
سیلاب 2025 گھروں کے گھر اجڑ گئے/تحریر/ماسٹر محمد فہیم امتیاز
یہاں میرے پیچھے جو مٹی کا ڈھیر نظر آ رہا جس پر چارپائیاں رکھی ہیں۔۔۔ جس کی الگ پکچر بھی لگائی ساتھ یہ مٹی کا ڈھیر نہیں ہے۔۔۔
یہ گھر ہے۔۔۔ایک مکمل گھر چھ کمروں پر مشتمل جو اب مٹی بن چکا۔۔۔ یہ جو اوپر کو ڈنڈے نظر آ رہے یہ چھت کے ٹی آر ہیں۔۔۔ اس پورے گھر میں ایک دیوار بھی ایسی نہیں جو کھڑی ہو جس سے پتہ چلے کہ یہاں گھر تھا۔۔۔مٹی اور ملبے کا ڈھیر بنا ہوا۔۔۔جس میں سے گارڈر اور ٹی آر نکلے ہوئے۔۔ اندر سامان فرنیچر وغیرہ دبا ہوا۔۔۔
یہ ایک گھر ہی نہیں ایسا۔۔۔ ایسے سینکڑوں ہیں۔۔جو تیسری تصویر لگائی وہ بھی چار کمروں پر مشتمل ایک مکمل گھر تھا۔۔۔ جس میں سے اب ایک دیوار کھڑی صرف اکیلی۔۔۔ اس میں بھی سامان دبا ہوا ۔۔ میں خود آج فزیکلی سب وزٹ کر کے آیا ہوں۔۔۔ویڈیوز میں زیادہ کلیئر پتہ چلے گا۔۔۔اخری تصویر بھی ایک گھر ہی تھا۔۔۔!!
یہ علاقہ ہے کچی لعل۔۔۔ کچی لعل بالکل ایک نکڑ پر آخری کونا ہے تحصیل علی پور کا ساتھ لگے میپ پر مارک کر رہا ہوں،
اور اتنی مشکل اپروچ۔۔ اتنی زیادہ مشکل اب تک زندگی کا سب سے برا روٹ تھا۔۔۔دو گھنٹے کے سفر میں دس گھنٹے سے زیادہ تھکن ۔۔۔ گاڑی پر بڑی مشکل سے ایک خاص پوائنٹ تک پہنچ سکے اس میں بھی جگہ جگہ سب لوگوں کو اتارنا پڑتا۔۔۔اس کے باوجود سائلنسر پریس ہو گیا ابھی واپس آ کر ٹھیک کروایا۔۔۔ایک کٹ پر گاڑی رک گئی جا کر اس سے آگے بائیک پر کچھ راستہ کیا اس سے اگے بائیک بھی نہیں جا پائی۔۔۔پھر اگے پیدل گئے ۔۔۔
یہاں سب کچھ ملیامٹ ہو چکا۔۔۔سب کچھ۔۔۔ سب سے پہلا کام یہاں راستہ ٹھیک کرنے کا ہے اس کے لیے ایک کنٹریکٹر کو کہا ہے کہ فزیبیلیٹی بنا کر دے۔۔ کہ راستہ کلیئر کرنے پر کیا خرچہ آئے گا۔۔۔ مزید اس کی تفصیلی ویڈیو لگاوں گا۔۔۔ انتہائی بڑے حالات ہیں۔۔۔
یہاں اپروچ مشکل ہونے کی وجہ سے اور بہت دور ہونے کی وجہ سے مجھے یہ خطرہ نہیں یقین تھا کہ یہ رہ جائے گا لہٰذا واپس جانے سے پہلے لازمی کلیئر کرنا تھا اسے۔۔۔ اب سب سروے کر آیا ہوں۔۔۔ کل راستہ سیٹ کروائیں گے پہلے پھر پرسوں ٹیم بھجواوں گا سامان دے کر۔۔۔
میری طبیعت کافی خراب آج واپسی کا پلان تھا لیکن میں
کچی لعل کو نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا۔۔کیونکہ یہ چھوٹ جاتا تو یہ رہ جانا تھا۔۔ان بیچاروں تک شاید کوئی نا جاتا۔۔۔!!