0

احسان سے انتقام تک/تحریر/ریاض احمد احسان

احسان سے انتقام تک/تحریر/ریاض احمد احسان

اے خاکِ خراسان کے فرزندو
تمہارے رگ و پے میں بہادری کی میراث دوڑتی تھی،یہ تاثر پاکستان نے قائم کیا مگر افسوس کہ تم نے اپنے محسن سے بے وفائی کر کے اس میراث کو داغدار کر دیا۔
یاد کرو وہ دن جب کابل کی گلیاں راکھ ہو چکی تھیں،جب کابل کسی قابل نہ رہا اور ایسا ایک بار نہیں بار بار ہوا،جب تم پر بارود کا سوج طلوع ہوتا تھا
تب تمہارے لیے سایہ بنا تھا پاکستان ہاں یہی پاکستان جس نے تمہارے چالیس لاکھ مہاجرین مہمان نہیں بھائی بنائے تھے اور اپنے گھر میں بسایا تھا یہ وہی پاکستان ہے جس نے اپنے رزق کو تمہارے بچوں میں بانٹا تھا
اپنے اسکولوں کے دروازے تمہارے لیے کھولے،
اپنے شہروں کے دامن میں تمہارے قافلے بسائے،
اور اپنے ایمان کی حرارت سے تمہاری سرد امیدوں کو جلا بخشی۔
ہم نے تمہیں بھائی کہا، مہاجر نہیں
ہم نے تمہیں گلے لگایا اجنبی نہیں جانا۔
ہم نے تمہارے لیے وہ کچھ کیا جو دنیا کے کسی ہمسائے نے کبھی کسی کے لیے نہیں کیا
لیکن تم نے وفا کے بدلے جفا کا تیر پھینکا
اور احسان کے بدلے زہر اگلا۔
اے افغان قیادت
تم نے بھارت کی گود میں بیٹھ کر وہ زہر اگلا جو دشمن کی دیرینہ دلی خواہش تھی۔
کیا دہلی کی چمک نے تمہاری غیرت کو خریدا؟
کیا چند ایمبولینسوں نے تمہارے ضمیر کا سودا کر لیا؟
کیا ڈالر کی طلب نے تمہیں بے ضمیر کیا؟
کیا تم حسبی نسبی اجرتی قاتل تھے اور اپنا وہی اسٹیٹس قائم رکھنا چاہتے ہو؟
کیا تم نے نمک حرامی کا لقب اپنی آنے والوں نسلوں کے لیے منتخب کر لیا ہے؟
کیا تم نے واحد ایٹمی اسلامی ریاست کے خلاف اپنی سرزمین اسلام دشمنوں کے حوالے کرکے گھاٹے کا سودا نہیں کیا؟
تاریخ کے اورق شاید تمہیں یاد نہیں روس کا مقابلہ تم نے نہیں پاکستان نے کیا تھا،روس کے خلاف مزاحمت کی ساری طاقت اور وسائل تمہیں پاکستان سے ملے تھے،امریکہ کو شکست پاکستان نے دی تھی اور تمہیں عزت و وقار پاکستانی سہولتکاری اور مدد سے ملی تھی
آج جب تم دہلی کے فرش پر بیٹھ کر اپنے محسن پاکستان پر وار کرتے ہو
تو یہ نہ بھولو کہ احسان فراموشوں کا واحد مقام تاریخ کا کوڑے دان ہوا کرتا ہے
پاکستان وہ چراغ ہے جس نے اندھیروں میں تمہارے لیے روشنی کی
اور اگر تم نے اسی روشنی پر اپنے اندھیرے نظریات کا تھوک پھینکا
تو وہ چنگاری بن جائے گی جو تمہارے غرور کو جلا کر راکھ کر دے گی۔
یاد رکھو
پاکستان کی خاموشی کمزوری نہیں وضع داری و وقار ہے
اور جب وقار مجروح ہوتا ہے
تو یہی خاموشی طوفانِ عبرت بن کر اٹھتی ہے
ایسا طوفان جو دشمنوں کے نام تاریخ کے تختے پر لکھ دیتا ہے
مگر حرفِ عزت صرف وفاداروں کے لیے چھوڑتا ہے۔
اے افغان رہبرو!
ہوش کے ناخن لو، احسان کو یاد کرو،
ورنہ تمہارا نام بھی انہی شکست خوردہ بادشاہوں کی صف میں لکھا جائے گا
جنہوں نے اپنے محسنوں کے خلاف زبان درازی کی اور پھر خود عبرت کے افسانے بن گئے۔
تم بھتہ خور تھے،ہم نے تمہیں وقار دیا،تم راہگیر تھے،ہم نے تمہیں نظام دیا،تم اجرتی قاتل تھے،ہم نے تمہیں دائرہ انسانیت میں داخل کیا،تم فسادی گروہ تھے ہم نے تمہیں اخوت کی تسبیح میں پرویا،تم بکھرے ہوئے،اجڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے دشمن تھے ہم نے تمہیں ایک قوم بنایا،تم بے علم تھے ہم نے تمہیں تعلیم کا نور دیا،تم بے حجامتے تھے ہم نے تمہیں سنوارا،تم سود خور اور زمانے بھر کے ٹھگ تھے ہم نے تمہیں تجارت سکھائی اور منڈیوں تک رسائی دی،ہم نے داخلی اور خارجی محاذوں پر تمہیں سرخرو رکھا کہ تم ہمارے کلمہ گو بھائی ہو لیکن تم نے بدلے میں ہمیں تخریب کاری دی،شرپسندی دی،انشار دیا،منشیات دی،کلاشن کلچر دیا،بدامنی دی،لوٹ مار،قبضہ گیری اور دادا گیری دی اب یہ سب نہیں چلے گا-پاکستان مخالف افغان اگر افغانستان میں ہیں تو افغانستان کو انہیں کچلنا ہوگا ورنہ یہ کام افواجِ پاکستان کرے گی اور عوام اس عمل میں افواجِ پاکستان کے ساتھ ہوگی- ان شاءاللہ
اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے افغان ہمارے ماتھے کا جھومر اور ہندوستان کی زبان بولنے والے خوارج انسانیت کے دشمن ہیں جنہیں کچلنا،مٹانا اور نیست و نابود کرنا انسانیت کی بھلائی ہے
🇵🇰 پاکستان ہمیشہ زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں