

عمرہ کرنے کے فضائل و برکات:
تحریرمحمد عرفان اللہ اختر
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کئی طرح کی عبادات عطا فرمائی ہیں تاکہ وہ روحانی پاکیزگی حاصل کریں، اپنے گناہوں کو مٹائیں اور اپنے رب کے قریب ہوں۔ انہی میں سے ایک عظیم عبادت عمرہ ہے جسے احادیث میں “الحج الأصغر” یعنی چھوٹا حج بھی کہا گیا ہے۔
لغت میں “عمرہ” کا مطلب ہے ’’زیارت‘‘۔
شرعی اصطلاح میں عمرہ مخصوص طریقے سے احرام باندھ کر بیت اللہ کی زیارت، طواف، سعی اور حلق یا قصر کرنے کو کہا جاتا ہے۔
اکثر علماء کے نزدیک عمرہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ہے۔ جبکہ احناف کے نزدیک عمرہ سنتِ مؤکدہ ہے اور کثرت سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
’’اللہ کے لئے حج اور عمرہ کو پورا کرو۔‘‘
(البقرۃ: 196)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ عمرہ کی عبادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت عظیم مقام رکھتی ہے اور اس کی ادائیگی ایمان والوں کے لئے باعثِ سعادت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘(بخاری: 1773، مسلم: 1349)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ عمرہ گناہوں کو مٹانے کا ایک ذریعہ ہے، خصوصاً صغیرہ گناہوں کے لیے یہ کفارہ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’حج اور عمرہ ایک کے بعد ایک کرتے رہو کیونکہ یہ دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو ایسے مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کو مٹا دیتی ہے۔‘‘
(ترمذی: 810)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ عمرہ نہ صرف روحانی بلکہ معاشی برکتوں کا بھی باعث ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’حاجی اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں، اگر وہ اللہ کو پکاریں تو وہ ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر وہ مغفرت مانگیں تو انہیں بخش دیتا ہے۔‘‘
(ابن ماجہ: 2892)
یہ عظیم فضیلت عمرہ کرنے والوں کو براہِ راست اللہ کے قرب میں لے جاتی ہے۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں انسان بہت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے، ان کا احساس بھی نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں اس کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔ تاہم، جب کوئی شخص خالص اور سچی نیت کے ساتھ عمرہ کرنے جاتا ہے، تو سفر کا ہر قدم اس کے ایمان کو مضبوط کرنا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قریب کرتا ہے ۔
حاجی کا اونٹ جب اپنا پیر اٹھاتا اور رکھتا ہے تو اللہ اس پر اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، ایک برائی مٹادیتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔ (شعب الایمان بیہقی)
عمرہ کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
جو شخص حج کے لئے نکلا پھر راستے میں مرگیاتو اسکے اعمال نامہ میں قیامت تک حج کرنے کا ثواب لکھا جاتا رہے گا، اور جو شخص عمرہ کے لئے نکلا پھر راستے میں مرگیا تو اسکے اعمال نامہ میں قیامت تک عمرہ کرنے اجر وکا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ (طبرانی،بیہقی، شعب الایمان )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا کہ رمضان کے مہینے میں عمرہ کیا کرو کیونکہ یہ میرے ساتھ حج یا عمرہ کے برابر ہے۔
ایک اور واقعہ میں ابن ماجہ کی روایت ہے کہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حج اور عمرہ کرنے والے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نمائندے ہیں۔ اگر وہ اسے پکارتے ہیں تو وہ ان کو جواب دیتا ہے اور اگر وہ اس سے معافی مانگتے ہیں تو وہ انہیں بخش دیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے مہمان تین ہیں غازی (یعنی جہاد میں لڑنے والا)، حج کرنے والا (یعنی حج کرنے والا) اور حج کرنے والا۔ معتمر (یعنی عمرہ کرنے والا)
عمرہ کے ذریعے بندہ بیت اللہ کا طواف کرتا ہے، مقامِ ابراہیم پر نماز پڑھتا ہے، صفا و مروہ کی سعی کرتا ہے، زمزم پیتا ہے، اور پھر حلق یا قصر کرتا ہے۔ یہ تمام اعمال روح کو تازگی، دل کو سکون اور ایمان کو تقویت بخشتے ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا “یا رسول اللہ! کیا عورتوں پر جہاد بھی فرض ہے؟”
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جی ہاں! عورتوں پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں، اور وہ حج اور عمرہ ہے۔‘‘(ابن ماجہ: 2901)
یعنی خواتین کے لئے حج و عمرہ جہاد کے برابر اجر کا باعث ہے۔
عمرہ کے روحانی فوائد یہ ہیں کہ ایمان میں تازگی اور اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے، دنیاوی الجھنوں سے دل کو سکون ملتا ہے، انسان عاجزی، انکساری اور قربانی کا عادی بنتا ہے اور عمرہ کرنے والا اپنی زندگی کے باقی ایام میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
عمرہ ایک عظیم عبادت ہے جو نہ صرف گناہوں کو مٹاتی ہے بلکہ فقر و محتاجی کو دور کرتی ہے، دل کو سکون اور ایمان کو تازگی بخشتی ہے، اور عمرہ کرنے والے کو براہِ راست اللہ کا مہمان بنا دیتی ہے۔ استطاعت رکھنے والے ہر مسلمان کو چاہیے کہ بار بار عمرہ کرے تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائے، عمرہ کو ہمارے گناہوں کی مغفرت، رزق کی کشادگی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔