0

الزائمر کا عالمی دن / تحریر /محمد عزیر گل


الزائمر کا عالمی دن

تحریر :محمد عزیر گل

کوئی بیماری بڑی چھوٹی نہیں ہوتی ، بیماری بیماری ہوتی ہے ، کسی بھی بیماری کا شکار فرد ہی اس کی تکلیف ، اذیت اور اپنی بے بسی کو محسوس کرسکتا ہے ، لیکن کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں ، جن کے ہونے کے ساتھ انسان اپنی زندگی کو معمولات کے ساتھ جاری رکھتاہے ، وہ تمام پیچیدگیوں کے باوجود اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے ، خواہ بیماری جسم کے اندرونی حصہ میں ہو یا زخم والی ، وہ برداشت کرلیتا ہے ، لیکن دماغی بیماری ایسی ہے ، جس کی شدت کا اندازہ صرف مبتلا بہ شخص ہی لگا سکتا ہے ، انسان جب دماغی طور پر کسی مرض کا شکار ہوتا ہے تو اس سے صرف اس کی ذاتی زندگی متاثر نہیں ہوتی ، بلکہ اس کے ساتھ وہ اپنے سے منسلک تمام رشتوں ، تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے ، کیونکہ اس سے انسان بہت ساری باتوں کو بھول جاتا ہے ، لیکن اس بات کا احساس رہتا ہے کہ وہ اپنے ماضی سے لا تعلق ہو رہا ہے اور یہ احساس اس اذیت کو مذید بڑھا دیتا ہے ، اس کے روز مرہ کے معاملات میں بھی قوت فیصلہ کمزور ہو جاتا ہے ، اس کے رویہ میں بہت زیادہ تبدیلی واقع ہوتی ہے ، جو اسے اس معاشرے میں تنہا کردینے کا سبب بنتا ہے ، سب سے اہم ہمارے ہاں دماغی بیماریوں کے حوالے سے لاشعوری کا یہ عالم ہے کہ ہم اس کے علاج کو پاگل پن کا علاج قرار دے کر ، ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریزاں رہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ مرض میں اضافہ ہوتا ہے اور علاج کے محدود ذرائع بھی اس مرض کو مزید تکلیف دہ بنا دیتی ہے ۔ایسی ہی دماغی امراض میں الزائمر بھی ہے ۔
الزائمر ایک دماغی بیماری ہے ، جس سے انسان کی یاداشت ، سوچنے کی طاقت اور رویہ میں منفی تبدیلی کا سبب بنتی ہے ، یہ مرض وقت سے ساتھ بڑھتی رہتی ہے اور انسان کو روز مرہ کے کام سے بھی قاصر کر دیتی ہے ، عمومی طور پر بزرگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں ، لیکن یہ بیماری کم عمری میں بھی حملہ آور ہوجاتی ہے ، یہ دماغ کے خلیوں کو آہستہ آہستہ مارنے لگتی ہے ، جس سے دماغ سکڑنے لگتا ہے ، اس مرض کا شکار چیزیں بھولنے لگتا ہے ، ایک ہی سوال کو کئی مرتبہ دہراتا ہے ، روز مرہ کے کاموں کے بارے میں فیصلہ کی قوت ختم ہو جاتی ہے ، الفاظ کے چناو کے معاملے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ، اس کے علاج کے حوالے سے ابھی تک باقائدہ کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ، اس لیے اس بیماری کے ہو جانے کے بعد اس کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے لیے دماغی مشقیں کروائی جاتی ہیں ، غذا میں توازن پیدا کرنا ، وغیرہ اس کے علاوہ مریض کے ساتھ اچھا برتاو کرنا چاہیے ، اس کے ساتھ سخت رویہ نہیں اپنانا چاہیے ، بلکہ اس کی بیماری کی وجہ سے بار بار سوالوں کا اچھے انداز سے صحیح جواب دینا چاہیے ، اس بیماری کے شکار لوگوں کی تعداد کے حوالے سے ورلڈ ہیلٹھ آرگنائزیشن نے رپورٹ کی کہ دنیا بھر میں 55 ملین سے زائد لوگ اس کا شکار ہیں ، انہوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ 2050 تک اس بیماری کے شکار لوگوں کی تعداد تین گنا ہو جائے گی ، یہی وجہ ہے کہ 1994 میں Alzheimer’s Disease International (ADI) کی دسویں سالگرہ کا دن تھا ، یہ عالمی تنظیم دنیا بھر میں الزائمر اور دیگر دماغی بیماریوں کے حوالے سے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے کام کرتی ہے ، انہوں عالمی طور پر اس دن کو 21 ستمبر کو منانے کا فیصلہ کیا اور اس وقت سے تقریبا 100 ممالک میں اس حوالے سے تقاریب رکھی جاتی ہیں ، جس میں اس موضوع پر بڑے ڈاکٹر اپنی تجاویز اور آرا ء پیش کرتے ہیں ، لوگوں کے شعور کو اس حوالے سے بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کے لیے تقاریب کے علاوہ پمفلٹ ، کتابچہ بھی تقسیم کیے جاتے ہیں ، تاکہ عوام اس بیماری سے بچنے کی کوشش کریں اور شکار لوگوں کی مدد کرسکیں ، بعض جگہوں پر اس دن کو ستمبر کا پورا مہینہ کے طور پر مناتے ہیں ، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ شعوری پیغام پہنچ سکے ۔
پاکستان میں اس مرض کے شکار لوگوں کا اعداد و شمار معلوم نہیں ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں محتاط اندازے کے مطابق تقریبا 10 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں ، اس کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی کہ لوگوں کو اس بارے شعور نہیں ہے ، وہ اسے بیماری نہیں سمجھتے ، بلکہ اس عمر کے تقاضوں میں سے شمار کرتے ہیں ، کہ اس عمر میں انسان چیزوں کو بھولنے لگتا ہے ، حالانکہ یہ ایک بیماری ہوتی ہے جو ان کی یاداشت کو متاثر کررہی ہوتی ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ ہمیں اس بیماری کے حوالے شعوری سیمنارز کا انعقاد کیا جانا چاہیے ، عوامی شعور کے لیے سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوششیں کرنی چاہیے ، تاکہ اس مہلک مرض کا خاتمہ کیا جاسکے ، اس مرض کا تکلیف دہ امر یہ ہے کہ انسان اپنے شخصی وجود ہونے کے باوجود اس معاشرے کا حصہ نہیں ہوتا ۔اس لیے ہمیں اپنے تائیں اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں