0

ایثار سے نثار تک سب کو مار دو/تحریر/غلام شبیر منہاس

ایثار سے نثار تک سب کو مار دو/تحریر/غلام شبیر منہاس

خدا خدا کر کے کشمیر میں بپا طلاطم تھما تو کل ایک منظم سازش کے تحت گلگت بلتستان کی ایک انتہائی معتبر و بااثر مذہبی شخصیت مولانا قاضی نثار صاحب پر قاتلانہ حملہ کر دیا گیا۔ جس میں ان کے گن مین شدید زخمی ہوئے جبکہ مولانا خود بھی زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں۔
کیا اس وقت اس سانحہ کا ہو یوں ہو جانا محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے برسوں سے ہمسایوں کی مسلکی جنگ لڑنے والے وہی گھناونے کردار ہیں جو اس ارض پاک پہ ہمیشہ امن کے خلاف رہے۔۔جنکا ماٹو رہا کہ یہاں کسی بھی صاحب کردار اور صاحب الرائے کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ انہیں چن چن کر مقتل گاہوں میں سجا دیا جائے۔۔۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ان موضوعات کو فرقہ واریت کہہ کر جھٹلاتے ہوئے نظرانداز کر دیا کرتے ہیں۔۔۔مگر آپ اگر کچھ دیر کیلئے غور کریں تو صرف پچھلی تین دہایئوں میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں علمائے کرام کو شہید کیا جا چکا ہے۔ یہاں آپ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ ان تمام علمائے کرام کا تعلق پھر ایک ہی شدت پسند تنظیم سے ہو گا جو دوسرے مسلک کیلئے سخت رویہ رکھتی ہے۔ تو بالکل غلط سوچ رہے ہیں۔۔اس طویل فہرست میں آپکو مفتی شامزئی جیسے جید علمائے کرام بھی ملیں گے، مفتی حسن جان جیسے لوگ بھی اور مفسر قرآن مولانا اسلم شیخوپوری جیسے معذور عالم دین بھی۔۔۔اہل حدیث کے مولانا احسان الہی ظہیر سے بریلوی مسلک کے جید علماء تک۔۔۔حتی کہ مولانا فضل الرحمان جیسی معتدل شخصیت اور جمہوری جدوجہد یہ یقین رکھنے والی جماعت کے ان گنت علمائے کرام کو چھلنی کیا جا چکا ہے۔۔۔اور ان سب میں ایک ہی قدر مشترک ہو گی کہ وہ صاحب کردار بھی تھے اور صاحب الرائے بھی۔۔
ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ہمارا ملک بطور ریاست اس مکروہ دھندے میں شامل ہو سکتا ہے مگر دو باتوں کو نظرانداز کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔ پہلی یہ کہ مختلف اداروں میں مخصوص ذہنیت کے براجمان لوگ بطور سہولت کار بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ ان سانحات کے بعد ریاست ان سماج دشمن عناصر اور ان کے ہینڈلرز سے اسطرح آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹا کرتی جس نوعیت کے یہ جرائم ہیں۔۔
اگر کل خدانخواستہ قاضی نثار صاحب کو کچھ ہو جاتا تو گمان کریں کہ آج ملک بالخصوص حساس ترین علاقے بلتسان اور پوری شاہراہ قراقرم کی پٹی پہ کیا حالات ہوتے۔۔کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ جب ان غنڈوں کا گھیرا تنگ کیا جائے اور وہ لوگ جو مختلف ملکوں میں ہمسائے کی پراکسی لرتے رہے ان سے نمٹا جائے۔۔۔
یاد رکھیں یہ ایک ہی سوچ، ایک ہی مائنڈ سیٹ، ایک ہی سکول آف تھاٹ اور ایک قسم کا ہی تھینک ٹینک ہے جو کبھی قانون سازی کیلئے عملی جدوجہد کرتے ایم این اے مولانا ایثار قاسمی کو نشانہ بناتا ہے اور کبھی اسی سیٹ پر منتخب ہونے والے ممبر قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کو آج ہی کے دن یعنی 6 اکتوبر کو گولڑہ موڑ پر بالکل اسی انداز میں نشانہ بناتا ہے جیسے کل قاضی نثار کو بنایا گیا۔۔۔اگر کل کا پلان کامیاب ہو جاتا تو سوچیں کہ آج 6 اکتوبر کو بالکل اسی طرح ایک عالم دین اور اسکے محافظوں کے جنازے کسی شاہراہ پہ رکھے ہوتے جیسے آج سے بیس سال قبل بالکل اسی دن اعظم طارق اور اس کے محافظوں کے جنازے قومی اسمبلی کے سامنے آج ہی کے دن رکھے گئے تھے۔۔۔
کیا آج بھی وہی نظام چل رہا ہے۔
کیا آج بھی وہی لوگ اپنے اسی ڈگر پہ چل رہے ہیں۔
کیا آج بھی پیشہ ور قاتلوں گے گروہ اسی طرح آزاد ہیں۔۔
کیا جنازوں کا یہ سلسلہ اسی طرح رواں رہنا ہے۔۔
کیا اس دھرتی پر کسی کو حق نہیں کہ وہ اپنی بات کر سکے۔۔
اور۔۔
6 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک آگ و خون کے یہ سلسلے کبھی رکیں گے بھی یا یوں ہی رواں رہیں گے۔۔
کیا یہ اتنے طاقتور ہیں یہ ان کے پیچھے ایسے ملک ہیں کہ ہم مجبور ہو جاتے ہیں۔۔کبھی کوئی تو اسکو سوچے گا۔۔سمجھے گا۔۔۔عملی قدم اٹھائے گا۔۔۔اور وہی اس پاک سرزمین کا حقیقی ہیرو اور خیرخواہ ہو گا۔۔اب دیکھیں یہ عزت اور کارہائے نمایاں قدرت کس کے حصہ میں لکھتی ہے۔۔
وحشت کے اس نگر میں وہ قوس قزح سے لوگ
جانے کہاں سے آئے تھے ۔۔جانے کدھر گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں