نتیجے میں نہ صرف افغانستان آزاد ہوا بلکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ یہ سب کچھ جنرل ضیاء الحق کی بصیرت اور پاک فوج کی قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں “مجاہد اسلام” بھی کہا جاتا ہے۔

جنرل ضیاء الحق ذاتی زندگی میں نہایت سادہ اور دین دار انسان تھے۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی، فیصلوں میں بصیرت اور انداز میں عاجزی نمایاں تھی۔ وہ نماز، قرآن اور دین سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اقدامات میں اسلام کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ عوام اسلام کے قریب آئیں اور معاشرے میں اسلامی اقدار راسخ ہوں۔ ان کے دور میں اگرچہ سیاسی سطح پر تنقید بھی کی جاتی رہی، مگر یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اسلام کو بطور ریاستی نظام رائج کرنے کے لیے جو عملی اقدامات کیے، وہ تاریخ میں نمایاں رہیں گے۔

ان کی شہادت پاکستان کے لیے ایک بڑا سانحہ تھی۔ 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب ایک فضائی حادثے میں وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد پاکستان نے ایک ایسے رہنما کو کھو دیا جس نے اسلام کو نظامِ حیات بنانے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ اگرچہ ان کی پالیسیاں اور اقدامات وقت گزرنے کے ساتھ مختلف آراء کا نشانہ بنتی رہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ جنرل ضیاء الحق کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ نفاذِ شریعت کے داعی اور پاک فوج کے عظیم جرنیل کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

آج جب ہم جنرل ضیاء الحق کی شخصیت پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ صرف ایک فوجی آمر نہیں تھے بلکہ ایک مصلح، ایک داعی اور ایک ایسے قائد تھے جنہوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص کو عملی شکل دینے کی سنجیدہ کوشش کی۔ پاک فوج ان کی قیادت میں ایک ایسی طاقت بنی جس نے نہ صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ اسلامی جہاد کی عالمی تاریخ میں بھی سنہری باب رقم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کا نام ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ اور نفاذِ اسلام کے داعی کے طور پر زندہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں