
کتاب/علم و آگہی کا لازوال چراغ/تحریر/محمد اعظم
“کتاب وہ دریچہ ہے جو قاری کو زمان و مکان کی حدود سے نکال کر فکر و شعور کے لا متناہی افق تک لے جاتا ہے۔”
کتاب، محض کاغذ اور سیاہی کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی شعور و آگہی کا ایک ایسا روشن چراغ ہے جو تاریک ترین راہوں کو منور کرتا ہے۔ عہدِ حاضر میں جب معلومات ہماری انگلیوں کی پوروں پر سمٹ کر رہ گئی ہیں اور “عالمی گاؤں” کا تصور حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، وہاں یہ سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ کیا کتاب کی افادیت باقی رہی ہے یا یہ تیز رفتار ڈیجیٹل عہد کے شور و غوغا میں کہیں دب کر رہ گئی ہے؟ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ سوشل میڈیا، آن لائن مضامین اور مجازی دنیا کے بے شمار ذرائع نے کتب بینی کی روایت کو پیچھے دھکیل دیا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کتاب آج بھی علم کا ایسا بے زوال دروازہ ہے جو نہ صرف عقل و خرد کو جِلا بخشتا ہے بلکہ انسان کے باطن کو بھی وسعت عطا کرتا ہے۔
انسانی تہذیب کی تاریخ گواہ ہے کہ کتاب نے ہمیشہ ذہنوں کو جِلا اور معاشروں کو استحکام بخشا ہے۔ فلسفے، سائنس، تاریخ، ادب اور تصوف، کسی بھی میدان پر نظر ڈالیے، یہ کتاب ہی تھی جس نے انسانی فکر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ مطالعہ انسان کو اپنی محدودیت سے نکال کر وسعتِ نظر عطا کرتا ہے، اس کے ذہن کو سوال اٹھانے اور تعصبات سے آزاد ہو کر سوچنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ناول ہو یا فلسفیانہ متن، کسی صاحبِ فکر کی خود نوشت ہو یا کسی مورخ کی تحقیق، کتاب اپنے قاری کو محض علم ہی نہیں دیتی بلکہ اُس کے اندر ایک نئی دنیا بساتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل دور نے کتب بینی کی قدیم روایت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج انسان لمحاتی خبروں اور مختصر معلومات پر اکتفا کرتا ہے۔ لمبی تحریروں اور ضخیم کتب کو پڑھنے کا حوصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ اب بہت سے افراد کتاب کے بجائے اس کے خلاصے یا تبصرے پڑھنے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ یہ روش اگرچہ سہولت بخش معلوم ہوتی ہے لیکن اس سے علم کی گہرائی اور فہم کی پختگی متاثر ہوتی ہے۔ اصل مطالعہ وہی ہے جو قاری کو متن کی باریکیوں اور مصنف کے فکری جہان میں داخل کرے، اور یہ تجربہ محض کتاب کے مطالعے سے میسر آتا ہے۔
کتاب کی ایک اور انفرادیت اس کے مادی وجود میں پنہاں ہے۔ جب قاری ایک کتاب اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہے، اس کے اوراق پلٹتا ہے، الفاظ کو اپنی آنکھوں سے جذب کرتا ہے تو یہ ایک ایسا حسی تجربہ بنتا ہے جو ڈیجیٹل متن کبھی عطا نہیں کر سکتا۔ ورق گردانی کی خوشبو، کاغذ کا لمس اور اس سکوت میں ڈوب کر مطالعہ کرنا—یہ سب کچھ انسان کو نہ صرف یکسوئی عطا کرتا ہے بلکہ متن کے ساتھ اس کا تعلق بھی گہرا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاغذی مطالعہ انسان کے حافظے اور فہم پر زیادہ دیرپا اثرات ڈالتا ہے۔ آنکھوں کو روشنی کی کرنوں کے بجائے سیاہی کے ذرات سے واسطہ پڑتا ہے تو ذہنی تھکن کم ہوتی ہے اور توجہ زیادہ مرکوز رہتی ہے۔
اس کے برعکس ڈیجیٹل مطالعہ سہولت اور سرعت کا حامل ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ بے شمار توجہ بانٹنے والے عناصر جُڑے ہوتے ہیں۔ ایک ہی صفحے پر متن کے ساتھ درجنوں لنکس، نوٹیفکیشنز اور رنگ برنگی تصاویر قاری کو منتشر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گہرے مطالعے کی روح اکثر کھو جاتی ہے۔
کتاب کی ایک اور امتیازی شان یہ ہے کہ یہ محض پڑھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ جمع کرنے، محفوظ کرنے اور ایک ورثے کے طور پر منتقل کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔ کتب خانوں میں سجی الماریاں محض علم کے ذخیرے نہیں بلکہ انسانی تاریخ اور تہذیب کی یادگاریں ہیں۔ ایک شخص کے لیے کتاب محض مطالعے کا وسیلہ ہو سکتی ہے لیکن دوسرے کے لیے یہ زندگی بھر کی یادگار اور روحانی رفیق کا درجہ رکھتی ہے۔
یقیناً یہ بھی درست ہے کہ آن لائن ذرائع اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت کی کمی اور معلومات کی فوری ضرورت کے پیشِ نظر ڈیجیٹل متن کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ لیکن دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان ان دونوں جہانوں میں توازن قائم کرے۔ جس طرح جسمانی اور روحانی غذا ایک ساتھ ضروری ہیں، اسی طرح آن لائن مواد اور کاغذی کتب دونوں کی اپنی اپنی افادیت ہے۔ اگر قاری اپنے ذوق اور ضرورت کے مطابق ان دونوں کو بروئے کار لائے تو اس کی شخصیت ہمہ جہت اور فکر زیادہ متوازن ہوگی۔
اس تیز رفتار زندگی میں مطالعے کو ترجیح دینا نہایت ناگزیر ہے۔ کتاب وہ ذریعہ ہے جو محض معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ عقل و شعور کو سنوارتا ہے، نقادانہ سوچ کو فروغ دیتا ہے اور دوسروں کے احساسات و تجربات کو سمجھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ ناول قاری کو اجنبی تہذیبوں اور کرداروں کے قریب لے جاتا ہے، فلسفہ اُسے سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے، تاریخ ماضی کے سبق یاد دلاتی ہے اور مذہبی متون اُسے باطنی تزکیہ کی طرف مائل کرتے ہیں۔ یوں کتاب نہ صرف علم بلکہ ہمدردی، فہم، برداشت اور خود آگاہی کا ذریعہ بنتی ہے۔
بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ کتاب اپنی اصل میں ایک لازوال خزانہ ہے۔ دنیا جتنی بھی ڈیجیٹل کیوں نہ ہو جائے، کتاب اپنی معنویت کبھی کھو نہیں سکتی۔ اس کا لمس، اس کا سکون اور اس کا فکری سرمایہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ قاری اگر اس حقیقت کو سمجھ لے اور وقت نکال کر مطالعے کو اپنی زندگی کا جزو بنا لے تو نہ صرف اس کی علمی پیاس بجھے گی بلکہ اس کی شخصیت بھی نکھر کر سامنے آئے گی۔ کتاب خواہ کاغذ پر ہو یا اسکرین پر، اس کی اصل طاقت یہی ہے کہ یہ قاری کو سوچنے، بدلنے اور آگے بڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کو آج بھی اور ہمیشہ علم و دانش کا سب سے معتبر دروازہ کہا جا سکتا ہے۔