0

“ پرانے اور نئے دور کی خصوصیات اور حقائق” /تحریر /محمد کوکب جمیل ہاشمی۔

Kokab Jamel hashmi
تحریر/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

“ پرانے اور نئے دور کی خصوصیات اور حقائق”
تحریر:- محمد کوکب جمیل ہاشمی۔

ہم جب بھی موجودہ دور کی چکا چوند کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھنے والوں کو نہال ہوتا دیکھتے ہیں تو سوچتے ضرور ہیں کہ اس دور میں جسے جدید دور کہا جا رہا ہے ایسا کیا ہے جسے سنہری دور سے تعبیر کیا جا رہا ہے؟ جبکہ گزشتہ زمانے کو خیر و برکت اور فلاح و سادگی سے متمتع ہونے کی قسمیں کھانے والے اپنے دور کو موجودہ دور سے زیادہ ممیز اور قابل تحسین کیوں سمجھتے ہیں؟ نیز ایسی کون سی کمی یا خامہ تھی پچھلے وقت میں، کہ جس کی وجہ سے ازمنہ قدیم کو کمتر اور لائق استرداد سمجھا جا رہا ہے؟

یہ بحث اس حد تک زور پکڑ گئی ہےکہ کوئی کم علم اور نادان ہو یا اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہوں، سب روزمرہ کی بات چیت میں بلا تفہیم و تشریح ہنستے ہولتے ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جن میں وقت اور زمانے کی تعریف یا تنقید کا عنصر خود بخود کہے گئے کلمات کا حصہ بن جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ ” فلاں لباس اب آؤٹ آف فیشن ہو گیا ہے.” اس جملے میں نا دانستہ طور پر لباس کو گزرے وقت کی نسبت سے نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ فیشن کا بدل جانا ماضی قریب سے نسبت رکھتا ہے اور اس میں قدیم و جدید کے بیچ کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے۔ یہ دورانیہ کم ہو یا زیادہ اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ماضی کا تعلق گزرے کل سے بھی ہو سکتا ہے اور عشروں اور صدیوں پہ بھی محیط عرصہ دراز بھی ہو سکتا ہے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ بیتے دن اور گزرا وقت آج کے دور سے کہیں ذیادہ بہتر اور بھلا تھا۔ وہ زمانہ خیر خواہی اور بھلائی سے متصف تھا۔ ہمدردی، محبت، مدد کا جذبہ اور اخلاقی اقدار نے اس وقت نوع انسانی کو ضرر رسانی سے مبرا رکھا ہوا تھا۔ گاؤں دیہات ہوں یا شہروں کی فضا ان میں بستے لوگوں میں ہم آہنگی اور میل جول کی خواہش نے غم اور خوشی کو سانجھا بنا رکھا تھا۔ گھروں، محلوں میں سادگی تھی۔ چالاکیوں اور ذاتی مفادات کو معیوب اور غیر اخلاقی طرز عمل سمجھا جاتا تھا۔ قناعت، صبر و شکر مزاج کا حصہ تھا۔ باہمی رنجشوں اور رقیبانہ طرز عمل سے اجتناب نےمعاشرے کو پر سکون اور پر امن بنا رکھا تھا۔ آپس کے رسم و رواج میں خوبصورتی اور روایات میں حسن جھلکتا تھا۔ مہنگائی نام کی کوئی چیز تھی نہ کم آمدنی میں گزارا نہ ہونے کی شکائت ہوا کرتی تھی۔ لوگ شادی بیاہ کے اخراجات اور دوسرے خرچوں میں اعتدال سے کام لیتے تھے۔ نمود و نمائش ہرگز نہ تھی۔ حرص، طمع اور لالچ جیسی قباحتوں سے اس وقت کا معاشرہ مبرا دکھائی دیتا تھا۔ اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لئے خیر و برکت نے لوگوں کو مشکل اور پریشانی اور نفرت و الجھنوں سے بچا رکھا تھا۔ دیہات میں با لخصوص تقریبآ پر گھر میں ڈھور ڈنگر اور گاۓ بھینسوں کی موجودگی سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ گھر گھر خالص دودھ، مکھن، دہی اور دیسی گھی کی نعمت نے جسمانی طاقت اور توانائی کو فروغ دیا ہوا تھا۔ اس وجہ سے صحت کے مسائل بھی کم تھے۔ بڑے اسپتال نا پید تھے لیکن حکیموں اور حاذقوں کے پاس لیاقت اور نبض شناسی کی قابلیت بدرجہ اتم موجود تھی،جس کی بدولت دیسی دواؤں اور گھریلو ٹوٹکوں سے مریضوں کا شافی علاج کیا جاتا تھا۔ خدا خوفی کی وجہ سے جرائم کا ارتکاب بہت کم تھا۔ لوگ نیکی اور عبادات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ یہ وہ خوباں تھیں جن سے زندگی پرامن اور پر سکون ہوا کرتی تھی۔

موجودہ جدید دور سے تعلق رکھنے والے افراد کی بات کی جائے تو وہ گئے وقتوں کی اچھی خصوصیات کو کسی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ ان کے نزدیک پرانے زمانے میں سہولیات کا فقدان تھا۔ زندگی پر سکون ضرور تھی مگر سست روی کا شکار تھی۔ تیز رفتار ٹرانسپورٹ کی خاطر خواہ سہولت میسر نہ تھی۔ ہوائی جہاز تھے، نہ تیز رو ریل گاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ زیادہ تر سفر گھوڑوں، تانگوں اور بیل گاڑیوں میں ہوا کرتا تھا، جن سے نا صرف گندگی اور بد بو پھیلتی تھی بلکہ بیماریاں بھی جنم لیا کرتی تھیں۔ حفظان صحت کے لئے نہ تو بہتر صفائی ستھرائی کے ادارے موجود تھے اورنہ پیچیدہ امراض کے علاج اور جراحت کے لئے بڑے ہسپتال، شفا خانے تھے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے معالجین کی کمی تھی۔ اس کے بر خلاف پرانے وقتوں کے حامی پرانے لوگ اب بھی پرانی باتوں کو اینٹیک اشیاء کی طرح سنبھال کر رکھتے ہیں بلکہ نئے دور کے پروردہ لوگ بھی پرانی چیزیں مثلآ قدیم ہتھیار، برتن، ہاتھ سے بنے ہوۓ نادر کپڑے، پتھروں اور دھاتوں سے بنے زیورات اور نوادرات کو تاریخی ورثہ سمجھ کر عجائب گھر کی زینت بناتے ہیں۔ اگر پرانی چیزیں اتنی دلکش اور پیاری ہیں تو یہ پرانے زمانے کی زندگی پر نا پسندیدگی اور قدامت پرستی کا بہتان کیسا ؟ یہی عجب دو رخی ہے۔

نئے دور کےمتوالے اپنے زمانے کی مدح سرائی میں بہت سے دلائل پیش کرتے ہیں۔ انکے مطابق پرانی باتوں اور چیزوں کی حیثیت محض ایسی ہے جیسے وہ ماضی کی دھول میں لپٹ کر ناقابل دید اور بے وقعت ہو گئی ہوں۔ وہ بڑی بڑی عمارتوں، کشادہ شاہراہوں، خوبصورت اور جدید قسم کے پارکوں اور گلستانوں کے سحر میں کھو کر اسی کو متاع حیات سمجھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق شہروں میں بڑی بڑے اسپتال انسانی خدمت کی اعلیٰ مثال ہیں۔ ڈاکٹرز، انجنئتز، اساتذہ، ماہرین تعمیرات، سائنس دان، وکلاء اور ادباء و شعراء نے پورے ملک میں انقلاب بپا کر رکھا ہے۔ لوگ عالیشان بسوں میں سینکڑوں میل کا آرام دہ سفر چند گھنٹوں میں طے کرلیتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت بچا کر اسے دوسرے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ ملک ترقی کرتا ہے تو دنیا بھر میں ان کا چرچا ہوتا ہے۔ ترقی اور جدت کے داعی کہتے ہیں کہ دیکھو! آج بڑی بڑی ترقی یافتہ قومیں اپنی ترقی کا ثمر پا رہی ہیں۔ مگر کچھ احباب جنھیں ترقی پسندانہ سوچ رکھنے والے مفکرین قدامت پرست ہونے کا طعنہ دیتے ہیں ان کی اس دلیل سے متفق نظر نہیں آتے کہ سائنسی ترقی اور اعلیٰ تعلیم نے بڑی بربادی کا سامان پیدا کیا ہے۔ معاشرے تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ملکوں کے درمیان خوفناک جنگوں نے لاکھوں انسانوں کو تباہ کن ہتھیاروں کے ذریعے ہلاکتوں سے دو چار کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اسرائیل، امریکہ اور بھارت کی نفرت انگیز جنگوں نے انسانیت کو خوف اور دہشت میں مبتلاء کر رکھا ہے۔ مگرموجودہ ترقی کو کامیابی سمجھنے والوں کی جدت پسندی کو بھی دوسرا۔ نقطہء نظر رکھنے والے ایسی کامیابیوں کو انسانی قدروں کے لئے تباہی اور بربادی کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ آج کے دور میں بڑی بڑی عمارتیں ضرور بن گئی ہیں مگر جدید معاشروں نے بد عنوانیوں، رشوتوں، ہیرا پھیروں اور ہوس زر کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ تاجر اور کاروباری ادارے کھانے پینے کی مصنوعات میں ملاوٹ اور غیر خالص مصر صحت اشیاء کا کاروبار کر رہے ہیں۔ عریانی اور بے حیائی عام ہے۔ آج کی سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لئے ملک کی سلامتی کو بھی داؤ پہ لگانے سے گریز نہیں کرتیں۔ وہ غیر مہذب طریقوں سے آپس کی محاذ ارائی، لعن طعن، بد زبانی کو فروغ دے رہی ہیں۔ لالچ، چوری، ڈاکہ زنی اور قتل و غارتگری اور دہشت گردی نے پورے معاشرے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ جن چیزوں کو عروج سمجھا جا رہا تھا وہ دراصل زوال کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ بے راہ روی، دین سے دوری اور اخلاقی قدروں سے بے اعتنائی نے خدا خوفی کا ا حساس ختم کر رکھا ہے۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والا مزید جدید دور، مزید تباہ کن ہوگا۔ عقلاء اور دین کے قدر دانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح اندھیرے میں روشن ایک دیئے سے ہم جتنا دور ہوتے جائیں گے، روشنی ہم سے دور ہو کر مدھم ہوتی چلی جاۓ گی۔ اسی طرح حضور سرور کونین، ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وألہ وسلم نے اللہ کے احکامات کی جو شمع چودہ سو سال پہلے روشن کی تھی، ہم اس کی روشنی سے جتنا دور ہوتے چلے جائیں گے اتنے ہی خیر و فلاح اور اخروی نجات سے محروم ہونگے، لہذا چودہ سو سال پہلے کا مقدس نورانی دور ہر آنے والے وقت سے کہیں افضل اور برتر ہوگا کیوںکہ وہ شمع رسالت سے قریب تر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں