
صنف آہن/محترمہ سدرہ نسیم/تحریر/حفیظ چودھری
آپ نے شاید کچھ عرصہ قبل پاکستانی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر ایک معروف ڈرامہ “صنفِ آہن” دیکھا ہوگا، جہاں خواتین کے کردار کو بہادری، عزم اور قربانی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
لیکن اگر آپ ڈرامے سے ہٹ کر حقیقت میں صنفِ آہن کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو وہ کسی اسکرین پر نہیں، بلکہ میدانِ عمل میں موجود ہیں اور ان کی جیتی جاگتی تصویر ہیں:
محترمہ سدرہ نسیم صاحبہ
آپ نہ صرف ایک کامیاب بزنس وومن، باوقار عالمہ فاضلہ اور ماہر ٹرینر ہیں، بلکہ حالیہ دنوں جنوبی پنجاب کے سیلابی حالات نے آپ کے اندر موجود انسانیت کے جذبے کو اور بھی نمایاں کر دیا ہے۔
گھر والوں کی مشاورت و اجازت سے آپ نے اپنی ذمہ داری کو صرف لفظوں میں نہیں، بلکہ قدموں، جذبوں اور فیصلوں میں ڈھالا۔
آج آپ ان سیلاب زدہ علاقوں میں موجود ہیں، جہاں ہر چہرہ امید کا منتظر ہے، ہر آنکھ اشک بار ہے اور ان کے درمیان آپ کا حوصلہ، آپ کا خلوص اور آپ کی خدمت اُن کے لیے روشنی کی کرن ہے۔
یہ صرف آپ اکیلی کی بات نہیں، آپ کے دائیں بائیں کھڑے وہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور اسٹارز بھی قابلِ ستائش ہیں جو اپنا وقت، وسائل اور توانائیاں اس کارِ خیر میں صرف کر رہے ہیں۔
میری دعائیں، نیک تمنائیں اور بھرپور سپورٹ آپ اور آپ کی پوری ٹیم کے ساتھ ہے۔
آپ جیسی خواتین واقعی “صنفِ آہن” کہلانے کی مستحق ہیں، جنہوں نے خدمتِ انسانیت کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔
سلام ہے ان قدموں کو جو راحت کے بستر چھوڑ کر، آزمائش میں گھرے انسانوں کے درمیان چلتے ہیں۔