0

عنوان : بکھری لاشیں /افسانہ نگار/ نقرالدین کاکڑ

عنوان : بکھری لاشیں
افسانہ نگار: نقرالدین کاکڑ
جب رات پر چھائے ہوئے اندھیرے دامن سمیٹ کے عرش کی جانب پروان کرنے لگے۔ وحشت بھی دم دبا کر کونوں میں چھپ گئی۔ افق کے اطراف و اکناف میں مدھم سی شفق نے سر اٹھایا، اور چند ہی ساعت میں دھیرے دھیرے ہلکی سرخیاں فضا میں پھیلنے لگیں۔ پھیلتے پھیلتے سرِ زمین کو بصد احترام و تعظیم چھو لیا۔ گویا خدائے ذوالجلال کے سامنے سر بسجود ہو گئی ہو۔ اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوا۔ مساجد میں صفیں درست ہو گئیں۔ دیر میں بھی پنڈت نے گھنٹے بجائے۔ آس پڑوس میں کچھ دیر تک آوازیں گونجتی رہیں۔ آفتاب زرد چہرہ لیے پہاڑوں کی چوٹیوں سے نمودار ہوا۔ بازار زیست میں جان پیدا ہو گئی۔ جاندار رینگنے لگے، پرندے اڑنے لگے، کسان کدال کاندھے پہ لاد کے کھیتوں کی طرف ہو لیے۔ بچے برہنہ پیر گلی کوچوں میں ٹوٹے پھوٹے کھیلونے ہاتھ میں لیے باہر نکلے۔ خرید و فروخت کا بازار گرم ہوا۔ مسافر رخت سفر باندھ کر گھروں سے دور چلے گئے۔ دفاتر کی گھومتی ہوئی نیم دراز کرسیاں ہلنے لگیں۔ میزوں پر کاغذات کے ڈھیر لگ گئے۔ کچھ کاغذات زندگی اور موت کا فیصلہ کرتے اور کچھ ترقی و جمود کا۔۔۔۔ بھاری بندوق کندھے سے لٹکائے چھریرا جسم، پھٹے جوتے اور پرانی وردی میں ملبوس نوکر نے تیزی سے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔ گاڑی سے دیوہیکل اور ضخیم قد و قامت والا آدمی باہر نکلا۔ دفتر کے اندر آ کر بڑی سی کرسی پر براجمان ہوا۔ اور میز پر پڑے ہوئے کاغذات کی تقدیر کا فیصلہ کرنے لگا۔ خدا کا نائب خدا بنا۔ عرش برہنہ آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ پھر بھی خاموش ہے۔ عرش بھی میری طرح محو حیرت ہے۔ میں خدا کے نائب کی اتراہٹ پر حیران ہوں، اور عرش اس کی پستی اور ذلت پر۔۔۔۔ رات کب کی گزر چکی۔ مگر ظلمت کے پرچھائیاں گہری چھاپ لے کے اب تک چھائی ہوئی ہیں۔
دھیرے دھیرے آفتاب کی تپش تیز ہونے لگی۔ جسم کو جھلسا دینے والی تھی۔ موٹے اور بڑے مکان میں رہنے والے بچ گئے، باقی جل گئے۔ آسمان وحشی بنا، اور بے گھروں پر گر رہا تھا۔ دھرتی ماں کی ممتا سرد پڑ گئی۔ اپنے ہی بے سہارے بچوں کو نگلنے لگی۔ اطراف سے پہاڑ ٹوٹنے لگے۔ چند لوگوں کا جتھا ایک میدان میں اکھٹا ہو گیا۔ انھوں نے یہ عہد کیا، کہ خدا سے معافی طلب کریں گے۔ وہ یہ کہتے تھے، کہ ہمیں گناہوں کی معافی مل سکتی ہے۔ ہم نے عرش والے سے تو دشمنی نہیں کی، بلکہ ہمارے عدو تو اہل سکان ہیں۔ ہمیں معافی آسانی سے مل سکتی ہے۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا، کہ ذکر و اذکار سے اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ ان کے نزدیک اہل سکان نہایت رذیل اور بد بخت تھے، اور معبود کی عبادت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔
اس جھتے نے جب نیک ہونے کا دعوی کیا۔ ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔ خدا کے سامنے گڑگڑاتے رہے اور زار و قطار رو رہے تھے۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت زندگی ایک دم جھونک اٹھی۔ اس کی نیم مرجھائے ہوئے جسم میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔ جب دیکھا کہ لوگ جمع ہیں۔ اور خدا کے حضور میں گڑگڑا رہے ہیں۔ دوسری طرف دیکھا، کٹی ہوئی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ انسانی اعضا خون میں لت پت تھے۔ لوگ بے دردی سے انسانی کوپڑیوں کے اوپر چل کر بیچ میں آرہے تھے، اور جھتے میں شامل ہو رہے تھے۔ کیوں کہ انھوں نے سنا تھا، کہ جتھے میں شامل ہونا، اور عین مرکز تک پہنچنا دعا کی قبولیت کی بہترین ضمانت ہے۔ زندگی کی نظر ایک گوشے میں کھڑے جوان سال لڑکا اور بزرگ آدمی پر پڑی، جو یہ سب کچھ نہایت غور و فکر سے دیکھ رہے تھے۔ اور مکالمہ کر رہے تھے۔
نوجوان نے حیرت سے سوال پوچھا۔
“یہ اطراف میں کن کی لاشیں پڑی ہیں؟”
بزرگ نے جواباً کہا؛
یہ انسانیت کی لاشیں ہیں۔ انسان نے خود کی گردنیں کاٹیں ہیں۔ اپنے جسموں کو خود نوچا ہے۔
نوجوان نے بزرگ کی طرف تعجت سے دیکھا ” آخر کیوں؟” بھلا انسان نے ایسا کیوں کیا؟
بزرگ نے تحمل سے جواب دیا۔۔
بھوک لگی تھی اسے۔
کیسی بھوک؟ نوجوان نے عجلت سے پوچھا۔
حرص اور طاقت کی۔ بزرگ سے دھبی ہوئی آواز میں جواب دیا۔
نوجوان: حرص کیا ہوتی ہے بابا؟
بزرگ: ( اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے) پیٹ کا سیر نہ ہونا,, اور مخلوق سے طمع رکھنا۔۔
نوجوان : بابا! ان کا طاقت سے کیا مراد ہے ؟
بزرگ : (لاٹھی زمین پر مارتے ہوئے) ” مال۔۔۔۔۔۔۔ ملکیت۔۔ اور۔۔۔۔ ملک۔۔۔۔””۔۔ (کچھ دیر تک دونوں خاموش کھڑے رہتے ہیں۔)
نوجوان نے لوگوں کو اس جھتے کی طرف بھاگتے ہوئے پھر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔
بابا! یہ لوگ کہاں بھاگ رہے ہیں بابا؟
بزرگ کہنے لگا ” بیٹا یہ خدا سے معافی کے طلب میں بھاگ رہے ہیں۔
نوجوان نے نادانی سے پوچھا : اچھا؛ کیا یہ خدا کے دشمن ہیں؟
“بزرگ نے لرزاتی ہوئی آواز میں کہا : نہیں بیٹا۔ یہ انسانیت کے قاتل ہیں۔۔۔۔۔ قاتل ہیں ۔۔۔ قاتل۔۔۔ انسانیت کی گردنیں اِنھوں نے کاٹی ہیں۔ یہ لاشیں بھی اِنھوں نے گرائی ہیں۔
نوجوان تڑپ اٹھا ” آہ ۔۔۔ پھر یہ کیا قیاس کر رہے ہیں؟
بزرگ نے دانائی سے جواب دیا ” بس صرف قیاس ہی ہے۔ جس طرح انھوں نے انسانیت کو دھوکا دیا، اب خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔
نوجوان نے معصومانہ انداز سے پوچھا ” خدا کو علم نہیں ہے کیا؟
بزرگ کی آواز بھر آئی، اور ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہنے لگا؛ “ہے نا بیٹا۔۔ خدا کو خوب علم ہے۔ مگر ان کو علم نہیں۔ ان کے دل سخت ہو چکے ہیں۔ اذہان جامد ہو گئے ہیں۔ رنگ سیاہ اور آنکھیں زرد ہو گئی ہیں۔ یہ اپنے گریبانوں کو نوچتے ہیں۔ اپنے جسموں کو کاٹتے ہیں۔ اپنی عورتوں کو بیجتے ہیں۔ یہ اس عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہ کہہ کر بزرگ وہاں سے ایک دم غائب ہو جاتا ہے۔ نوجوان لاشوں کی حرمت کا خیال کرتے ہوئے آگے چل پڑتا ہے اور کہیں دور نکل جاتا ہے۔ زندگی نے ان کا سارا مکالمہ سنا اور تڑپ اٹھی۔ بکھری ہوئی لاشوں کو دیکھ رہی ہیں اور جھتے کی بلند آوازیں آ رہی ہیں۔ اسی شور و غل میں خاموشی کی چادر اوڑھ کر سنسان شہر میں گہری نیند سو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں