0

نہ ان کی رسم نئی ہے،،، نہ اپنی ریت پرانی/شرفو کی لفاظی/تحریر/خالد وحید امراچی

نہ ان کی رسم نئی ہے،،، نہ اپنی ریت پرانی/شرفو کی لفاظی/تحریر/خالد وحید امراچی

خبروں کے مطابق اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر کے دوران پاکستان سمیت عرب ممالک سننے سے بائیکاٹ کر گئے تھے عربوں میں سے صرف تین ممالک وہاں موجود رہے تھے ؟؟؟
1: مصر (Egypt): اسرائیل کو تسلیم کرنے والا پہلا عرب ملک (1979 کا کیمپ ڈیوڈ معاہدہ)، اقوامِ متحدہ میں سفارتی آداب کے تحت اکثر ایسی تقاریر میں موجود ہوتا ہے۔
2: اردن (Jordan): 1994 میں اسرائیل سے امن معاہدہ کیا۔ ان کا جنرل اسمبلی میں موجود ہونا سفارتی مجبوری بھی ہو سکتی ہے،۔
3 : متحدہ عرب امارات (UAE): 2020 میں ابراہام معاہدے کے تحت اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم ہونے کی وجہ سے اور مزید اسرائیل کے ساتھ معاشی اور تکنیکی تعاون بڑھ رہا ہے۔
مگر اس سے زیادہ حیرت انگیز یہ ہوا کہ اپنے پی ایچ ڈی ریسرچ پروگرام میں انسانیت کے قاتل نیتن یاہو کو مدعو کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے والی اور ان کے نمائندوں سے خوشی خوشی ملنے والی شمع جونیجو کو وزیر دفاع خواجہ آصف کے عین پیچھے اہم اجلاس میں بٹھادیا گیا، اسرائیلی سفیر سے فخریہ ملنے والی خاتون کا امریکہ میں یو این او کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وفد میں شامل ہونا تعجب خیز ہے، انہی خاتون نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملنا ایک اعزاز ہوگا، یہ سب باتیں کیا کسی کے اسرائیل کو غیر اعلانیہ تسلیم کرنے کی طرف اشارہ نہیں کرتیں؟
کیا سرکاری وفد کے ساتھ اور وزیراعظم کے خصوصی جہاز میں بیٹھ کر کوئی ایسے ہی جاسکتا ہے، کیا یہ کوئی بچوں والا کھیل ہے؟
خیر اب دفتر خارجہ اور حکومت پاکستان خود اظہار لاتعلقی کرنے پر مجبور ہوگئی ہے، یعنی وزارت خارجہ ان کی موجودگی سے لاعلم رہی، وزیر دفاع کہتے ہیں سانوں نہیں پتہ، (حالاں کہ انہیں 2024 میں تمغہ امتیاز دیا جاچکا ہے) تو پھر سوال ہے کہ موقعے پر چوکا لگانے کے سہولت کار کون ہیں؟ خیر اس مسئلے کو اچھے سے اور بغیر کسی اندرونی و بیرونی دباؤ کے دیکھنا چاہیئے، جب سب انکاری ہیں تو ان کی کنڈلی نکالئے، تاکہ “مجھے نہیں پتہ سے مجھے سب پتہ ہے تک” سامنے آئے۔ یہ معاملہ کسی کا ذاتی نہیں بلکہ ملکی سلامتی کا ہے، ایسی نا جانے کتنی “شمعیں” ہوں گی، جنہوں نے روشن دنیا میں اندھیرے نہیں بلکہ تاریک اندھیرے (بلیک ہول والے) کئے ہوئے ہیں ۔۔ سنا ہے یہ پیپلز پارٹی کی حامی ہیں اور یاد رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ہیں۔
کوٹری میں پیدا ہونی والی شمع جونیجو خبریں اخبار کی کالم نگار تھیں، یہ خاتون فاطمہ ثریا بجیا کے ڈرامے عروسہ میں مشی خان کی بہن اور مرحوم ادکار شکیل کی بیٹی کا منفی کردار بھی ادا کر چکی ہیں، ان کی ایک بہن مونا جونیجو بھی اداکارہ ہیں، شمع جونیجو آج کل بطور محقق کام کر رہی ہیں اور لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ مبینہ ‏اطلاعات کے مطابق اسرائیلی تھنک ٹینک کے لیے لندن میں کام کرنے والی شمع جونیجو کو شہباز شریف کے آفیشل وفد میں شامل کیا گیا، اور اسی اسرائیلی تھنک ٹینک کے توسط سے شہباز شریف کی ٹرمپ سے ملاقات طے ہوئی، شمع جونیجو مبینہ طور پر اسرائیلی وزیر اعظم، نیتن یاہو سے ملاقات بھی کر چکی ہیں اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں لابنگ کرنے کی بھی افواہ ہے،،
اس حوالے سے سینئر صحافی عبدالجبار ناصر لکھتے ہیں “ویسے پاکستان میں سوائے چند مذہبی جماعتوں کے اور کونسی جماعت ہے، جس میں ایسے لوگ موجود نہیں؟, (کہنے والے کہتے ہیں اب ان کی پہنچ وہاں تک بھی ہوچکی ہے، واللہ عالم), پاکستان کی تاریخ پہلی بار غالبا 2020ء یا 2021ء قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی رکن بھرپور تقریر کی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد کے حق میں دلائل دئے، (اسی دور میں پاسپورٹ کی اسرائیلی سفر نہ کرنے والی سطر کی تبدیلی اور وفد کے اسرائیلی دورے کا بھی شور اٹھا تھا) کیا صرف اس بنیاد پر اس پارٹی کو اسرائیلی لابی یا پارٹی پالیسی کہا جاسکتا ہے؟، (نہیں، کیوں کہ مذکورہ حکومت کے دور میں اسرائیلی طیارے کے آنے کی بھی خبریں تھیں), شمع جونیجو کا عمل سخت قابل گرفت ضرور ہے، مگر اس کی بنیاد پر کسی پارٹی کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے، (بلکل بلکہ ایسی پالیسی رکھنے والی ہر پارٹی کو اسرائیل کے حق میں لابی کہا جاسکتا ہے).
اس حوالے سے پاکستانی سرکاری افسران اور اہلکاروں کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی دہری شہریت کی فہرست کو بھی دیکھنا ہوگا، اور انگ ریز کے وفادار جاگیر داروں اور ان سے سر کا خطاب پانے والوں کی بھی چھان بین کرنا ہوگی۔
بلی آہستہ آہستہ تھیلے سے باہر آرہی ہے
یہ سارا معاملہ ایک ٹوئیٹ اور تصویر سے سامنے آیا یا لایا گیا جب کہ محقق اور کالم نگار شمع جونیجو نے اتوار کو دعویٰ کیا ہے کہ وہ گذشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کے لیے کام کر رہی تھیں اور اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر بھی ان ہی کے ذمے لگائی گئی تھی۔
اس سلسلے میں تمام متعلقہ سفارت خانوں اور ان میں تعینات عملے کی جانچ پرتال یقیناً ہوگی، ساتھ ہی گزارش ہے کہ پانامہ، سوئس، دبئی لیکس وغیرہ کو غیر ملکی لیکس نہیں بلکہ پاکستانی ملزمان کی لیکس سمجھیں، اور ان پر بھی ممکنہ ایکشن لیں،
اور یہ محب وطن عوام کی بھی غلط فہمی ہے کہ ان لیکس سے کسی لیڈر یا اس کے حواریوں کو شرم آئی ہوگی, بلکہ یہ ملزمان ایک دوسرے کے دفاع میں، اور کارکنان ان کے دفاع میں مصروف ہوں گے شاید،،، کیوں کہ اس حمام میں سب نہیں کچھ تو ننگے ہیں۔
ارباب اختیار کو ذہن میں رکھنا چاہئے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں کہ اسرائیل کے جاسوس خاص طور پر عورتوں نے عرب سے لے کر ایرانی قیادت سمیت اسلامی ممالک کو کہاں پہنچا دیا ہے؟ بہت کچھ ہے جس کی پردہ داری ہے، کیا سب ملے ہوئے ہیں؟، لیکن کون بتائے گا اب، ہر ایک نے انکاری ہو جانا کہ مینوں کی پتہ، مطلب چل سو چل ،،،
لیکن عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں یہودی لابی کے منظور نظر لوگوں کو اہم پوسٹوں پر لایا جارہا ہے، ہم خیال افراد کو اہم شخصیات کے قریب کیا جارہا ہے، تاکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا پیپر ورک مکمل ہوسکے، اعلان ہو جائے گا کہ مسلم ممالک کی امن فوج فلسطین کے دفاع کے نام پر بھیجی جا تعینات کی جارہی ہے، اور پھر اسرائیل کو تسلیم کرلیا جائے گا یہ کہہ کر کے قبلہ اول کے تحفظ کے لیے یہ کرنا ضروری تھا مجبوری تھی، واللہ عالم
حکومت پاکستان خدارا جاگ جائے، یہ معاملہ صرف پالیسی کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہی نہیں بلکہ تمام بیرونی دوروں میں پاکستانی وفد کے اردگرد شمع جونیجو ہی نہیں بلکہ ایسے کسی بھی دوسرے مشکوک اور غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر نظر رکھنا چاہیئے اور اس واقعی کی نا صرف مکمل تحقیقات ہونی چاہئے بلکہ اس طرح کی غلطیوں کی مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے، ایسے وقت میں جب غزہ کے بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، مائیں اپنے شہید لخت جگر کے لاشوں کو اٹھا رہی ہیں، اس صورتحال میں اسرائیل نواز افراد کو پاکستان کا نمائندہ بنانا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ صرف غلطی نہیں یہ سازش ہے اور مکمل تحقیقات کر کے اس سازش کا پردہ چاک کرنا چاہیئے، ایک ایسے وقت جب مسلمانوں کے خون سےغزہ کو رنگ دیا گیا ہے تب کچھ لوگ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو یقیناً بہت افسوس کا مقام ہے اور مجبوری یہ ہے کہ محب وطن پاکستانی سوائے دکھ کا اظہار کرنے اور دعا کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتے، اللہ تعالیٰ مسلم حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سمجھ سکیں بحیثیت مسلمان بروز محشر ہم اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کیسے کریں گے؟ جب امت کا خون بہایا جا رہا تھا تو ہم لوگ کچھ نہ کر پائے۔۔
اے ربِ کعبہ، غزہ کے مظلوموں سمیت تمام مسلمانوں پر اپنا خاص کرم فرما, ان کے خوف کو امن میں بدل دے، ان کے زخموں کو مرہم عطا فرما، ان کی ماؤں کے آنسو خوشی میں بدل دے، ان کے یتیموں کو سہارا دے۔ اللہ پاک ان کی قربانیوں کو قبول فرما اور ان کے ظالم دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر کے زمین سے مٹا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
یاد رہے کہ یہ خاتون صرف اجلاس میں نہیں بیٹھی بلکہ وزیر اعظم کی تقریر لکھنے میں بھی شامل تھیں، اور یہ بات شمع جونیجو نے خود سوشل میڈیا پہ بتائی تو عوام کو پتہ چلا، اقوام متحدہ جانے والی اس متنازعہ خاتون نے اپنے سکیورٹی پاس کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے پاکستان کے مشیر کا عہدہ دیا گیا تھا اسی بنیاد پر سکیورٹی پاس جاری ہوا اور اس پر ” Pakistan Adviser ” بھی لکھا ہوا تھا، ‏پھر وزرات خارجہ کو شرمسار کرتے ہوئے لکھا کہ کلائمیٹ کانفرنس میں شہباز شریف کے پیچھے وہ اور اسحاق ڈار براجمان تھے (جن کی وزارت نے وفد کا حصہ نہ ہونے کا بیان جاری کیا), ‏خواجہ آصف کے حوالے سے لکھا،،، وہ اپنی حکومت کے تاریخی دورے کو بدنام کر رہے ہیں لیکن کس ایجنڈے کے تحت کررہے ہیں یہ وزیراعظم کو پوچھنا چاہیے کیونکہ ” ان کی اتھارٹی چیلنج ہوئی ہے “. انہوں نے امریکہ ہی میں بل گیٹس اور آے آئی کے حوالے سے دو الگ الگ ملاقاتوں/میٹنگز میں اپنی موجودگی کا بھی انکشاف کیا، بعد میں کچھ ٹوئٹس بوجوہ ڈیلیٹ کردیں یا کروادی گئیں،
اس ریاست کو کون چلا رہا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔۔ مملکت خداداد پاکستان معجزہ میں ملا ہوا ملک ہے ۔۔۔۔ اس لئے یہاں بہت کچھ انھونیاں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں اور شاید ملتی بھی رہیں۔
حرف آخر ! اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستانی وزیراعظم اور دیگر مندوبین نے اپنا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا, فلسطین کی بھرپور حمایت بھی کی تو اسرائیل کی بھرپور مذمت بھی،،، کشمیر کا بھی ذکر ہوا تو برہان وانی بھی بیان ہو گئے، جب کہ بھارتی دہشتگردی اور جارحیت کو بھی پوری طرح سے دنیا کے سامنے بے نقاب کیا گیا ہے تو بات کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ اس میں سازش کہاں سے ہوئی، جس نے کی وغیرہ کیا ہم مان لیں کہ کچھ غلط ہورہا ہے اگر مان لیا جائے تو پھر سوچنا ہوگا کہ کیا کیا غلط ہوچکا ہے یا ہو رہا ہے، بہرحال اس ایک معاملہ کے علاؤہ دورہ مجموعی طور پر کامیاب رہا، یہ الگ بات ہے کہ مخالفت برائے مخالفت میں مخالف کی ہر چیز کو ہی غلط ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا جائے۔ مگر پھر بھی ملکی سلامتی کے اداروں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موئثر اور ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہوگی۔
چلتے چلتے کرکٹ میچ کا سن کر نا جانے کیوں یہ لطیفہ ذہن میں آیا تو سوچا لکھ ہی دوں۔۔۔
ایک ہجڑہ فوت ہوگیا باقی سارے ہجڑے رونے لگے رو رو جب تھک گئے تو ایک ہجڑے نے کہا۔ ہن ہلکی پھلکی ڈھولکی ہوجاوے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں