0

کشمیر پاکستان اور افغانستان /تحریر/ محمد اکبر خان

کشمیر پاکستان اور افغانستان
/تحریر/ محمد اکبر خان

پاکستان کا قیام اس اصول پر مبنی تھا کہ ہندوستان کے جن علاقوں میں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ پاکستان کا حصہ ہونگے. متعدد مسلم اکثریتی علاقے جیسے فیروز پور، گورداس پور اور دیگر ریڈ کلف کی بددیانتی کے سبب ہندوستان کو دے دیے گئے اور وہاں مسلمانوں کا بدترین قتل عام ہوا. اسی طرح مسلم اکثریتی آسام کا ایک بڑا علاقہ بھی ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کا نشانہ بنا. چورانوے فیصد مسلم آبادی والے لکشا دیپ جزائر دور دراز جغرافیائی محل وقوع کے سبب ہندوستان کے قبضے میں چلے گئے. جبکہ کشمیر جونا گڑھ اور ریاست حیدرآباد پر ہندوستان نے جبری قبضہ کر لیا اول الذکر مسلم اکثریتی ریاست تھی جبکہ دیگر دو ریاستوں میں مسلم حکمران تھے اور ہندوؤں کی عددی اکثریت تھی.
اسی بنیادی اصول کے تحت پاکستان ہمیشہ کشمیر پر اپنا استحقاق پیش کرتا رہا ہے اس حساس مسئلے پر دونوں ممالک کئی جنگیں لڑ چکے ہیں معاملہ پر اقوام متحدہ کی متفقہ قراردادیں موجود ہیں مگر ان سب کے باوجود افغانستان کے وزیر خارجہ نے ہندوستان کی سرزمین پر کشمیر کے بارے میں یہ کہہ کر کہ کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے کیا لاکھوں کشمیری مسلمانوں سے غداری کی ہے.
دوسرے مسلم ممالک کی بات اور ہے مگر طالبان تو نفاذ شریعت کے علمبردار ہیں، ہر معاملے میں قرآن اور حدیث نبوی کو مقدم رکھنے کے دعوےدار ہیں امارات اسلامی افغانستان تو وہ ملک ہے جس میں ہر اہم عہدے پر ایک عالم دین ہونے کا دعویدار براجمان ہے وہ گروہ کیسے لاکھوں مسلمانوں کو کفار کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ان کی جائز جدوجہد سے لاتعلقی ظاہر کر سکتا ہے.
کیا امیر خان متقی کو قرآن کی وہ آیات یاد نہیں رہیں جن میں اہل ایمان کو لسانی علاقائی اور دیگر تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر ایک ہونے کا حکم دیا گیا ہے.کیا وہ رسول اکرم کے ان فرامین کو بھلا بیٹھے ہیں کہ جن میں اتحاد بین المسلمین کا درس دیا گیا ہے؟ کیا ان کی نظر سے آپ صلی اللہ علیہ والہ سلام کا وہ فرمان نہیں گزرا کہ جس میں امت مسلمہ کو جسد واحد قرار دیا گیا ہے جس کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے. کیا ہندوستان میں مسلمانوں کی حالتِ زار ان سے پنہاں ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ انڈیا نے لاکھوں بنگالی اور اراکانی مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟
کیا امیر خان متقی مودی حکومت کے بدنام زمانہ سی اے اے ایکٹ کی دفعات سے لاعلم ہیں کہ جس میں ہندوستان کے تمام پڑوسی ممالک بشمول افغانستان کے غیر مسلم شہریوں کو شہریت دے جاسکتی ہے مگر صدیوں سے ہندوستان میں رہنے والے اہل ایمان کو ہندوستان کی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے اگر ہندوستان کو افغانستان کے لوگوں سے اتنی ہی محبت ہے تو وہاں لے اہل ایمان بھائیوں کو ہندوستان کی شہریت سے کیوں محروم رکھا.
کیا انھیں قرآن کے برحق ہونے اور اس کی تعلیمات پر کوئی شک ہے؟ یا پھر چند ایمبولینسسز ،امدای رقومات اور سفارتی تعلقات کے جھانسے میں آکر پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کے موقف کو درست سمجھنا ضروری ہو گیا تھا.
پاکستان کے مسلمانوں کو آپ دینی بھائی سمجھیں یا نہیں مگر کیا ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بھی آپ کے دینی بھائی نہیں رہے.
کیا کسی مومن کا دل اتنا کمزور ہوسکتا ہے کہ وہ چند ایمبولینسسز ،مہمان نوازی،شاندار استقبال اور سفارتی تعلقات کے آگے اپنے بھائیوں کے غموں کو بھلا دے؟
کیا افغانستان کے علماء کاطبقہ اسرائیل اور ہندوستان کے گہرے تعلقات سے لاعلم ہے؟
کیا انھیں قطعی طور پر آگاہی نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو ہندوستان اسرائیل کی طرز پر اقلیت میں کیسے بدل رہا ہے.
افغانستان اور پاکستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں ہمارے مابین اختلافات ہوسکتے ہیں مگر کیا ان کی وجہ سے ایک اسلام دشمن ریاست کی طرف جھکنا ضروری ہے؟
پاکستان سے اختلافات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک مسلم کش ریاست کی تابعداری اور طرف داری کی جائے ان اختلافات سے بالاتر ہوکر ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنے سے آخر امیر متقی صاحب کو کس نے روکا؟ اگر وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی قانون سازی پر بات اگر نہیں کرسکتے ہیں تو اپنے نام کے ساتھ متقی لکھنا چھوڑ دینا چاہیے کیا وہ لاعلم ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان خواتین کو پردے سے جبری روک دیا گیا ہے؟ وقف بل کے نال پر ان کی جائیدادیں قرق کی جا رہی ہیں، ان کی مساجد کا انہدام ہو رہا ہے، نئی مساجد اور تبلیغ دین کی اجازت نہیں، مسلمانوں کا معاشی مقاطعہ کیا جارہا ہے مگر ایک متقی شخص کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.
منعفت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں