دودھ اور بسکٹ: تعلیم کا نیا تماشا/تحریر/عابد محمود عزامتعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور عروج کی بنیاد ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یہ شعبہ کبھی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ یہاں تعلیم کو سنجیدہ بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے ہمیشہ نمائشی منصوبوں کی نذر کر دیا گیا۔ جس کی مثال پنجاب حکومت کا آٹھ اضلاع میں جاری وہ منصوبہ ہے جس پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور جس کے تحت سرکاری سکولوں کے بچوں کو دودھ اور بسکٹ فراہم کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ پچھلے سال سے جاری ہے۔ بظاہر اس اقدام کو بچوں کی صحت اور غذائیت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ تعلیم جیسے سنگین مسئلے کا حل نہیں بلکہ محض ایک دکھاوا ہے۔ اگر پنجاب کے تعلیمی ڈھانچے پر نگاہ ڈالی جائے تو صورتحال نہایت تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ صوبے میں سوا لاکھ سے زائد اساتذہ کی کمی ہے، ہزاروں سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، لاکھوں طلبہ کتابوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔ بارہ ہزار سکول پہلے ہی آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں اور مزید دس ہزار اسی فہرست میں شامل ہیں۔ ہزاروں سکول ایسے بھی ہیں جہاں کمرے ناکافی ہیں اور بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ان حقیقی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے حکومت بسکٹ اور دودھ کے منصوبے کے ذریعے کرپشن کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔
اگر حکومت واقعی تعلیمی اصلاح میں سنجیدہ اور مخلص ہوتی تو سب سے پہلے اساتذہ کی کمی پوری کرتی، سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی، طلبہ کو بروقت نصاب مہیا کرتی اور تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط کرتی، لیکن اساتذہ کو عزت دینے کے بجائے آئے روز انہیں دباؤ میں رکھنا اور دھمکیاں دینا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پالیسیوں کا مقصد تعلیم کو آگے بڑھانا نہیں، بلکہ اسے مزید کمزور کرنا ہے، تاکہ اشرافیہ کی اجارہ داری قائم رہے۔ قوم کے وسائل وزیروں اور ان کے خاندانوں کی بیرون ملک سیر و تفریح پر تو بے دریغ خرچ کیے جاتے ہیں، مگر تعلیم کے لیے ہمیشہ بجٹ کی کمی کا بہانہ تراشا جاتا ہے۔ یوں تعلیم جیسے مقدس شعبے کو بھی کرپشن اور کمیشن کی سیاست کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دودھ اور بسکٹ کا پروگرام نہ بچوں کی صحت بہتر کرے گا اور نہ ہی تعلیم پر کوئی مثبت اثر ڈالے گا۔ اصل ضرورت تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، اساتذہ کی کمی پوری کرنے، اساتذہ کو عزت دینے، نصاب کو بروقت ہر بچے تک پہنچانے اور سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔ یاد رکھیں، دودھ اور بسکٹ سے قومیں نہیں بنتیں۔ قومیں صرف اس وقت بنتی ہیں جب ان کے پاس ایک مضبوط، شفاف اور دور رس مقاصد رکھنے والا تعلیمی نظام موجود ہو۔ افسوس کہ جو کمزور سا تعلیمی ڈھانچہ ہمارے پاس موجود ہے، اشرافیہ کی حکومت اور وزراء اسے مزید تباہ کرنے میں کامیابی سے مصروف ہیں۔