
ابراہیمک اکارڈز (ابراہیمی معاہدہ) کے اصل حقائق اور مقاصد
✍️ تحریر: جلال الدین الدیامری
شیرِ خدا، سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک جملہ موقع کی مناسبت سے بطور تمہید ذکر کرنا موزوں ہوگا:
“کلمۃُ حقٍّ اُریدَ بہا الباطل”
(یعنی: ایک سچی بات کہی جاتی ہے، مگر اس سے مقصد باطل ہوتا ہے)
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات بظاہر درست اور حق لگتی ہے، مگر اس کا مقصد اور انجام باطل اور گمراہ کن ہوتا ہے۔
ابراہیمک اکارڈز
آج کل ایک ایسا ہی معاہدہ عالمِ اسلام اور دنیا کے دیگر غیر مسلم ممالک میں شہرت پا چکا ہے، جسے “ابراہیمی خاندان” یا “ابراہیمک اکارڈز” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کو سب سے پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا ہے۔
ظاہری تاثر:
اس معاہدے سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک مثبت اور قابلِ قبول معاہدہ ہے، کیونکہ اس میں “ملتِ ابراہیمی” کے نام پر تمام انسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس اور انتہائی تشویشناک ہے۔
ابراہیمک اکارڈز
اصلی پس منظر اور حقائق:
1. اسرائیل کو عالمِ اسلام میں تسلیم کرانا:
اس معاہدے کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ تمام مسلم ممالک اسرائیل کو ایک جائز ریاست تسلیم کرلیں، حالانکہ اسرائیل نہ صرف ایک غاصب ریاست ہے بلکہ اس نے فلسطین، مسجد اقصیٰ، اور دیگر مقدسات پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
2. مسلم و غیر مسلم میں فرق مٹانا:
یہ تصور عام کرنا کہ مسلمان اور غیر مسلم ایک ہی امت ہیں، حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان اور کافر الگ الگ امتیں ہیں۔
قرآن مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
ترجمہ: “اور لوگ پہلے ایک ہی امت تھے، پھر ان میں اختلاف پیدا ہوا…
ترجمہ:اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔
3. مسلمانوں کو غلام بنانا:
یہ معاہدہ ایک عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کو سیاسی، معاشی، فکری اور تہذیبی طور پر غیر مسلم اقوام کا تابع بنایا جا رہا ہے۔
4. دین کی جگہ قومیت کو معیار بنانا:
یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست کی بنیاد دین نہیں بلکہ قومیت اور نسل ہونی چاہیے، جو کہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔
5. تمام ادیان کو ایک مذہب ظاہر کرنا:
اس معاہدے کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ کہا جاتا ہے:
ابراہیمک اکارڈز
“ہم سب (مسلمان، یہودی، عیسائی) دینِ ابراہیمی پر ہیں۔
گویا کہ ان سب مذاہب میں کوئی فرق نہیں ہے، حالانکہ قرآنِ کریم واضح طور پر فرماتا ہے:
ترجمہ: “ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ ایک اللہ کے سچے فرماں بردار (مسلمان) تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔”
اسی طرح فرمایا :
ترجمہ: “یقیناً ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں…”
ابراہیمک اکارڈز
حقیقی مؤقف اور رہنمائی:
ان آیاتِ قرآنیہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے تھے۔
لہٰذا اسلام اور دیگر باطل ادیان (یہودیت، عیسائیت، وغیرہ) کو ایک ساتھ (ملتِ ابراہیمی) کہنا ایک گمراہ کن تصور ہے۔
یہ درست ہے کہ امن و سلامتی کے قیام کے لیے مسلمان دنیا کے دیگر اقوام کے ساتھ تعلقات رکھ سکتے ہیں، لیکن اسلام کو کفر کے ساتھ خلط ملط کرنا ہرگز جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں۔
نہ قرآن اسے تسلیم کرتا ہے، نہ سنت، اور نہ ہی اسلامی عقائد۔
مسلمان حکمرانوں اور رہنماؤں سے اپیل:
ابراہیمک اکارڈز
آج وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم حکمران، علماء، داعی، اور رہنما ابراہیمی معاہدے جیسے فتنوں سے امت کو خبردار کریں۔
اس معاہدے کے حقیقی مقاصد، خطرات اور نقصانات کو نوجوان نسل تک پہنچائیں۔
خود بھی اس فتنہ سے بچیں اور اپنی قوم، ملت، اور آنے والی نسلوں کو اس گمراہی سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں۔
> والسلام
✍️ جلال الدین الدیامری